ColumnImtiaz Aasi

سہولت بازار مہنگائی کا مستقل حل ہے؟

سہولت بازار مہنگائی کا مستقل حل ہے؟
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کوئی حکومت مہنگائی پر قابو نہیں پا سکی، ماسوائے مارشل لاء ادوار میں فوری اور سخت سزائوں کے خوف سے تاجر برادر ی عوام کو سستے داموں اشیائے خورو نوش فراہم کرتی رہی ہیں۔ عجیب تماشا ہے مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ کی موجودگی کے باوجود حکومت کو سہولت بازار کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟۔ عوام کی بدقسمتی ہے انہیں ایسے حکمرانوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے جن کا تعلق تاجر برادری سے ہے ۔ چنانچہ یہی ایک بڑی وجہ ہے مہنگائی کے خلاف سخت ترین سزائیں دینے کے لئے ابھی تک کوئی آرڈننس جاری نہیں ہو سکا ہے۔ تعجب ہے حکومت مہنگائی کے خلاف سخت سزائوں کا آرڈننس لانے سے کیوں خوف زدہ ہے۔ آئینی مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ عدالت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے اور قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی کے لئے کمیٹیاں قائم کی جا سکتی ہیں تو کیا مہنگائی کے خلاف کوئی نیا آرڈننس کا اجراء پنجاب حکومت کے لئے مشکل ہے؟۔ پنجاب حکومت نے صوبے میں سہولت بازار قائم کرنے کی نوید دی ہے، جس میں عوام کو سستے داموں اشیائے خورو نوش فراہم کئے جانے کا اعلان ہوا ہے۔ پنجاب میں کبھی اتوار بازار، کبھی جمعہ بازار اور اب سہولت بازار قائم کئے جائیں گے۔ ہمارا سوال ہے حکومت مہنگائی کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا آرڈننس جاری نہیں کر سکتی؟ ہمارے خیال میں اس سلسلے میں نئے آرڈننس کے اجراء میں کوئی مشکل نہیں البتہ آرڈننس میں سخت سزائیں دینے سے تاجر برادری کی ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے۔ درحقیقت مسلم لیگ نون کے رہنمائوں کی اکثریت کا تعلق تاجر برادری سے ہے، جب کبھی تاجر برادر ی پر ٹیکسوں میں اضافہ ہوا ان کے احتجاج سے مسلم لیگ نون نے ٹیکسوں میں اضافہ واپس لے لیا۔ گو وزیراعلیٰ پنجاب مسلم لیگ نون کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے شبانہ روز کوشاں ہیں لیکن ماضی قریب میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ نون کی شکست سے یہ واضح ہو گیا تھا پنجاب اب مسلم لیگ نون کا قلعہ نہیں رہا ہے۔ عوام کا اس وقت سب سے بڑا مہنگائی اور بے روز گار ی ہے ۔ کوئی حکومت نوجوان نسل کو نہ تو روز گار نہ ہی مہنگائی پر قابو پا سکی ہے۔ عوام کو جھوٹے وعدوں پر ٹرخایا جاتا ہے مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ وہاں بے روزگار ی ہے۔ جب نوجوان نسل کو روز گار کے مواقع مہیا نہیں کئے جائیں گے تو ان کا بے راہ روی کا شکار ہونا قدرتی امر ہے۔ جب سے مسلم لیگ کی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے ہمارا ملک عدم استحکام کا شکار ہے جس کی وجہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سے حکومت کا اقتدار میں آنا ہے لہذا جب تک ملک میں سیاسی طور پر استحکام نہیں آئے گا نہ ملک میں سرمایہ کاری آئے گی نہ ہمارا ملک ترقی کر سکے گا۔ جو حکومت اقتدار میں آتی ہے وقتی طور پر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کرتی ہے نہ کہ مستقل طور پر لوگوں کو ریلیف دینے کی سعی کی جاتی ہے۔ پاکستان کا دوسرے ملکوں سے موازنہ کریں تو ہمارا واحد ہمارا ملک ہے جہاں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں استحکام نہیں ہے۔ جب سے مسلم لیگ کی حکومت آئی ہے نہ تو ذخیرہ اندزوں نہ ہی مہنگائی کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ عوام کو چند روزہ ریلیف دینے کے بعد لوگوں کو کاروباری لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نگران دور میں کے پی کے میں جلسہ عام میں عوام سے اس بات کا وعدہ کیا تھا وہ کپڑے بیچ کر انہیں سستا آٹا فراہم کریں گے۔ آج شہباز شریف کا وعدہ کہاں ہے عوام کو آٹا انتہائی مہنگے داموں میسر ہے ۔ پرچون فروشوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ہرروز اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ اس امر کا غماز ہے حکومت کا قیمتوں پر کسی قسم کا کنٹرول نہیں ہے جو کسی کمزور حکومت کی نشاندہی ہے۔ ہم سعودی عرب کی مثال پیش کریں گے جہاں پورے ملک میں اشیائے ضرورت کی یکساں قیمتیں ہیں۔ کیا مجال کوئی دکاندار اپنے طور پر چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کرے جب کہ اس کے برعکس ہمارا ملک ہے جہاں قریہ قریہ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اتار چڑھائو دیکھنے میں آتا ہے۔ اگر حکومت مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف قانون سازی کرکے مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب تاجروں کو بڑی بڑی سزائیں دینے کا آرڈننس جاری کرے تو یہ بات یقینی ہے اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں تاجر برادری کا حکومت سے ناراض ہونا قدرتی بات ہے جو حکومت کسی طرح افورڈ نہیں کر سکتی۔ کمزور حکومتوں کی یہ نشانی ہوتی ہے جہاں اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر کنٹرول نہیں ہو پاتا ہے۔ مسلم لیگ کی حکومت کمزور حکومت واقع ہوئی ہے جس کی وجہ عوامی مینڈیٹ کے برعکس اسے اقتدار میں لایا گیا ہے۔ اگر حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کی ہوتی کم از کم اشیائے ضرورت کی چیزوں میں اعتدال لا سکتی تھی۔ حکومت کسی طرح اپنے اقتدار کو طوالت دینے کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی سے اتنی خائف ہے انہیں نہ تو جلسہ نہ ہی جلوس نکالنے کی اجازت ہوتی ہے اس کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سندھ کے عوام نے جس طرح پذیرائی دی وہ ریکارڈ ہے۔ سندھ میں عوام سے خطاب سے عیاں ہوتا ہے عوام پی ٹی آئی کے ساتھ ہے اور مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے عاجز آئے ہوئے ہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد جیلوں میں ہے۔ ستم ظرفی دیکھئے جن جن لوگوں کو سول اور فوجی عدالتوں سے سزائیں ہوئی ہیں ان کی اپیلیں سماعت نہیں ہو رہی ہیں جو دور آمریت کی یاد دلاتا ہے۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کا خاصہ ہے، انہی کے دور میں ملک کے آئین سے کھلواڑ کیا گیا، اعلیٰ عدالتوں کے ججوں پر دبائو ڈال کر فیصلے کرانے کی روایت انہی دو جماعتوں کے دور میں ڈالی گئی۔ پنجاب حکومت عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی بجائے سہولت بازاروں کا سہارا لے رہی ہے عوام کے دلوں کو کیسے موڑا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button