پاکستانی معیشت: استحکام سے اڑان

پاکستانی معیشت: استحکام سے اڑان
وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس میں خطاب پاکستان کی حالیہ معاشی سمت، اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کے عزائم کی ایک جامع عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو گزشتہ برسوں میں شدید معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا رہا، وزیراعظم کا یہ خطاب نہ صرف اعتماد کا مظہر ہے بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ پاکستان اب بحران سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے برآمدات پر مبنی معاشی ماڈل اپنانا ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ قرضوں پر انحصار اور درآمدات پر مبنی معیشت نے ماضی میں ملک کو بارہا مشکلات سے دوچار کیا۔ ایسے میں زرعی، صنعتی، کان کنی، آئی ٹی اور اے آئی جیسے شعبوں کو ترقی کے انجن کے طور پر استعمال کرنا ایک حقیقت پسندانہ اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، خاص طور پر شمالی علاقہ جات، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں موجود معدنی ذخائر طویل عرصے سے توجہ کے منتظر تھے۔ اب امریکی اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے اس جانب عملی پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے معاشی اشاریوں میں بہتری ایک حوصلہ افزا امر ہے۔ مہنگائی کی شرح کا 30فیصد سے کم ہو کر 5.5فیصد تک آ جانا اور پالیسی ریٹ کا 22.5فیصد سے کم ہو کر 10.5فیصد پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سخت مگر ضروری فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اسی طرح ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافہ اور ریونیو نظام کی ڈیجیٹائزیشن نہ صرف شفافیت کو فروغ دے گی بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے جن بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا ذکر کیا، ان میں غیر موثر اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی بندش یا نجکاری ایک بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز، پاسکو اور پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ جیسے ادارے طویل عرصے سے قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے تھے۔ اگرچہ ان فیصلوں پر مزاحمت اور دبائو کا سامنا کرنا پڑا، تاہم قومی مفاد میں کیے گئے یہ اقدامات مستقبل میں معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔ پی آئی اے کی شفاف نجکاری ایک ایسی مثال ہے جسے نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ آئی ٹی اور اے آئی کے شعبے میں پیش رفت پاکستان کے نوجوانوں کے لیے نئی امید کی کرن ہے۔ آئی ٹی برآمدات کا سالانہ تین ارب ڈالر تک پہنچ جانا اس بات کی علامت ہے کہ درست پالیسیوں اور سہولتوں کی فراہمی سے پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ نیوٹیک جیسے اداروں کے ذریعے فنی و پیشہ ورانہ تربیت نوجوانوں کو نہ صرف بااختیار بنا رہی ہے بلکہ انہیں عالمی منڈی میں قابلِ مسابقت بھی بنا رہی ہے۔ یہی نوجوان آبادی پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج بھی ہے اور سب سے بڑا موقع بھی۔ وزیراعظم کے خطاب کا ایک اہم پہلو سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی پر زور ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں داخلی و خارجی چیلنجز ایک دوسرے سے جڑے ہوں، قومی اتفاقِ رائے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، معاشی استحکام اور خارجہ پالیسی میں توازن اسی ہم آہنگی کے مرہونِ منت ہیں۔ چین کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات اور امریکا کے ساتھ نئے روابط اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان اب خارجہ محاذ پر توازن اور معاشی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے حالات میں متوازن خارجہ پالیسی ہی قومی مفاد کا تحفظ کر سکتی ہے اور وزیراعظم کا بیان اسی سمت کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محض بیانات اور اعداد و شمار کافی نہیں۔ عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری، روزگار کے مواقع، غربت میں کمی اور سماجی اشاریوں میں عملی تبدیلی ہی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوگی۔ اصلاحات کا تسلسل، شفافیت پر سمجھوتہ نہ کرنا اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا وہ عوامل ہیں جو اس سفر کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ آخر میں وزیراعظم کا یہ پیغام کہ بے لوث قربانی، انتھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ منزل قریب آ سکتی ہے، ایک مثبت اور حوصلہ افزا سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اس وقت واقعی ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں درست فیصلے اسے ترقی کی شاہراہ پر لے جا سکتے ہیں جبکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی اسے دوبارہ پیچھے دھکیل سکتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت اپنے دعوئوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عوام کے اعتماد کو مضبوط کرے گی اور پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں کامیاب ہوگی۔
سانحہ گل پلازہ: جاں بحق
افراد کی تعداد 80ہوگئی
کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد سامنے آنے والی ہولناک تفصیلات نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ جاری سرچ آپریشن کے دوران مزید 49لاشوں کی برآمدگی کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 80تک پہنچ جانا اس سانحے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے شہری نظام، حفاظتی اقدامات اور انتظامی نااہلی پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے کے نیچے مزید لاشوں کی موجودگی کا خدشہ ہے، جس کے باعث سرچ آپریشن جاری ہے۔ دکان داروں کی جانب سے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی اور ایک ہی کراکری شاپ سے درجنوں لاشوں کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ آگ سے بچنے کے لیے دکانوں میں محصور ہو گئے تھے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی مقام کی نشاندہی کرتی تھی، مگر بروقت رسائی ممکن نہ ہو سکی۔ یہ سانحہ ایک بار پھر کراچی کی کمرشل عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کی قلعی کھول دیتا ہے۔ فائر سیفٹی نظام، ہنگامی اخراج کے راستے، غیر قانونی تعمیرات اور اوور لوڈنگ جیسے مسائل برسوں سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا گل پلازہ میں فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ موجود تھا؟ اگر تھا تو وہ موثر کیوں ثابت نہ ہو سکا اور اگر نہیں تھا تو متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ ملبہ ہٹانے کا کام روک کر لاشیں نکالنے کا فیصلہ ایک درست قدم ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر گزرتا دن لواحقین کے زخموں کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے افسوس کا اظہار اور لاشوں کی فوری منتقلی، شناخت اور لواحقین کو سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایات قابلِ ستائش ہیں، مگر عوام اب محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ذمے داروں کے خلاف واضح کارروائی چاہتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت سندھ اور متعلقہ ادارے محض وقتی ردعمل کے بجائے مستقل اصلاحات کریں۔ فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، کمرشل عمارتوں کا جامع آڈٹ اور غفلت برتنے والوں کے خلاف مثال قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں اور اگر ایسے سانحات کے بعد بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو یہ المیہ بار بار ہمارے دروازے پر دستک دیتا رہے گا۔ گل پلازہ کے متاثرہ خاندان صرف ہمدردی نہیں، انصاف کے منتظر ہیں۔





