Column

معاشرے کے زوال کے اسباب ایک فکری و تہذیبی مطالعہ

معاشرے کے زوال کے اسباب ایک فکری و تہذیبی مطالعہ
خصوصی تحریر: میاں محمد توقیرحفیظ
تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ یک دم عروج یا زوال کا شکار نہیں ہوتا۔ قوموں کی تعمیر بھی ایک مسلسل فکری، اخلاقی اور سماجی جدوجہد کا نتیجہ ہوتی ہے اور ان کا زوال بھی رفتہ رفتہ اندرونی کمزوریوں اور فکری انحطاط کے باعث وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں اقدار کمزور پڑ جائیں، اصول، عدل و انصاف پسِ پشت ڈال دئیے جائیں اور ذاتی مفاد اجتماعی مفاد پر غالب آجائے تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
معاشرتی زوال کے اسباب کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ محض معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور تہذیبی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
1۔ اخلاقی انحطاط
کسی بھی معاشرے کی بنیاد اخلاقیات پر استوار ہوتی ہے۔ سچائی، دیانت، امانت، عدل اور باہمی احترام وہ ستون ہیں جن پر صحت مند معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔ جب جھوٹ کو ذہانت، دھوکے کو مہارت اور بددیانتی کو کامیابی سمجھا جانے لگے تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اخلاقی زوال وہ خاموش بیماری ہے جو قوموں کو اندر ہی اندر مفلوج کر دیتی ہے۔
2۔ فکری جمود اور تنقیدی شعور کی کمی
زندہ معاشرے سوال کرتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور خود احتسابی کو شعار بناتے ہیں۔ جب معاشرے میں فکری جمود طاری ہو جائے، اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جائے اور سوال کرنے والے کو باغی قرار دیا جائے تو ذہنی ارتقا رک جاتا ہے۔ تنقیدی شعور کے بغیر معاشرہ تقلید، انتشار، فتنہ، توہمات اور سطحیت کا شکار ہو جاتا ہے، جو بالآخر زوال کی راہ ہموار کرتی ہے۔
3۔ تعلیم کا زوال اور علم سے دوریتعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور بہتر انسان بننے کا عمل ہے۔ جب تعلیمی نظام تحقیق، تخلیق اور کردار سازی کے بجائے محض روزگار کے حصول تک محدود ہو جائے تو معاشرہ علم کی روح سے محروم ہو جاتا ہے۔ ناخواندہ قومیں نہیں، بلکہ غیر فکری تعلیم یافتہ قومیں زیادہ خطرناک زوال کا شکار ہوتی ہیں۔
4۔ انصاف کا فقدان اورطبقاتی تقسیم
جب معاشرے میں انصاف اور عدل ناپید ہو جائے اور قانون طاقتور کے ہاتھ کا کھلونا بن جائے تو عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ طبقاتی خلیج بڑھتی ہے، احساسِ محرومی جنم لیتی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ معاشرہ جہاں کمزور کو انصاف نہ ملے، زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
5۔ ذاتی مفاد اور اجتماعی شعور کی موت
معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ افراد اپنی ذات کے خول میں بند ہو جاتے ہیں۔ قومی مفاد، اجتماعی بھلائی اور سماجی ذمہ داری جیسے تصورات بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جب ہر شخص صرف اپنی ترقی کا سوچے اور معاشرے کے لیے قربانی دینے کو تیار نہ ہو تو اجتماعی نظام بکھرنے لگتا ہے۔
6۔ قیادت کا بحران
قوموں کے عروج و زوال میں قیادت کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ بدعنوان، نااہل اور مفاد پرست، قیادت نہ صرف اداروں کو تباہ کرتی ہے بلکہ عوام کی اخلاقی سمت بھی بگاڑ دیتی ہے۔ عوام کی ذہنیت کو منفی سمت لگا دیتی ہے جہاں نوجوان طبقہ اس کا اسیر بنتا ہے اور جب قیادت کردار کے بجائے چالاکی، خدمت کے بجائے اقتدار اور بصیرت کے بجائے نعروں پر قائم ہو تو معاشرہ بری طرح سے فکری انتشار، نفرت کا شکار ہو جاتا ہے۔
7۔ ثقافتی و تہذیبی بیگانگی
ہر معاشرہ اپنی تہذیب و تمدن، زبان، اقدار اور شناخت سے پہچانا جاتا ہے۔ جب کوئی قوم اندھی تقلید میں اپنی شناخت کھو بیٹھے اور اپنی اقدار کو کمتر سمجھنے لگے تو وہ فکری غلامی میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ تہذیبی بیگانگی قوموں کو خود اعتمادی سے محروم کر دیتی ہے، جو زوال کی ایک اہم علامت ہے۔
8۔ خود احتسابی کا فقدان
زندہ قومیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتی ہیں، جبکہ زوال پذیر معاشرے ہمیشہ دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے نظر آتے ہیں ۔ جب ہر ناکامی کا ذمہ دار بیرونی سازشوں کو ٹھہرایا جائے اور اپنی کوتاہیوں پر نظر نہ ڈالی جائے تو اصلاح کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں پر سیاہ دھبہ بن جاتا ہے اور ان کے دل مردہ ہو جاتے ہیں۔نتیجہہمارے معاشرے کا زوال کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جو اخلاقی کمزوری، فکری پسماندگی، تعلیمی زوال اور اجتماعی بے حسی سے جنم لیتا ہے۔ اگر ہمیں اپنے معاشرے کو زوال پذیری سے بچانا ہے تو ہمیں فرد سے آغاز کرنا ہوگا۔ کردار کی اصلاح، علم کی قدر، عدل و انصاف کی بالادستی اور اجتماعی شعور کی بیداری ہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو دوبارہ عروج کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button