سانحہ گل پلازہ: انسانی المیے اور معاشرتی اسباق
سانحہ گل پلازہ: انسانی المیے اور معاشرتی اسباق
شہر خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
انسانی زندگی کی نازکیت اور معاشرتی شعور کی بیداری کے مظاہر عام حالات میں شاید اتنی شدت سے محسوس نہیں ہوتے جتنے کسی بڑے سانحے کے دوران نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہروں، بالخصوص عروس البلاد کراچی کی تاریخ مختلف انسانی اور قدرتی حادثات سے عبارت رہی ہے، مگر جنوری 2026ء میں گل پلازہ کراچی میں پیش آنے والا الم ناک حادثہ محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا سنگین المیہ ہے جس نے معاشرے کے ہر حساس فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حادثے نے نہ صرف درجنوں قیمتی انسانی جانوں کو نگل لیا بلکہ ہمارے معاشرتی تحفظ کے دعوئوں، قانونی ذمہ داریوں کے کھوکھلے پن اور شہری شعور کی عدم موجودگی کو بھی سرِ بازار عریاں کر دیا ہے۔سانحات دراصل محض حادثات نہیں ہوتے؛ یہ انسانی تاریخ کے وہ ابواب ہوتے ہیں جہاں معاشرتی رویے، انتظامی کارکردگی اور رائج الوقت قانونی نظام اپنی آزمائش کے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ گل پلازہ کراچی کا ایک ایسا قدیم اور مصروف ترین تجارتی و رہائشی مرکز تھا جہاں روزانہ ہزاروں نفوس اپنی زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ یہاں رونما ہونے والے اس ہولناک واقعے نے شہریوں کی زندگیوں، ملکی معیشت اور ہمارے مجموعی سماجی نظام پر ایسے گہرے اور انمٹ اثرات مرتب کیے ہیں جن کا مداوا شاید برسوں ممکن نہ ہو سکے۔
سانحہ گل پلازہ کی تفصیلات اور حقائق کا جائزہ
گل پلازہ کراچی کے ایک ایسے مرکزی علاقے میں واقع تھا جو اپنی تجارتی گہما گہمی اور رہائشی سہولیات کے باعث شہر کی شہہ رگ تصور کیا جاتا تھا۔ یہ پلازہ سینڑوں دکانوں، دفاتر اور سیلزمینوں کے لیے رزق کا وسیلہ تھا۔ ہفتے کی شب وہ سیاہ رات تھی جب آگ کے شعلوں نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں اب تک 61افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جو کہ ایک بہت بڑا انسانی ضیاع ہے۔ جاں بحق ہونے والے افراد میں سے متعدد کی لاشیں ناقابلِ شناخت تھیں، جن کی شناخت کے لیے ڈی این اے اور دیگر سائنسی طریقوں کا سہارا لیا گیا۔
لاپتہ افراد کا معمہ: حادثے کے بعد 75افراد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی، جو اس المیے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ ان لاپتہ افراد میں تنویر احمد خان بھی شامل تھے، جن کی تصدیق بعد ازاں ان کے شناختی کارڈ اور دیگر شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔
حادثے کی ہولناکی: آگ کی شدت اس قدر غیر معمولی تھی کہ جدید ترین فائر ٹینڈرز بھی اسے بجھانے میں بے بس نظر آئے۔ دھویں کے بادلوں اور تپش نے ریسکیو آپریشن کو ایک کٹھن آزمائش بنا دیا تھا۔ کمشنر کراچی، حسن نقوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو تمام پہلوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ ڈی آئی جی سائوتھ، اسد رضا نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اگر اس واقعے کے پیچھے کوئی مجرمانہ سازش یا کریمنل غفلت کے شواہد ملے تو ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض بیانات ہیں یا واقعی انصاف کی کوئی صورت نکلے گی؟
سانحہ گل پلازہ میں ہونے والا انسانی جانی نقصان محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے۔ ہر جانے والی جان کے پیچھے ایک بستا ہوا گھر، بوڑھے والدین کی امیدیں، بیوائوں کے آنسو اور یتیم بچوں کا تاریک مستقبل چھپا ہوتا ہے۔ اس حادثے نے کراچی کے شہریوں میں ایک نفسیاتی خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ لوگ اب کثیر المنزلہ تجارتی مراکز میں داخل ہوتے ہوئے کترانے لگے ہیں۔
اس المیے نے ہمیں چند اہم سماجی اسباق دئیے ہیں؛
شہری خوف: تجارتی مراکز میں کام کرنے والے محنت کشوں اور وہاں مقیم خاندانوں میں یہ احساس پختہ ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔
خاندانی صدمہ: متاثرہ خان دانوں کے لیے یہ سانحہ ایک ایسا مالی اور جذباتی بحران لایا ہے جس سے نکلنے میں شاید دہائیاں لگ جائیں۔
سماجی تربیت کی ضرورت: اس حادثے کے دوران دیکھا گیا کہ عام شہریوں میں ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت بالکل نہیں تھی، جس کی وجہ سے بھگدڑ مچی اور نقصان میں اضافہ ہوا۔
انسانی ہمدردی: جہاں انتظامیہ کی خامیاں نظر آئیں، وہیں فلاحی اداروں اور عام شہریوں کی ہمدردی نے یہ ثابت کیا کہ انسانیت اب بھی زندہ ہے۔
انتظامی خامیاں اور تکنیکی کوتاہیاں
تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی رپورٹس سے جو حقائق سامنے آئے ہیں، وہ ہماری انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ آگ لگنا ایک حادثہ ہو سکتا ہے، مگر اس کا اس قدر پھیل جانا اور جانی نقصان کا باعث بننا خالصتاً انسانی غفلت ہے۔ سب سے بڑی خامی عمارت کے ڈیزائن میں تھی۔ ایمرجنسی ایگزٹ یعنی ہنگامی نکاس کے راستوں پر غیر قانونی طور پر دکانیں اور گودام بنا دئیے گئے تھے۔ جب آگ لگی تو لوگوں کے پاس باہر نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔ عمارت میں آگ بجھانے کے جدید آلات (Fire Extinguishers)یا تو سرے سے موجود ہی نہیں تھے یا پھر وہ ناکارہ ہو چکے تھے۔ یہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور فائر بریگیڈ کے محکموں کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہے۔
بلدیہ ٹان فیکٹری سانحہ: ایک دردناک موازنہ
گل پلازہ کا یہ منظر ہمیں ستمبر 2012ء کے اس سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے جب بلدیہ ٹائون کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے 300سے زائد مزدور زندہ جل گئے تھے۔ اس وقت بھی یہ کہا گیا تھا کہ اب حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا، مگر گل پلازہ گواہ ہے کہ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ بلدیہ ٹائون ہو یا گل پلازہ، دونوں سانحات میں قدرِ مشترک ’’ انتظامی لاپرواہی‘‘ اور’’ انسانی جان کی سستی قیمت‘‘ ہے۔ بلدیہ ٹائون میں دروازے بند تھے، اور گل پلازہ میں راستے بند تھے۔ دونوں جگہوں پر قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکلتے دیکھا گیا۔
سانحہ گل پلازہ ایک تلخ یاد بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے، جو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر آج ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو کل کوئی اور پلازہ اس آگ کی نذر ہو رہا ہوگا۔
حکومت کو چاہیے کہ تمام تجارتی عمارتوں کا فوری طور پر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔ ہنگامی راستوں پر قائم تجاوزات کو فوری طور پر مسمار کیا جائے۔ آگ بجھانے کی تربیت کو تعلیمی نصاب اور دفاتر کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ ذمہ دار افسروں اور بلڈرز کے خلاف عبرت ناک قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
گل پلازہ ایک تازیانہ ہے، ایک نوحہ ہے اور ایک سبق ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے محض ایک خبر سمجھ کر فراموش نہ کریں بلکہ اسے ایک تحریک بنائیں تاکہ ’’ شہرِ خواب‘‘ میں رہنے والے انسانوں کو ’’ شہرِ نوحہ‘‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔





