قطبِ شمالی میں طاقت کا نیا کھیل

قطبِ شمالی میں طاقت کا نیا کھیل
تحریر: محمد محسن اقبال
گرین لینڈ، جسے صدیوں تک معلوم دنیا کے کنارے پر برف کی خاموش وسعت سمجھا جاتا رہا، آج عصری عالمی سیاست کی بساط پر ایک نہایت اہم مہرے کے طور پر ابھر آیا ہے۔ جو خطہ کبھی ناقابلِ رہائش اور حاشیے پر سمجھا جاتا تھا، وہ اب مستقبل کے طاقت کے توازن کو تشکیل دینے میں کلیدی بلکہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے تناظر میں امریکہ کی گرین لینڈ پر نئی توجہ کسی اچانک جذبے کا نتیجہ نہیں بلکہ جغرافیے، وسائل اور قطبی خطے میں رونما ہونے والی گہری تبدیلیوں کے سنجیدہ ادراک سے جنم لیتی ہے۔
2019 ء میں گرین لینڈ خریدنے کی ٹرمپ کی تجویز کو ابتدا میں محض ایک عجیب خیال سمجھ کر نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی کے تیز رفتار اثرات اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث اس خیال کی اسٹریٹجک منطق اب زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ موجودہ بحث حقیقی الحاق سے کم اور اثر و رسوخ، دبائو اور طویل المدت کنٹرول سے زیادہ متعلق ہے۔ سفارتی اشارے، معاشی ترغیبات اور دانستہ اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ واشنگٹن گرین لینڈ کو اپنی قومی سلامتی کے حساب کتاب میں ناگزیر سمجھتا ہے۔ ’’ آسان راستہ یا مشکل راستہ‘‘ جیسی زبان فوری اقدام کے اعلان سے زیادہ دبائو بڑھانے اور مذاکراتی حدود کو نئے سرے سے متعین کرنے کی کوشش ہے۔
اس دلچسپی کی جڑ میں آرکٹک خطے کی وہ تبدیلی ہے جو ایک منجمد پسماندہ علاقے کو قابلِ آمدورفت اور متنازع میدان میں بدل رہی ہے۔ برف کے پگھلنے سے ایسے بحری راستے کھل رہے ہیں جو ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ کے درمیان فاصلے نمایاں طور پر کم کر دیتے ہیں۔ وہ سفر جو کبھی نہرِ سوئز کے ذریعے چالیس دن لیتا تھا، آئندہ آرکٹک گزرگاہوں سے بیس دن سے کچھ ہی زیادہ میں طے ہو سکے گا۔ گرین لینڈ ان ابھرتے ہوئے راستوں کے بحرِ اوقیانوس کے دہانے پر ایک غالب مقام رکھتا ہے، خصوصاً شمال مغربی گزرگاہیں اور مستقبل کے ٹرانس پولر کوریڈور کے قریب۔ گرین لینڈ پر اثر و رسوخ امریکہ کو یہ موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ عالمی تجارت اور عسکری نقل و حرکت کی ان نئی گزرگاہوں کی نگرانی، حفاظت اور حتیٰ کہ قواعد سازی میں کردار ادا کرے۔
اتنی ہی اہم وہ دولت ہے جو گرین لینڈ کی برف کے نیچے پوشیدہ سمجھی جاتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں نایاب ارضی عناصر کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو جدید الیکٹرانکس، قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز اور جدید دفاعی نظاموں کے لیے ناگزیر ہیں۔ ایسے وقت میں جب نایاب عناصر کی عالمی رسد پر چین کی بالادستی مغرب کے لیے ایک اسٹریٹجک کمزوری بن چکی ہے، گرین لینڈ تنوع اور خودمختاری کی امید فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ تیل، گیس اور دیگر معدنیات کے ممکنہ ذخائر بھی ہیں، جن کی تلاش اور پیداوار برف کے ہٹنے کے ساتھ زیادہ قابلِ عمل ہو رہی ہے۔ معاشی خودکفالت اور صنعتی مضبوطی کے خواہاں نظمِ حکومت کے لیے گرین لینڈ محض زمین نہیں بلکہ اسٹریٹجک بیمہ دکھائی دیتا ہے۔
تاہم گرین لینڈ کی کشش محض مادی نہیں۔ اس میں ایک علامتی پہلو بھی ہے جو صدر ٹرمپ کے سیاسی مزاج سے گہرا میل کھاتا ہے۔ علاقائی توسیع، جرات مندانہ سودے بازی اور طاقت کے نمایاں مظاہر ’’ امریکہ فرسٹ‘‘ کے اس بیانیے سے ہم آہنگ ہیں جو غلبے اور نفسیاتی برتری کو ترجیح دیتا ہے۔ اس زاویے سے گرین لینڈ محض حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک اعلان بن جاتا ہے، یہ پیغام کہ امریکہ ردِعمل دینے کے بجائے مستقبل کو خود تشکیل دینا چاہتا ہے۔
لیکن یہ خواہش سیاسی، قانونی اور اخلاقی رکاوٹوں سے ٹکراتی ہے۔ گرین لینڈ ایک خودمختار خطہ ہے، جس کے عوام نے بارہا اور دوٹوک انداز میں امریکی بننے کے تصور کو مسترد کیا ہے۔ خود اختیاری، ثقافتی شناخت اور ڈنمارک سے بتدریج زیادہ آزادی کی جانب پیش رفت ان کے لیے گہری اہمیت رکھتی ہے۔ خود ڈنمارک، ایک خودمختار ریاست اور نیٹو کا بانی رکن، واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی قسم کی جبر آمیز کوشش ناقابلِ قبول ہوگی۔ ایسا اقدام محض اتحادوں کو دبا میں نہیں لائے گا بلکہ انہیں توڑ بھی سکتا ہے، اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم اس عالمی نظام کی بنیادوں کو ہلا دے گا جو خودمختاری کے احترام پر قائم ہے۔
کسی زبردستی حصول کے اثرات دور رس ہوں گے۔ نیٹو کی وحدت میں دراڑ پڑ سکتی ہے، یورپی اتحادی سفارتی اور معاشی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں، اور بین الاقوامی ادارے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دینے کا امکان رکھتے ہیں۔ وسائل تک رسائی سے متوقع معاشی فوائد جلد ہی عسکری تعیناتی، قانونی تنازعات، منڈیوں میں عدم استحکام اور ایک چھوٹی، دور افتادہ آبادی کے لیے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی طویل المدت اعانت جیسے اخراجات سے دب سکتے ہیں۔ خود امریکہ کے اندر اس اقدام پر شدید داخلی تقسیم پیدا ہوگی، حامی اسے اسٹریٹجک جرات قرار دیں گے جبکہ ناقدین اسے سامراجی تجاوز اور آئینی بحران سے تعبیر کریں گے۔
حریف طاقتیں بھی خاموش نہیں رہیں گی۔ روس، جس نے اپنے آرکٹک محاذ کو بھاری عسکری شکل دی ہے اور اس خطے کو اپنے مستقبل کا مرکز سمجھتا ہے، گرین لینڈ میں امریکی اثر و رسوخ میں اضافے کو براہِ راست چیلنج تصور کرے گا۔ گشت میں اضافہ، اسٹریٹجک اشارہ بازی، سائبر سرگرمیاں اور چین کے ساتھ قریبی ہم آہنگی ممکن ہے، جس سے آرکٹک میں اسلحے کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے۔ یوں جس اقدام کو سلامتی کے نام پر پیش کیا جائے گا، وہ نئی عدمِ سلامتیوں کو جنم دے سکتا ہے اور ایک نازک ماحول میں غلط فہمی کے خطرات بڑھا دے گا۔
ماحولیاتی اور انسانی پہلو اس منظر نامے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ وسائل کے تیز تر استحصال سے ماحولیاتی نقصان میں اضافہ، برف کے پگھلائو میں تیزی اور آرکٹک حیاتیاتی تنوع کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ گرین لینڈ کی مقامی آبادی کو بے دخلی یا حقوق کی پامالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یوں ایک اسٹریٹجک منصوبہ عالمی اثرات رکھنے والے اخلاقی سوال میں بدل سکتا ہے۔
بالآخر، گرین لینڈ کے ممکنہ راز محض معدنیات، بحری راستوں یا عسکری اڈوں تک محدود نہیں۔ وہ اس عہد میں طاقت کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہیں جو باہمی انحصار، موسمیاتی تبدیلی اور متنازعہ اصولوں سے متشکل ہے۔ گرین لینڈ خواہش اور احتیاط، موقع اور خطرے کے سنگم پر کھڑا ہے۔ اس کی اسٹریٹجک قدر کو کھولنے کی جستجو میں دنیا شاید یہ دریافت کرے کہ سب سے بڑا انکشاف خود گرین لینڈ میں نہیں، بلکہ اس بات میں پوشیدہ ہے کہ بدلتی دنیا میں قومیں طاقت کے حصول کا راستہ کس طرح اختیار کرتی ہیں۔





