Column

گل پلازہ آتشزدگی۔ قومی سانحہ

گل پلازہ آتشزدگی۔ قومی سانحہ
محمد ایوب ( ترجمان : عافیہ موومنٹ ۔ پاکستان)
جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو حکمرانوں اور سرکاری حکام کی بے حسی کو سب سے زیادہ عافیہ موومنٹ سے وابستہ لوگ ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ نے پہلے سے موجود افسردگی میں کئی گنا زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ ویسے بھی اس وقت حکمرانوں اور سرکاری و ریاستی اداروں کے حکام کی بے حسی کا دکھ اور تجربہ عافیہ موومنٹ سے زیادہ کسی کو نہیں ہو سکتا ہے۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست میں قید ناحق کو 23سال مکمل ہونے والے ہیں۔ عافیہ کی رہائی اب زیادہ مشکل نہیں ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں کی طرف سے ایمائکس بریف کی حمایت کا انتظار ہے۔ عدالتی احکامات اور عدالت میں حکومت کی یقین دہانی بھی موجود ہے مگر عملی حمایت فراہم نہیں کی جارہی ہے کیونکہ ڈاکٹر عافیہ کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے نہیں ہے۔
سانحہ گل پلازہ نے ایک مرتبہ پھر اس احساس کو جگا دیا ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار کے نزدیک ایک عام پاکستانی شہری کی جان، مال ، عزت و آبرو کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں کراچی میں کئی خطرناک آتشزدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں کریم آباد، آر جے شاپنگ مال اور کوآپریٹیو مارکیٹ صدر میں آگ لگنے کے واقعات شامل ہیں۔ سابقہ واقعات میں بھی کئی انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ 2012ء میں بلدیہ ٹائون فیکٹری سانحہ میں 289افراد جان سے گئے تھے۔
بلا شبہ گل پلازہ آتشزدگی قومی سانحہ اور عظیم جانی و مالی نقصان ہے۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں آگ کا گرائونڈ فلور سے چوتھی منزل تک پھیل جانا معاملے کو مشکوک بناتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس واقعے کو فراموش نہ کیا جائے بلکہ مستقبل میں ایسے دلخراش سانحات سے بچنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔چار گھنٹے میں جنگ جیتنے والے ملک کی انتظامیہ چوبیس گھنٹے میں 8000مربع گز پر لگنے والی آگ بجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔
کراچی ملک کا ہر لحاظ سے سب سے بڑا شہر ہے۔ کراچی آبادی، حجم اور سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا مگر حقیقی معنوں میں یتیم شہر ہے۔ گل پلازہ سے چند سو گز دوری پر ایک نہیں دو فائر سٹیشن موجود ہیں، ایک ایمپریس مارکیٹ اور دوسرا سول اسپتال کے نزدیک۔ مگر امدادی کاروائی ایک گھنٹے بعد شروع ہوئی، کیوں؟ جواب ایک ہی ہے کہ شہر کا بلدیاتی نظام انتہائی کمزور اور کرپٹ ہے۔ شہر کے پاس میئر تو موجود ہے مگر کارکردگی صفر ہے۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری حکام سے کسی ان دیکھی قوت نے اپنے فرائض ادا نہ کرنے کا حلف لیا ہوا ہے۔
قیاس آرائیوں سے بچنے کے لئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے۔ اگر کسی ادارے نے غفلت برتی ہے تو ذمہ دار افسران کے خلاف فوری طور پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ مارکیٹوں میں ضروری اور حادثات سے بچأ کے حفاظتی انتظامات بھی نہیں ہوتے ہیں۔ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کی حالت زار پر ایک عرصے سے احتجاج کیا جارہا ہے۔ مگر نوٹس لینے والا کوئی نہیں ہے، پتا نہیں کیوں عوام کے صبر کا امتحان لیا جارہا ہے۔
نقصانات کا صحیح صحیح تخمینہ لگایا جانا ضروری ہے۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے سروے اور جائزے کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جانا چاہئے۔ انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا ہے مگر حکومت مالی نقصان کا ازالہ تو کر سکتی ہے۔ تمام متاثرین معاوضہ کے حقدار ہیں آئندہ ایسے واقعات اور تباہی سے بچنے کے لیے شہر بھر کی مارکیٹوں میں ہنگامی بنیادوں پر فائر سیفٹی نظام نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے دکاندار اور ان کی نمائندہ یونینیں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور خود بھی اپنی اپنی مارکیٹوں کے حفاظتی نظام پر نظر رکھیں۔

جواب دیں

Back to top button