
جگائے گا کون ؟
یہ آگ ہمارے دلوں میں لگی ہے
تحریر: سی ایم رضوان
ہماری حکومتوں اور ان کے عہدیداران کی سالہاسال کی بے ضابطگی، بدعنوانی، غفلت اور کرپشن جیسی قباحتوں نے ایک اور گل کھلا دیا اور کراچی کے علاقہ صدر میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ جل کر اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو درجن سے زائد خاندانوں کے چراغ گل کر گیا۔ اس بڑے حادثے میں اب لاتعداد سوختہ لاشوں کی شناخت اور گنتی کا عمل جاری ہے۔ ساتھ ہی موقع پر فلاحی اداروں کی نمائشیں اور حکمرانوں کے مابین ہمدردی اور انتظامات کے جھوٹے دعووں کے حوالے سے لفاظی کا مقابلہ بھی جاری ہے۔ اس حوالے سے اب تک ایک اہل زبان سیاسی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کا بیان اول پوزیشن پر براجمان ہے کہ یہ آگ ہمارے دلوں پر لگی ہے۔ واقعی قوم کے بچے بچے کو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ یہ آگ ان کے دلوں پر لگی ہے۔ تاہم سوختہ لاشوں کی شناخت کے لئے میڈیکو لیگل سنٹر کراچی میں ڈی این اے پروفائلنگ شروع ہے، لاشوں کی شناخت کے لئے خون کے نمونے بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے سیمپلز سیل کر کے محفوظ تحویل میں دے دیئے گئے ہیں، لاشوں کی شناخت ڈی این اے کراس میچنگ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد تیسرے روز بھی کولنگ کا کام جاری رہا۔ سوختہ انسانی اجسام اور جلے ہوئے ملبے میں سے ریسکیو اہلکار اس زندگی کے آثار بھی تلاش کرتے نظر آئے جو جل کر راکھ ہو چکی تھی۔ تاہم تادم تحریر ریسکیو حکام اس حادثے میں 22افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ریسکیو 1122کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ کا کہنا ہے کہ عمارت کا سٹرکچر شدید حد تک متاثر ہو چکا ہے اور کسی بھی وقت اس کے انہدام کا خدشہ موجود ہے، جس کے باعث آپریشن مرحلہ وار، محدود اور انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے تاکہ مزید خطرات سے بچائو ممکن ہو سکے۔ 33گھنٹے تک لگی رہنے والی اس حادثاتی اور بے رحم آگ کی شدید اور جھلسا دینے والی حرارت میں مسلسل جلتے رہنے کے باعث متعدد لاشیں ناقابلِ شناخت اور ناقابل دید حالت میں تبدیل ہو چکی ہیں، ان میں سے جو مل سکی ہیں ان کی ویڈیوز دیکھنا بھی ہر پاکستانی کے لئے دل گردے کا کام ہے۔ ایسے میں ذرا تصور کیجیے کہ جن خاندانوں کے پیارے جو کہ آج چوتھے روز بھی گھروں میں واپس نہیں آ سکے۔ ان کے گھر والوں کا کیا حال ہوتا ہو گا۔ سوختہ پلازہ میں سے سوختہ لاشوں کو ڈھونڈنے، شناخت کرنے اور شمار کرنے کے جاں سوز کام میں پلازہ کے بعض گوشوں سے انسانی اجسام کے اعضا ہی برآمد ہو رہے ہیں۔ جن کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے، شناخت کرنے یا بعدازاں ان کے عزیزوں کو شناخت کرانے کے اس مرحلہ کو بیان تو کیا جا سکتا ہے، اس بیان کو با آسانی پڑھا بھی جاسکتا ہے لیکن متعلقہ اور متاثرہ خاندانوں کے لئے یہ سب برداشت کرنا کسی قیامت سے کم نہیں۔ ایسے میں لاپتا ہونے والے افراد کے لواحقین گل پلازہ کے قرب و جوار میں بیٹھے رہے، ان کی مغموم اور مایوس نظریں سامنے سرگرم ہیوی مشینری پر ٹکی رہیں جو ملبہ ہٹا رہی تھیں۔ ان کی آخری امیدیں اب کسی معجزے کے منتظر تھیں تاہم جب تک تکنیکی اور فرانزک تصدیق کے ذریعے یہ تعین نہیں ہو جاتا کہ یہ اعضا ایک ہی فرد کے ہیں یا مختلف افراد کے اس وقت تک ہلاکتوں کی درست تعداد کا تعین اور شناخت مشکل ہے۔
سیکڑوں دکانوں پر مشتمل اس بڑے پلازہ میں چھوٹی چھوٹی دکانوں اور تنگ گلیوں میں بھی سٹال لگے ہوتے تھے، جس کے سبب وہاں تین لوگ بھی بمشکل ہی چل سکتے تھے۔ کچھ سیڑھیاں تو اس قدر تنگ تھیں کہ اگر ایک شخص اوپر چڑھ رہا ہوتا تو دوسرے کو انتظار کرنا پڑتا تھا۔ انتظامی بد عنوانی کا یہ عالم تھا کہ عینی شاہدین نے یہاں کبھی بھی کسی راستے پر ہنگامی اخراج یا آگ بجھانے کے آلات نہیں دیکھے تھے۔ کراچی میں واقع اکثر بے ہنگم اور سکیورٹی بندوبست کے بغیر ایستادہ لاتعداد پلازوں اور مارکیٹوں کی طرح یہ سوختہ نصیب گل پلازہ بھی بیسمنٹ اور گرانڈ فلور کے علاوہ تین منزلوں پر مشتمل ایک مارکیٹ تھی، جس میں ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی دکانیں قائم تھیں۔ عمارت میں تقریباً 14داخلی اور خارجی راستے موجود تھے۔
اب ذرا ان ساری بدانتظامیوں کے بڑے ذمہ دار وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا بیان بھی دیکھ لیں ان کا فرمان ہے کہ شادیوں کے سیزن اور ویک اینڈ کی وجہ سے سنیچر کی شب پلازہ میں غیر معمولی رش تھا، جس کے باعث نقصان میں اضافہ ہوا۔ غور کیجئے کہ کس چالاکی اور ہوشیاری سے انہوں نے اپنے ماتحت تمام محکموں کے جرائم پر پردہ ڈالا ہے کہ جیسے باقی سب ٹھیک تھا۔ بس آگ لگنا ہی باعث نقصان ہوا۔ ان کے مطابق اگر یہ آگ شادیوں کے سیزن کے علاوہ کسی عام دن میں لگتی تو کم لوگ مرتے۔ ویسے اگر عام دنوں میں ان کے انقلابی خیالات سنیں تو دعویٰ کریں گے کہ ایک انسانی جان بھی بڑی قیمتی ہے بلکہ کسی انسان کا حکومتی کوتاہی کے باعث زخمی ہونا بھی ناقابل جواز ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ جیسے وزیر اعلیٰ سندھ کو ایسے لوگوں کے مرنے کا کوئی دکھ نہیں ہوا جو اپنے گھر والوں کی کفالت کے لئے چھوتا موٹا کام کرنے کی غرض سے اس پلازہ میں کام کر رہے تھے۔ اگر وزیر اعلیٰ سندھ کو ذرا سا بھی احساس ہوتا تو یہ بات گارنٹی کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ اس وقوعہ کے بعد فوری وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیتے کہ ان کی حکومت میں متعدد اداروں اور ذمہ داروں کی متعدد بدعنوانیوں اور فرض ناشناسیوں کی وجہ سے یہ سانحہ رونما ہوا۔
اس سانحے کی ہولناکی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ شدید آگ کی وجہ سے پلازہ کا عقبی حصہ منہدم ہو چکا ہے اور چھتوں کی کئی تہیں ملبے کے ڈھیر کی صورت میں گری پڑی ہیں۔ ان حالات میں ریسکیو کا کام بھی اس قدر مشکل تھا کہ پانچ، چھ ریسکیو اہلکار پہلے اندر جھانک کر دیکھتے اور پھر ہیوی مشنری کے ذریعے ملبہ ہٹایا جاتا۔ ڈمپرز اور کرین چلانے والوں نے کے ایم سی کی جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ ان کے سپروائزر کے مطابق وہ کے ایم سی کے ملازم نہیں بلکہ کنٹریکٹ پر آئے ہیں اور کے ایم سی کے لئے ندی نالے اور گٹر کی صفائی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی کئی انسانی لاشوں کی موجودگی کا امکان ہے اس لئے احتیاط سے کام کر رہے ہیں ورنہ ملبے ہٹانے میں تاخیر نہ ہوتی۔ ایسے میں لاپتہ، جل کر راکھ ہو جانے یا فوت ہو جانے والے افراد کے لواحقین بے بسی سے یہاں بیٹھے تھے۔ کبھی انہیں ہسپتال جانا پڑتا تو کبھی وہ پلازہ کے قریب آ کر بیٹھ جاتے کہ شاید ان کے پیارے زندہ مل جائیں یا کم از کم ان کی لاش کی شناخت ہی وہ کر سکیں۔ یوں گل پلازہ کی اطراف میں پیر اور منگل کو بھی لوگوں کا جم غفیر جمع ہوتا نظر آیا۔
ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ 1990ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ گُل پلازہ میں اصل میں1017دکانوں کی منظوری دی گئی تھی اور انکوائری کے دوران یہ بھی جانچا جائے گا کہ وہاں آگ بجھانے کے مناسب انتظامات موجود تھے یا نہیں حالانکہ ایک سروے کے مطابق اس وقت کراچی میں 80فی صد عمارتوں میں آگ بجھانے یا دیگر ہنگامی صورتوں سے نمٹنے کے لئے حفاظتی آلات کا نظام موجود نہیں ہے، اور کراچی کی اکثر عمارتوں میں آتشزدگی اور اموات معمول بن چکے ہیں۔ جبکہ متعلقہ ادارے مروجہ قوانین کی خلاف ورزیوں پر اقدامات لینے کو تیار نہیں۔ دنیا بھر میں عمارات کی تعمیر حفاظتی قوانین کے ساتھ کی جاتی ہیں، جبکہ کراچی میں اسّی فیصد تعمیرات حفاظتی آلات کے نظام سے محروم ہیں۔ متعلقہ ادارے تعمیرات کے ابتدائی قواعد و ضوابط تو پورے کرواتے ہیں مگر بعد مین ان کو جانچنے کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے، اور نہ ہی فیکٹری، شاپنگ مالز اور رہائشی فلیٹس کی انتظامیہ حفاظتی نظام کو فعال رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان حالات میں ہماری حکومتوں نے کیا کرنا ہے کچھ بھی نہیں بس چند بیانات اور ہلاک ہونے والوں کی تھوڑی بہت امداد اور بس۔





