معروضی حالات، نوجوانوں کی فکری سوچ اور مولانا مودودیؒ

معروضی حالات، نوجوانوں کی فکری سوچ اور مولانا مودودیؒ
تحریر: نذیر احمد جنجوعہ
یہ محض اتفاق نہیں کہ آج پاکستان سیاسی عدم استحکام، فکری انتشار اور قیادتی بحران کا شکار ہے۔ اصل مسئلہ اشخاص یا جماعتوں کا نہیں، بلکہ سوچ کی سطحی پن، نظریاتی کمزوری اور مطالعے سے دوری کا ہے۔ ہم نے سیاست کو نعرے، الزام تراشی اور جذباتی نعروں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ قومیں نظریے، فکر اور شعور سے بنتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں لٹریچر، بالخصوص اسلامی فکری ادب، کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ سیاست محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ مگر آج کی سیاست میں اخلاق، دیانت اور فکری پختگی نایاب ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی سیاست کیوں پروان چڑھی؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے: فکری تربیت کا فقدان۔ جب قیادت مطالعہ سے خالی ہو اور نوجوان جذباتی نعروں پر یقین کرنے لگیں تو سیاست اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
نوجوانو! یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ناقابلِ تردید ہے کہ آج کا نوجوان سیاسی طور پر متحرک تو ہے، مگر فکری طور پر کمزور۔ وہ ٹرینڈز پر چلتا ہے، بیانیہ نہیں بناتا۔ وہ سوشل میڈیا پر بحث تو کرتا ہے، مگر سنجیدہ مطالعہ سے گریز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی سیاسی وابستگی اکثر شخصیت پرستی، وقتی جذبات یا نفرت پر مبنی ہوتی ہے، اصول اور نظریے پر نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا لٹریچر ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے سیاست کو عبادت، امانت اور اجتماعی ذمہ داری کے طور پر سمجھایا۔ ان کے نزدیک اقتدار مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ تھا، عدل کے قیام کا ذریعہ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی سیاست کی بنیاد اخلاق، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح ہے، نہ کہ طاقت اور مفاد۔ خلافت و ملوکیت میں مولانا مودودیؒ نے جس جرات کے ساتھ اقتدار کی اخلاقی انحرافات کی نشاندہی کی، وہ آج کے سیاسی منظرنامے پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جب سیاست اصولوں سے ہٹ کر شخصیات کے گرد گھومنے لگے تو نتیجہ آمریت، بدعنوانی اور انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔ کیا آج کا پاکستان اسی راستے پر نہیں؟
نوجوان نسل کے لیے مولانا مودودیؒ کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ قیادت محض الیکشن جیتنے کا نام نہیں بلکہ ذہن، کردار اور وژن کی تیاری کا تقاضا کرتی ہے۔ مولانا نے قلم کے ذریعے ایسی سیاسی سوچ پیدا کی جو جذبات سے نہیں بلکہ شعور سے فیصلے کرتی ہے۔ ان کا لٹریچر نوجوان کو یہ سکھاتا ہے کہ سوال کیسے کیا جاتا ہے، اختلاف کیسے کیا جاتا ہے اور اقتدار کو اخلاق کے تابع کیسے رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں آج جن سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے، ان کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں مطالعہ، تربیت اور نظریاتی تعلیم کا فقدان ہے۔ کارکن تو ہیں، مگر طالبِ علم نہیں؛ جلسے ہیں، مگر مطالعے کے حلقے نہیں۔ مولانا مودودیؒ نے جس تنظیمی و فکری تربیت پر زور دیا تھا، وہ آج بھی ہماری سیاست کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
نوجوانو! اگر تم واقعی تبدیلی چاہتے ہو تو صرف ووٹ ڈالنا یا جلسے میں جانا کافی نہیں۔ تمہیں کتاب اٹھانا ہوگی، سوال سمجھنا ہوگا، دلیل سے اختلاف کرنا ہوگا۔ تمہیں یہ طے کرنا ہوگا کہ تم ہجوم کا حصہ بننا چاہتے ہو یا تاریخ بنانے والی قیادت کا۔ آج بھی مولانا مودودیؒ کی تحریریں زندہ ہیں، کیونکہ آج بھی مسائل وہی ہیں: اقتدار کی ہوس، نظریے کی کمزوری اور اخلاقی زوال۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج ہمیں پڑھنے کا حوصلہ نہیں رہا۔ اگر ہم نے لٹریچر سے اپنا رشتہ بحال نہ کیا تو ہماری سیاست شور تو پیدا کرتی رہے گی، مگر سمت کبھی متعین نہیں ہو سکے گی۔ اور یاد رکھیے۔ قومیں نعروں سے نہیں، نظریوں سے بنتی ہیں۔ اور نظریے کتابوں میں زندہ رہتے۔





