سکرین کے اسیر نوجوان اور کتاب کی تنہائی
سکرین کے اسیر نوجوان اور کتاب کی تنہائی
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
کتاب اور انسان کا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انسانی شعور کا ارتقا۔ جب سے انسان نے غاروں کی دیواروں پر لکیریں کھینچ کر اپنے جذبات کے اظہار کا سلیقہ سیکھا، تب سے لے کر آج کے ڈیجیٹل عہد تک، کتاب ہی وہ واحد ذریعہ رہی ہے جس نے انسانی تجربات کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کیا۔ کتاب محض کاغذ کے اوراق پر بکھری سیاہی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ جاوید رفیق ہے جو خاموشی سے باتیں کرتی ہے، جو بغیر ملامت کیے راہ دکھاتی ہے اور جو بصیرت، صبر اور تخیل کے وہ بند دروازے کھولتی ہے جن تک رسائی کسی دوسرے ذریعے سے ممکن نہیں۔
آج جب ہم اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں سانس لے رہے ہیں، تو ایک عجیب اور ہولناک منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ وہ کتاب جو کبھی ہماری تہذیب کا فخر تھی، آج تنہائی کا شکار ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب کی جگہ چمکتی ہوئی سکرینوں نے لے لی ہے۔ یہ تبدیلی محض ایک آلے کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک پوری فکری روایت کا زوال ہے۔ سکرین کے اسیر نوجوان معلومات کے سمندر میں تو غوطہ زن ہیں، مگر علم کی گہرائی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
ڈیجیٹل یلغار اور فکری بحران
موجودہ عہد میں سیل فون اور انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی کو آسان تو بنا دیا، مگر اس نے "توجہ کے دورانیے” (Attention Span) کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سکرین پر مسلسل بدلتی ہوئی تصاویر، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا کی "فیڈز” نے نوجوانوں کے ذہن کو ایک ایسی جگہ بنا دیا ہے جہاں معلومات آتی تو برق رفتاری سے ہیں، مگر ٹھہرتی کہیں نہیں۔ کتاب پڑھنے کے لیے جس ارتکازِ توجہ اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے، وہ آج کی نسل میں مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ سکرین پر مشاہدہ تو ہے مگر غور و فکر نہیں۔ وہاں معلومات (Information)تو وافر ہے، مگر دانش (Wisdom) کا قحط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان "شارٹ آف ورڈز” ہے، اس کے پاس جذبات تو ہیں مگر ان کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں، اس کے پاس آنکھیں تو ہیں مگر ان میں وہ تخیل نہیں جو اسے ماضی اور مستقبل کی سیر کرا سکے۔
گھر: تربیت کی پہلی درسگاہ اور کتب کا زوال
معاشرتی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہمیشہ گھر ہوتا ہے۔ ایک دور تھا جب گھروں میں کتابیں خاندان کے بزرگوں کی طرح محترم سمجھی جاتی تھیں۔ اگر ہر گھر میں بڑی لائبریری نہیں بھی ہوتی تھی، تو کم از کم اخبار، ادبی رسائل اور بچوں کے لیے "تعمیرِ ادب”، "ہونہار” یا "آنکھ مچولی” جیسے رسالے ضرور آتے تھے۔ یہ رسائل بچوں کی پہلی کھڑکی تھے، جس سے وہ معاشرتی مسائل، اخلاقیات اور عالمی حالات سے واقف ہوتے تھے۔ آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ والدین اپنی مصروفیات یا بچوں کو "مصروف” رکھنے کی سہولت کی خاطر ان کے ہاتھ میں سیل فون تھما دیتے ہیں۔ جب بچہ ہوش سنبھالتے ہی اپنے والدین کو کتاب کے بجائے موبائل میں مگن دیکھتا ہے، تو اس کے لاشعور میں کتاب کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ ہم نے اپنی نئی نسل سے وہ "لوری” اور وہ "کہانی” چھین لی ہے جو ان کے تخیل کو پروان چڑھاتی تھی۔ آج کے گھروں میں شیلف اب ڈیکوریشن پیسز سے تو بھرے ہوتے ہیں، مگر ان پر کتابوں کی جگہ دھول جمی ہوتی ہے۔
تعلیمی ادارے: نصاب کی قید اور لائبریریوں کی خاموشی
گھر کے بعد تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ مطالعے کے چراغ کو روشن رکھتے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام "رٹا کلچر” اور "امتحانی نتائج” کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں لائبریریاں محض نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں یا پھر وہ انتظامیہ کے اسٹور روم بن چکے ہیں۔ نصاب کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ بچہ صرف اتنی معلومات حاصل کرے جو اسے ڈگری دلا سکیں۔ تخلیقی سوچ، غیر نصابی مطالعہ اور مشاہدہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ جب مطالعہ "شوق” کے بجائے ایک "جبری کام” بن جائے، تو ذہن اس سے بیزار ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد نوجوان کتاب سے اپنا رشتہ ہمیشہ کے لیے توڑ لیتے ہیں۔
ایک عملی حل: تین ماہی مطالعہ پروگرام
اس سنگین صورتحال میں ہمیں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک استاد کے طور پر میری یہ تجویز ہے کہ تعلیمی اداروں میں ہر طالب علم کے لیے ہر تین ماہ ( ایک ٹرم) میں کم از کم ایک غیر نصابی کتاب ( افسانہ، تاریخ، سوانح یا شاعری) پڑھنا لازمی قرار دیا جائے۔
طریقہ کار: ٹرم کے اختتام پر اس کتاب پر محض امتحان نہ لیا جائے، بلکہ ایک مباحثہ (Seminar)منعقد کیا جائے جہاں بچے اس کتاب کے موضوع، کردار نگاری اور اس سے حاصل ہونے والے سبق پر بات کریں۔
فائدہ: اس مشق سے بچوں میں نہ صرف الفاظ کا ذخیرہ بڑھے گا، بلکہ ان میں اعتماد، تجزیاتی سوچ اور دوسروں کی رائے سننے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ یہ عمل انہیں سکرین کی مصنوعی دنیا سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لے آئے گا۔معاشرتی و حکومتی بے حسی
کتاب کے زوال میں معاشرتی رویے بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ہمارے شہروں سے کتابوں کی دکانیں اور بک اسٹالز تیزی سے غائب ہو رہے ہیں۔ جہاں کبھی کتابوں کے میلے لگتے تھے، وہاں اب فوڈ کورٹس اور موبائل مارکیٹس آباد ہیں۔ حکومتوں کی ترجیحات میں کتب خانے اور ثقافتی مراکز کبھی شامل ہی نہیں رہے۔ جب تک ریاست کتاب کی اشاعت اور رسائی کو سستا اور آسان نہیں بنائے گی، تب تک ایک عام آدمی کی پہنچ کتاب تک ممکن نہیں۔شہروں میں پبلک لائبریریوں کا جال بچھانا اور پارکوں میں "بک کارنرز” بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم نے آج اس طرف توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں فکری طور پر بانجھ ہو جائیں گی۔
تخیل کا نقصان: ایک تہذیبی المیہ
سکرین کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کی "قوتِ متخیلہ” (Imagination)کو مفلوج کر دیتی ہے۔ جب آپ کتاب پڑھتے ہیں، تو آپ کا ذہن مصنف کے لکھے ہوئے الفاظ سے اپنی ایک دنیا تخلیق کرتا ہے، آپ کرداروں کے چہرے خود بناتے ہیں اور مناظر کو اپنی سوچ کے رنگ دیتے ہیں۔ لیکن سکرین آپ کو سب کچھ بنا بنایا دکھاتی ہے، جس سے ذہن کو محنت نہیں کرنی پڑتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کے نوجوانوں میں تخلیقی جوہر ختم ہو رہا ہے اور وہ صرف نقل (Copy-Paste)کے عادی ہوتے جا رہے ہیں
اختتامیہ: واپسی کا راستہ
وقت اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی سے فرار ممکن نہیں، مگر اسے کتاب کا متبادل بنانا خودکشی کے مترادف ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ بتانا ہوگا کہ گوگل آپ کو معلومات تو دے سکتا ہے، مگر وہ آپ کو "انسان” نہیں بنا سکتا۔ انسان بننے کا عمل اس ہم نشینی سے شروع ہوتا ہے جو کتاب کی صورت میں ہمیں میسر ہے۔ آئیں! اپنے گھروں میں کتابوں کو دوبارہ جگہ دیں۔ اپنے بچوں کو تحفے میں موبائل کے بجائے کتابیں دیں۔ اساتذہ اپنی کلاسوں میں کتاب خوانی کی ترغیب دیں۔ یاد رکھیں، جس قوم کا رشتہ کتاب سے ٹوٹ جاتا ہے، اس کا رشتہ اپنی تاریخ اور اپنی شناخت سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ کتاب وہ رفیق ہے جو کبھی بے وفائی نہیں کرتی۔ اگر ہم اس رفیق کو دوبارہ گلے لگا لیں، تو ہم ایک بار پھر ایک باشعور، مہذب اور تخلیقی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
کیوں کہ
ہم نشینی اگر کتاب سے ہو
اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں





