Column

فیس بک پر’’ مدد‘‘ کے نام پر بڑھتے ہوئے فراڈ

فیس بک پر’’ مدد‘‘ کے نام پر بڑھتے ہوئے فراڈ
تحریر: رفیع صحرائی
آج کل سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک اور واٹس ایپ پر ایک نیا مگر خطرناک فریب عام ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ اپنا ویڈیو پیغام بھیجتے ہیں کہ وہ ’’ مستحق لوگوں کو مالی مدد‘‘ فراہم کر رہے ہیں۔ عموماً دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ امداد یو کے سے بھیجی جا رہی ہے اور ضرورت مند کو 50ہزار سے 20لاکھ روپے تک کی رقم فراہم کی جائے گی۔ پوسٹس میں بڑی بڑی نوٹوں کی گڈیاں نظر آتی ہیں۔ جو سب امداد کے لیے رکھی ظاہر کی جاتی ہیں۔ ان نوٹوں کے ذریعے شریف انسانوں کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے اور ایک احساسِ ذمہ داری کا فضا قائم کی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب فراڈ اور دھوکہ ہے۔ ان لوگوں کا مقصد نوٹ دکھا کر لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے کہ رقم واقعی موجود ہے اور یہ رقم لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں نظر آتی ہے۔
آپ کو فیس بک پر ایک دوستانہ ویڈیو پیغام دکھائی دیتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہوتا ہے کہ ’’ ہم یو کے میں رہتے ہیں، اللہ کے حکم سے مستحقین کی مدد کرتے ہیں، آپ بھی فائدہ اٹھائیں‘‘۔ ساتھ بڑی بڑی نوٹوں کی تصویر یا ویڈیو لگا دی جاتی ہے تاکہ سچائی کا تاثر مضبوط ہو جائے۔ اس ویڈیو پیغام میں فیس بک پر براہِ راست رقم یا بینک تفصیلات دینے کی بجائے کہا جاتا ہے کہ واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ کا لنک اس ویڈیو کے نیچے ہی دیا ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ لوگ واٹس ایپ پر ہی رابطہ کرنے کا کیوں کہتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ واٹس ایپ کا استعمال فراڈیوں کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ وہاں ٹریکنگ اور رپورٹنگ کا سلسلہ مشکل ہوتا ہے۔
جب کوئی سیدھا سادہ شخص یا حقیقی ضرورت مند ان لوگوں سے رابطہ کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ لوگ اپنی گفتگو میں مذہبی الفاظ، درود، نیک نیتی اور’’ صدقہ جاریہ‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ جذبات کو بھڑکایا جا سکے اور اپنا اعتماد پختہ کیا جائے۔
جب ضرورت مند کا رابطہ ان کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے تو عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ امداد جاری کرنے کے لیے نادرا ویری فکیشن فیس، سروس چارجز اور بینک یا ٹرانزیکشن فیس ادا کروانی ہوگی۔ یہ مطلوبہ رقم عموماً چند ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ان کا شکار رقم ملنے کی امید یا لالچ میں وہ چند ہزار روپے انہیں ادا کر دیتا ہے تو کچھ دیگر معاملات کے سلسلے میں مزید فیسیں بھی مانگی جاتی ہیں۔ یہاں آ کر ممکنہ طور پر دو کام ہو سکتے ہیں۔ رقم یا امداد لینے کا خواہشمند مشکوک ہو کر دیئے گئے پیسوں پر صبر شکر کر کے رابطہ ختم کر دیتا ہے یا پہلی رقم کی وصولی کی امید میں مزید رقم بھیج دیتا ہے۔
جیسے ہی شکار رقم بھیج دیتا ہے اور مزید رقم ملنے کی امید نہیں رہتی تو یہ فراڈی وہ واٹس ایپ اکائونٹ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں یا اس شکار کو بلاک کر دیتے ہیں۔ نمبر بند ہونے اور پروفائل ڈیلیٹ ہونے کے بعد رقم واپس ملنے کی توقع ختم ہو جاتی ہے۔ ان فراڈیوں کا کوئی مستند ادارہ نہیں ہوتا۔ نہ رجسٹریشن، نہ ویب سائٹ، نہ سرکاری تصدیق ہوتی ہے۔ ان کی پروفائل نئی یا مشکوک ہوتی ہے، ان کے دوستوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ یہ لوگ صرف امداد کے پیغامات شیئر کرتے ہیں۔ یہ لوگ رابطہ کرنے والوں سے جلدی میں فیصلہ کراتے ہیں۔ اس کے لیے ان کا حربہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ’’ آج آخری دن ہے‘‘، ’’ بفر ختم ہونے والا ہے‘‘۔ یہ فراڈیئے کوئی اصلی دستاویز یا رابطہ کی تفصیل نہیں دیتے صرف واٹس ایپ نمبر شیئر کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ عام لوگ ان کے جال میں کیوں پھنس جاتے ہیں؟
پاکستان میں بھلے دل اور دوسروں کی مدد کرنے کی خواہش بہت مضبوط ہے۔ خاص طور پر جب کوئی بیرونِ ملک سے امداد دینے کا دعویٰ کرے تو لوگ اپنے خاندان، گھرانے، بیوہ خواتین اور ضرورت مندوں کے بارے میں سوچتے ہوئے جلدی فیصلہ کر لیتے ہیں۔ یہ ہمدردی کا عنصر فراڈیوں کے لیے بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمدرد اور سادہ لوح لوگ اپنے پیاروں اور ضرورت مندوں کے مدد کے جذبے کے تحت اور ثواب کی نیت سے ان کا فراڈیوں کا پیغام آگے پھیلانی کا باعث بن جاتے ہیں۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے! جو ادارے حقیقی طور پر مدد کرتے ہیں وہ کبھی ضرورت مند سے پہلے رقم نہیں مانگتے۔ خیراتی، غیر منافع بخش اور سرکاری تنظیمیں اپنے طریقہ کار کے مطابق مدد فراہم کرتی ہیں لیکن مدد شروع ہونے سے پہلے فیس یا چارجز رکھنا ان کی پالیسی نہیں۔ اس لیے کسی بھی فیس بک یا واٹس ایپ دعوے کو فوراً پرامپٹ مت سمجھیں۔ شک ہونے پر ہمیشہ خود تحقیق کریں اور بلا تحقیق کسی کا چیریٹی پیغام پھیلانے سے گریز کریں۔ اگر واٹس ایپ پر فیس مانگی جائے تو فوری طور پر اس اکائونٹ کو بلاک کر کے اس کی رپورٹ کریں۔ بزرگوں، خواتین، اور کم علم لوگوں کو خاص طور پر اس طرح کے فراڈ سے آگاہ کریں کیونکہ یہ لوگ آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ رہا یہ سوال کہ ان لوگوں اور اکانٹس کی رپورٹنگ کیوں ضروری ہے؟ تو عرض ہے کہ اس طرح کے فراڈ صرف ایک شخص کو نہیں ٹارگٹ کرتے بلکہ پورے نیٹ ورک میں پھیلتے جاتے ہیں۔ آپ کا ایک رپورٹ کرنا کسی اور کی بچت بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں FIA Cyber Crimeاور دیگر ادارے اس قسم کے فراڈ کی روک تھام کر رہے ہیں اور عوام کی رپورٹس ان کے لیے شواہد کا کام دیتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button