Column

عفو و عدل کا عمرانی و اخلاقی مطالعہ

عفو و عدل کا عمرانی و اخلاقی مطالعہ
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
تاریخِ انسانی کے اوراق ہوں یا انسانی ضمیر کی عدالت، یہ سوال ہمیشہ سے درپیش رہا ہے کہ معاشرے کی بقا طاقت کے بے لگام اظہار میں ہے یا جذبات کی تہذیب و تربیت میں؟ انسان فطرتاً جبلت اور عقل کے مابین ایک مسلسل کشمکش کا شکار رہتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ انسان اپنی انا کی عارضی تسکین کے لیے انتقام کی آگ کو ہوا دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی معراج ان دو کناروں پر آباد ہے جنہیں ‘عفو’ ( معاف کرنا) اور ‘عدل’ ( انصاف کرنا) کہا جاتا ہے۔
ایک طرف معافی کا وہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے جو دلوں کی غلاظت اور کدورتوں کو دھو ڈالتا ہے، اور دوسری طرف انصاف کا وہ اٹل ترازو ہے جو معاشرتی ڈھانچے کو بکھرنے اور لاقانونیت کی نذر ہونے سے بچاتا ہے۔ یہ دو بظاہر متضاد محسوس ہونے والے رویے ہی دراصل وہ عناصر ہیں جو انسانی زندگی کو ‘شہرِ خواب’ جیسی پر امن صورت عطا کرتے ہیں۔ وقت کے بے رحم سمندر میں ڈوبتے ہوئے معاشروں کو اگر کوئی چیز سہارا دے سکتی ہے، تو وہ مادی ترقی کے بلند و بالا مینار نہیں بلکہ انسانی اخلاق کے وہ درخشندہ ستارے ہیں جنہیں ہم ‘عفو و عدل’ کے نام سے جانتے ہیں۔زندگی صرف سانس لینے اور رزق بٹورنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فن ہے جس میں رنگ بھرنے کے لیے کبھی معافی کی نرمی درکار ہوتی ہے تو کبھی انصاف کی کاٹ دار لکیر۔ جب معاشرے کے سینے سے درگزر کا سوز ختم ہو جائے اور عدالتوں کی دہلیز سے انصاف کا نور رخصت ہونے لگے، تو انسانیت دم توڑنے لگتی ہے۔ انسانی زندگی کا بنیادی مقصد محض مادی آسائشوں کا حصول نہیں، بلکہ روح کی وہ بالیدگی ہے جو اسے اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز کرتی ہے۔ انسانی شخصیت کا اصل جوہر اس وقت کھلتا ہے جب وہ اپنے تند و تیز جذبات پر قابو پا کر دائمی اخلاقی اقدار کو عارضی مفادات پر ترجیح دیتا ہے۔
معافی: نفس پر فتح اور ظرف کی بلندی
معاف کرنا درحقیقت اپنے نفس پر فتح پانے کا نام ہے۔ جب کوئی آپ کو دکھ پہنچائے، آپ کی عزتِ نفس کو مجروح کرے یا آپ کا حق چھینے، اور آپ بدلہ لینے کی کامل قدرت رکھنے کے باوجود محض رضائے الٰہی اور انسانی ہمدردی کے تحت اسے چھوڑ دیں، تو یہ عمل آپ کے ظرف کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔ نفسیاتی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو معاف نہ کرنے والا شخص ماضی کی تلخیوں کا قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔ انتقام کی خواہش ایک ایسی دیمک ہے جو انسان کو اندر سے چاٹ جاتی ہے۔ اس کے برعکس، معاف کر دینے والا شخص خود کو انتقام کی آگ سے آزاد کر کے وہ سکونِ قلب پاتا ہے جو کسی مادی شے سے ممکن نہیں۔ معافی دراصل دوسرے پر احسان سے زیادہ خود اپنی ذات پر احسان ہے، کیونکہ یہ ذہنی دبائو اور قلبی بوجھ سے نجات کا ذریعہ ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نی معافی کو اپنی خاص صفت کے طور پر بیان کیا اور بندوں کو بھی بار بار اسی کی ترغیب دی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کرو اور بخش دو، تو یقیناً اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے‘‘۔
یہاں "درگزر” کا لفظ نہایت گہرا ہے، جس کا مطلب صرف معاف کرنا نہیں بلکہ برائی کو اس طرح مٹا دینا ہے کہ اس کا نقش بھی باقی نہ رہے۔ آج کے معاشرے میں جہاں معمولی باتوں اور معمولی رنجشوں پر دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں، وہاں عفو و درگزر کی یہ تعلیمات ہی امن کا گہوارہ بن سکتی ہیں۔ حدیثِ نبویؐ کے مطابق، معاف کر دینے سے اللہ بندے کی عزت میں کمی نہیں بلکہ اضافہ فرماتا ہے۔ یہ وہ آفاقی سچائی ہے جسے مادی عقل سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔اگر معافی دلوں کو جوڑتی ہے تو انصاف معاشرے کی دیواروں کو سیدھا رکھتا ہے۔ انصاف کا مفہوم یہ ہے کہ ہر حق دار کو اس کا حق دیا جائے اور ہر ظالم کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں طاقت ور کے لیے الگ قانون ہو اور کمزور کے لیے الگ، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا بلکہ وہ زوال کی اس کھائی میں جا گرتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
قرآن مجید میں عدل کو تقویٰ کے قریب ترین ( اقرب) قرار دیا گیا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے: ’’ اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے والے بنو، اگرچہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور رشتہ داروں کے‘‘۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انصاف جذبات، تعلقات، برادری اور مصلحتوں سے بالاتر ہونا چاہیے۔ یہ وہ سنگِ میل ہے جس پر ایک صالح معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ رسول اکرم ؐ نے اس پر عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے واضح فرمایا تھا کہ اگر انصاف کے معاملے میں ان کی اپنی صاحب زادی فاطمہؓ بھی ہوتیں ( بفرضِ محال)، تو وہ قانون کی بالادستی کو مقدم رکھتے۔ یہ وہ بلند ترین معیارِ عدل ہے جو کسی قوم کو پستی سے نکال کر عروج کی طرف لے جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہیں جنہوں نے عدل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔
بابِ مدین العلم، مولا علیؓ کی زندگی ان دونوں صفات کا کامل سنگم اور بہترین عملی تفسیر ہے۔ آپؓ کی زندگی کے ہر ورق سے عفو و عدل کی خوشبو آتی ہے۔ آپؓ نے جہاں میدانِ کار زار میں بڑے بڑے نامور دشمنوں کو زیر کیا، وہاں فاتح ہونے کے بعد انہیں معاف کرنے میں بھی ہمیشہ پہل کی۔ آپؓ کا مشہور فرمان ہے: ’’ جب تم اپنے دشمن پر قابو پا لو، تو اس قدرت کے شکرانے میں اسے معاف کر دو‘‘۔
لیکن یہاں ایک باریک نکتہ ہے جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ آپؓ کی زندگی سکھاتی ہے کہ معافی وہاں ہے جہاں معاملہ ذاتی ہو، جہاں اپنی انا کی بات ہو۔ لیکن جہاں معاملہ معاشرتی حقوق، عوامی مفاد اور الٰہی حدود کا ہو، وہاں علیؓ نے کبھی انصاف پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ آپؓ کے نزدیک عدل یہ ہے کہ ’’ ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھا جائے‘‘۔
اگر ظالم کو معاف کر دینے سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو، کمزور عدم تحفظ کا شکار ہو یا نظامِ عدل مفلوج ہو، تو وہاں انصاف کی تلوار کا حرکت میں آنا ہی عینِ عبادت ہے۔ آپؓ کا دورِ خلافت عدلِ اجتماعی کی وہ مثال ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
عمرانی توازن اور عصرِ حاضر
عمرانی نکتہ نظر سے عفو اور عدل ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ معافی معاشرے میں نرمی (Softness)پیدا کرتی ہے جبکہ عدل نظم و ضبط (Discipline)قائم کرتا ہے۔ اگر معاشرے میں صرف عدل ہو اور عفو نہ ہو، تو وہ معاشرہ میکانکی (Mechanical)اور خشک ہو جائے گا۔ لوگ ایک دوسرے کی غلطیوں کی تاک میں رہیں گے اور انسانی ہمدردی کا عنصر ختم ہو جائے گا۔ دوسری طرف، اگر معاشرے میں صرف معافی ہو اور عدل نہ ہو، تو ظالم بے لگام ہو جائے گا اور مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ یہ صورتحال جنگل کے قانون کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے ایک مثالی "شہرِ خواب” کی تشکیل کے لیے ان دونوں کا توازن ناگزیر ہے۔ عدل معاشرے کا ڈھانچہ ہے اور عفو اس کی روح۔
آج ہمارا معاشرہ شدید فکری اور اخلاقی انتہا پسندی کا شکار ہے۔ ہم یا تو اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ ذرا سی بات پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں، انتقام کی آگ میں گھروں کے گھر جلا دیتے ہیں، یا پھر مصلحتوں، خوف اور کرپشن کے نام پر بدترین ناانصافی کو خاموشی سے قبول کر لیتے ہیں۔ ہمارے نظامِ عدل میں تاخیر اور سفارش کا کلچر انصاف کے نور کو دھندلا رہا ہے۔ دوسری طرف، عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ شاہراہوں سے لے کر ایوانوں تک، ہر جگہ تلخی نمایاں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معافی بزدلی نہیں بلکہ حوصلہ ہے، اور انصاف دشمنی نہیں بلکہ سماجی اصلاح ہے۔ معافی طاقتور کا شیوہ ہے اور انصاف حاکم کی اولین ذمہ داری۔
حاصلِ کلام: منزل کی سمت
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ حقیقت میں ایک مثالی بستی بن جائے، تو ہمیں اپنے گھروں، دفتروں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں ان دو اصولوں کو ازسرِ نو رائج کرنا ہوگا۔ انفرادی سطح پر ہمیں اپنے دلوں کو وسعت دینی ہوگی اور دوسروں کی خطائوں کو درگزر کرنا سیکھنا ہوگا تاکہ ہم خود بھی سکون پائیں اور معاشرے میں بھی محبت پھیلے۔ اجتماعی سطح پر ہمیں ایک ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں کسی غریب کی داد رسی کے لیے اسے کسی بااثر شخصیت کے سہارے کی ضرورت نہ پڑے۔
قصہِ حیات کا نچوڑ یہی ہے کہ معاف کر دینے سے انسان کا اپنا بوجھ ہلکا ہوتا ہے اور انصاف قائم کرنے سے پوری انسانیت کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے۔ معافی وہ خوشبو ہے جو مسئلے جانے کے بعد بھی پھول کے دامن سے نہیں جاتی، اور انصاف وہ ترازو ہے جس پر کائنات کا پورا توازن قائم ہے۔ تاریخ صرف ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں عدل کی شمع روشن رکھی اور انتقام کی آگ کو معافی کے ٹھنڈے پانی سے بجھایا۔ منزلِ مقصود صرف وہی ہے جہاں دل بغض و عناد سے پاک ہو اور ہاتھ ناانصافی کے داغ سے۔ ‘شہرِ خواب’ کی تعمیر خوابوں سے نہیں، بلکہ عفو و عدل کے ان ٹھوس ستونوں سے ممکن ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کی بقا کی ضمانت ہیں۔

جواب دیں

Back to top button