چین کا تعاون، پاکستانی معیشت کی نئی سمت

چین کا تعاون، پاکستانی
معیشت کی نئی سمت
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند سال میں نہ صرف مختلف چیلنجز سے دوچار رہی بلکہ عالمی اقتصادی حالات نے بھی اس کے استحکام کے سفر میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ تاہم، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور گزشتہ روز پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس میں ان کے بیانات نے اس عزم کو مزید واضح کیا کہ مستقبل کی معیشت میں جدید ٹیکنالوجی، زراعت اور انسانی وسائل کی ترقی مرکزی کردار ادا کرے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ پاکستان چین کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرکے ترقی کے اہداف صرف برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں حاصل کرسکتا ہے۔ اس میں نوجوانوں کی قابلیت اور تعلیم کو بنیادی ستون کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی جو اس وقت ملک کے لیے چیلنج کی طرح نظر آتی ہے، دراصل مستقبل کی اقتصادی طاقت اور ملک کی ترقی کی امید ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ اگر ان نوجوانوں کی صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں تو زرعی معیشت میں وہ تبدیلی لاسکتے ہیں جس کا تصور پہلے ممکن نہیں تھا۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو میرٹ کی بنیاد پر چین بھیجا گیا، جہاں انہوں نے جدید زراعت، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی۔ یہ تربیت یافتہ افراد اب پاکستان واپس آ کر کسانوں اور زرعی ماہرین کی مدد کریں گے۔ ان کی مہارت نہ صرف فصلوں کی پیداوار بڑھانے میں مددگار ہوگی بلکہ زرعی مصنوعات کی قدر میں اضافہ، ویلیو چین کے بہتر استعمال اور کولڈ چین ٹیکنالوجی کے نفاذ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف کسانوں کی معیشت کو بہتر بنائیں گے بلکہ پاکستان کی مجموعی زرعی معیشت کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ چین کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان میں منتقل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں، جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)اور مصنوعی ذہانت (AI)کے شعبے بھی شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ چین پاکستان کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کررہا ہے اور دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات طویل المدتی اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ اس تعاون کا عملی مظاہرہ سی پیک 2.0میں نظر آئے گا، جس کے تحت ترقیاتی منصوبے، سرمایہ کاری اور مشترکہ تحقیق کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے زرعی شعبے کو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں وسیع مواقع موجود ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار اور معیار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں اور زرعی ماہرین کو پانی کے بہتر استعمال، جدید کاشتکاری کے طریقوں اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینی ہوگی تاکہ کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہو اور زرعی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں برآمدات بڑھ سکیں۔چین کے سفیر جیانگ عائی ڈونگ نے بھی کانفرنس سے خطاب میں پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین عالمی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور پاکستان کے ساتھ زرعی شعبے میں تعاون کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، افراط زر کی کم شرح اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدامات دونوں ممالک کے لیے اقتصادی مواقع پیدا کرتی ہیں۔ وزیراعظم نے معاشی اصلاحات اور معاشی اشاریوں کی بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کے بعد پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے میں چین کی مدد کو ایک اہم عنصر قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات فولاد کی طرح مضبوط اور شہد کی طرح میٹھے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کی دوستی اور اقتصادی تعاون کو نہ صرف مزید بڑھایا جائے بلکہ اسے عملی اقدامات کے ذریعے معیشت اور لوگوں کی زندگیوں میں واضح اثرات کے ساتھ ظاہر کیا جائے۔ کانفرنس میں سی پیک 2.0کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے مشترکہ مفادات کا ایک مظہر ہے اور اسے حقیقت اور کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ سی پیک کے تحت دونوں ممالک کی سرمایہ کاری، انفرا سٹرکچر کی ترقی اور زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے منصوبے ملک کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ایک بڑا موقع ہے۔ اگر ان کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو جدید تعلیم، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں استعمال کیا جائے تو معیشت کو برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں بدلنا ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو آگے آنا چاہیے، اپنی مہارتیں ظاہر کرنی چاہئیں اور ملکی ترقی میں حصہ لینا چاہیے۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان کی زرعی سرمایہ کاری کے شعبے میں اشتراک دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی اقتصادی ترقی میں چین کا حصہ قریباً 30 فیصد ہے اور اس نے دنیا کے دیگر ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں گزشتہ سال 3 فیصد سے زائد ترقی کو سراہا اور کہا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری کی بنیاد پر مستقبل میں بھی ترقی کے واضح امکانات موجود ہیں۔ کانفرنس کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیداوار میں اضافہ اور ویلیو چین کے بہتر نفاذ پر زور دیا گیا۔ اس تعاون کے ذریعے پاکستان کی زرعی پیداوار میں بہتری آئے گی، کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور عالمی مارکیٹ میں برآمدات کے مواقع پیدا ہوں گے۔ مجموعی طور پر، یہ کانفرنس پاکستان اور چین کے تعلقات میں نئی بلندیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقتصادی استحکام، زرعی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے اقدامات کی تفصیل دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی نہ صرف اقتصادی بلکہ معاشرتی اور سفارتی سطح پر بھی گہری اور مضبوط ہے۔ اس تعاون کے ذریعے پاکستان اپنی معیشت کو تیزی سے مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے نوجوانوں کی مہارت، زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور چین کے تجربات سے استفادہ ایک اہم محرک ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف پاکستان کی زرعی معیشت بلکہ مجموعی ملکی معیشت کے لیے مثبت تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل کیے جائیں تو پاکستان آنے والے سالوں میں خود کفیل، مضبوط اور عالمی مارکیٹ میں موثر کردار ادا کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔
مستونگ: 5دہشتگرد ہلاک
بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ ریاست دہشتگردی کے خلاف پوری طرح متحرک اور پُرعزم ہے۔ ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی) کی تازہ کارروائی اسی عزم کا عملی اظہار ہے، جہاں پانچ مسلح دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جو کوئٹہ سبی شاہراہ کو بلاک کرنے اور سیکیورٹی فورسز سمیت شہریوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق، خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوری کارروائی کی گئی۔ اطلاع ملتے ہی ٹیمیں علاقے میں پہنچیں اور نگرانی شروع کی، تاہم دہشتگردوں نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشتگرد مارے گئے جبکہ ان کے سات ساتھی دشوار گزار پہاڑی علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ دہشتگردوں کے قبضے سے سب مشین گنز، دستی بم، گولہ بارود اور موٹر سائیکلوں کی برآمدگی نے سکیورٹی خدشات کو مزید واضح کر دیا ہے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو اس منصوبے کے نتائج نہایت سنگین ہوسکتے تھے، جن سے نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہوتیں بلکہ اہم شاہراہ پر سفر کرنے والے شہری بھی شدید خطرے سے دوچار ہوسکتے تھے۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے فرار ہونے والے دہشتگردوں کی گرفتاری اور باقی نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے سرچ اور کومبنگ آپریشن جاری ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ریاست جزوی کامیابی پر اکتفا نہیں کرے گی بلکہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں اسپتال منتقل کردی گئی ہیں اور قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی نہ صرف امن و امان بلکہ صوبے کی معاشی ترقی اور عوامی زندگی کو بھی شدید متاثر کرتی رہی ہے۔ ایسی کارروائیاں عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور دہشتگرد عناصر کے حوصلے پست کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ مستونگ میں سی ٹی ڈی کی یہ کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ ریاست عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور دہشتگردوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔





