ColumnQadir Khan

غزہ کی راکھ، ٹرمپ کا امن بورڈ اور ضمیر کی عدالت

غزہ کی راکھ، ٹرمپ کا امن بورڈ اور ضمیر کی عدالت
قادر خان یوسف زئی
تاریخ کے جھروکوں سے جب بھی انسانیت کے قتلِ عام کی داستانیں رقم کی جائیں گی، غزہ کا نام ایک ایسی سسکتی حقیقت کے طور پر ابھرے گا جہاں جدید تہذیب کے تمام دعوے ملبے کے ڈھیر میں دفن ہو گئے۔ عالمی سیاست کے افق پر ایک نیا منظرنامہ ابھر رہا ہے جس نے ان تمام لوگوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے جو انصاف اور انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کی سیاست ہمیشہ سے غیر روایتی اور ”ڈیل” کے گرد گھومتی رہی ہے، ایک بار پھر دنیا کو ایک ایسے ”بورڈ آف پیس” یا امن کونسل کی میز پر بٹھانے جا رہے ہیں جس کی صدارت اور رکنیت پر سوالات کی بوچھاڑ ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس کونسل میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے، اور یہ وہی نیتن یاہو ہیں جن کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)کے وارنٹس کی بازگشت آج بھی عالمی ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے۔ کیا انصاف کی ترازو اب واشنگٹن کے سیاسی مفادات کے پلڑے میں تولی جائے گی؟ کیا وہ ہاتھ جنہوں نے غزہ کے بچوں کو بھوک اور پیاس سے تڑپایا، اب امن کی دستاویزات پر دستخط کرنے کے اہل قرار پائیں گے؟ تو یہ محض ایک امن کونسل نہیں بلکہ ایک نئی جیو پولیٹیکل صف بندی ہے جس کا مقصد اسرائیل کو سفارتی تنہائی سے نکال کر ایک ایسی میز پر بٹھانا ہے جہاں وہ ”امن کے شراکت دار” کے طور پر نظر آئے۔
نیتن یاہو کی اس کونسل میں شمولیت کسی معجزے سے کم نہیں، کیونکہ ابھی چند ماہ پہلے تک وہ اور ان کی کابینہ اس منصوبے کی ساخت پر شدید معترض تھے۔ اسرائیل کو اعتراض تھا کہ اس کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی میں ان کے علاقائی حریفوں، خاص طور پر ترکیہ، کو کیوں جگہ دی جا رہی ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارت کاری، جو سراسر کاروباری منطق پر مبنی ہے، نے نیتن یاہو کو قائل کر لیا کہ اس بورڈ کا حصہ بننا ان کے سیاسی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ ٹرمپ کا یہ ”بورڈ آف پیس” ایک عجیب و غریب معاشی اور سیاسی مرکب ہے؛ جہاں ایک ارب ڈالر کی ”ممبرشپ فیس” دے کر آپ مستقل رکن بن سکتے ہیں اور غزہ کی تعمیرِ نو کے نام پر اپنی ساکھ دھو سکتے ہیں۔ کیا یہ امن کی تلاش ہے یا جنگی جرائم کی پردہ پوشی کا ایک مہنگا راستہ؟ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر 2024ء میں نیتن یاہو اور ان کے اس وقت کے وزیر دفاع کے خلاف جو وارنٹس جاری کیے تھے، ان میں بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے اور دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے سنگین الزامات شامل تھے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جو نیتن یاہو کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ٹھہرانے کے لیے کافی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ایک شخص عالمی قانون کی نظر میں مطلوب ہو، تو کیا وہ کسی بین الاقوامی امن کونسل کا حصہ بن کر اخلاقی برتری حاصل کر سکتا ہے؟ یا پھر یہ عالمی نظام کی وہ بے حسی ہے جہاں طاقتور کے لیے قانون کے معنی بدل جاتے ہیں؟
اس کونسل کی حساسیت صرف نیتن یاہو تک محدود نہیں، بلکہ ان ممالک کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے جنہیں اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اردن، پاکستان، ترکی، مصر، اور قبرص جیسے ممالک کا ایک ہی میز پر نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھنا ایک ایسا سیاسی دھماکہ ہے جس کے اثرات ان ممالک کی اندرونی سیاست پر بھی پڑیں گے۔ ٹرمپ دراصل مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا بلاک بنانا چاہتے ہیں جو ایران کی اثر و رسوخ کو روک سکے اور اسرائیل کو عرب و مسلم دنیا میں قبولیت دلا سکے۔ یہ ’’ ابراہم معاہدات‘‘ (Abraham Accords)کا دوسرا اور زیادہ جارحانہ ورژن ہے، جس میں اب غزہ کی راکھ کو بنیاد بنا کر نئی عمارت کھڑی کی جا رہی ہے۔
نیتن یاہو کے لیے یہ کونسل ایک ”لائف لائن” ثابت ہو سکتی ہے۔ آئی سی سی کے وارنٹس کے بعد ان کا عالمی سطح پر سفر کرنا اور بڑے فورمز پر شرکت کرنا مشکل ہو چکا تھا، لیکن واشنگٹن کی چھتری تلے اس کونسل کا حصہ بن کر وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی عالمی نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔ نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ وہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے ٹرمپ کے ساتھ ہیں، ان لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے ساتھ ایک مذاق محسوس ہوتا ہے جو آج بھی خیموں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیا یہ کونسل واقعی غزہ کی تعمیرِ نو کرے گی یا یہ صرف اسرائیل کے سکیورٹی مفادات کے تحفظ کا ایک نیا نام ہے؟ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کونسل غزہ کے ”اگلے مراحل” کا تعین کرے گی، لیکن ان مراحل میں فلسطینیوں کی اپنی رائے کہاں ہے؟ کیا ان کا مستقبل اب واشنگٹن کے کسی بورڈ روم میں طے ہوگا جہاں نیتن یاہو بطور رکن فیصلہ سازی کریں گے؟
عالمی سیاست اب اصولوں سے نہیں بلکہ ”ڈیلز” سے چلتی ہے۔ نیتن یاہو پر لگنے والے الزامات، بھوک کو ہتھیار بنانا، ہسپتالوں پر حملے، اور نسل کشی کی کوشش ایسے داغ ہیں جو کسی بھی امن کونسل کی رکنیت سے نہیں دھل سکتے۔ لیکن ٹرمپ کا اندازِ سیاست یہ ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، حتیٰ کہ انصاف کی بھی۔ اگر ایک ارب ڈالر دے کر کوئی ملک اس بورڈ کا حصہ بن سکتا ہے، تو پھر انصاف کی عالمی عدالتوں کی وقعت کیا رہ جاتی ہے؟ یہ عالمی اداروں (UN، ICC) کی افادیت کو ختم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے تاکہ دنیا کا نظم و ضبط صرف چند طاقتور ممالک کے ہاتھ میں رہے۔ کہیں تو یہ ”خاموشی کا وہ شور ہے” جو بتاتا ہے کہ انسانیت ہار رہی ہے اور مفادات جیت رہے ہیں۔
یہ سوال ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں رہے گا کہ کیا وہ ممالک جو نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دے چکے ہیں، ٹرمپ کی اس دعوت کو ٹھکرا پائیں گے؟ یا پھر تاریخ ایک بار پھر یہ لکھے گی کہ جب غزہ جل رہا تھا، تو دنیا کے بڑے لیڈر ایک میز پر بیٹھ کر اس کی تعمیرِ نو کا سودا کر رہے تھے اور اس سودے میں سب سے بڑی بولی لگانے والا وہی تھا جس نے اس تباہی کی بنیاد رکھی تھی۔ نیتن یاہو کی شمولیت اس کونسل کو ”امن کونسل” کے بجائے ”مفادات کی منڈی” بنا دے گی، جہاں انصاف کی چیخیں شاید ہی کسی کو سنائی دیں۔ امن کا راگ الاپ رہا ہے، جبکہ ان کے ہاتھ اب بھی لہو سے رنگے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button