ColumnQadir Khan

ایران کے عوام کہاں کھڑے ہیں؟

ایران کے عوام کہاں کھڑے ہیں؟
قادر خان یوسف زئی
اقتدار کے ایوانوں سے لے کر جلاوطنی کی تنہائیوں تک، تاریخ کا سفر ہمیشہ حیران کن موڑ لیتا ہے۔ واشنگٹن کے پرآسائش ہال میں کھڑے ہو کر جب ایران کے آخری بادشاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے دنیا سے یہ مطالبہ کیا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC)پر ’’ سرجیکل اسٹرائیکس ‘‘ کی جائیں، تو یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی خطرناک بساط پر چلنے والی چال تھی جس کے نتائج خود ایرانی عوام کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ رضا پہلوی کا یہ کہنا کہ غیر ملکی طاقتیں ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو نشانہ بنائیں تاکہ ’’ مزید جانوں کا ضیاع روکا جا سکے ‘‘، ایک ایسا بیانیہ ہے جو سننے میں شاید دلفریب لگے، مگر زمینی حقائق کی بھٹی میں یہ موم کی طرح پگھل جاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب کوئی جلاوطن رہنما غیر ملکی بمبار طیاروں کو اپنے ہی ملک کی فضائوں میں دعوت دیتا ہے، تو وہ دراصل اپنی سیاسی ساکھ کو ایک ایسے جوئے پر لگا رہا ہوتا ہے جہاں واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
رضا پہلوی، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مغرب میں مقیم ہیں، اس وقت خود کو ایرانی اپوزیشن کا سب سے توانا چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کا یہ مطالبہ کہ غیر ملکی طاقتیں ایران پر حملے کریں، ان کی اپنی سیاسی بصیرت پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایران کوئی لیبیا یا عراق نہیں ہے۔ ایران کا ریاستی ڈھانچہ، بالخصوص پاسدارانِ انقلاب، صرف ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک معاشی اور سیاسی سلطنت ہے جس کی جڑیں ایرانی سماج کے ایک خاص طبقے میں گہری ہیں۔ رضا پہلوی کا یہ مطالبہ کہ اس ڈھانچے پر ’’ سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کی جائے، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ شاید ایران کے اندرونی زمینی حقائق سے کٹے ہوئے ہیں۔ ’’ سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کا لفظ فوجی لغت میں جتنا نفاست والا لگتا ہے، حقیقت میں اس کے اثرات اتنے ہی بھیانک اور غیر متوقع ہوتے ہیں۔ جب بم گرتے ہیں تو وہ یہ تمیز نہیں کرتے کہ نیچے کھڑا شخص حکومت کا حامی ہے یا مخالف۔
واشنگٹن میں ہونے والی پریس کانفرنس میں رضا پہلوی کا یہ کہنا کہ ایرانی حکام نے مظاہروں کو کچلنے کے لیے غیر ملکی جنگجوئوں کو مدعو کیا ہے، ایک سنگین الزام ہے جس کا مقصد عالمی برادری، بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو متوجہ کرنا ہے۔ لیکن یہاں ایک تاریخی تضاد بھی موجود ہے۔ کیا ایرانی عوام، جو موجودہ حکومت کے جبر سے تنگ ہیں، واقعی رضا پہلوی کے والد کے دور کو بھول چکے ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ پہلوی دور میں بھی ’’ ساواک‘‘ کے نام سے جو خوف کی فضا قائم تھی، وہ آج بھی کئی ایرانیوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ اگرچہ نوجوان نسل شاید اس دور کو ایک رومانوی انداز میں دیکھتی ہو، لیکن ایران کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو نہ تو ملا کی حکومت چاہتا ہے اور نہ ہی بادشاہت کی واپسی۔ وہ جمہوریت چاہتے ہیں، مگر وہ جمہوریت جو ایرانی عوام کے ووٹوں سے آئے، نہ کہ امریکی میزائلوں کے سائے میں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا دوسرا دور اور ان کی ’’ امریکہ سب سے پہلے‘‘ کی پالیسی بھی اس سارے منظرنامے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ ایران کے حوالے سے سخت گیر رویہ رکھتے ہیں، لیکن کیا وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ چھیڑنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ ’’ سرجیکل اسٹرائیکس‘‘ کا مطالبہ دراصل امریکہ کو براہِ راست تنازعے میں گھسیٹنے کی کوشش ہے۔ پہلوی یہ سمجھتے ہیں کہ شاید معاشی دبائو اور سفارتی بائیکاٹ کافی نہیں رہا، اس لیے اب کاینیٹک ایکشن (Kinetic Action)کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے ایرانی سفارت کاروں کو نکالنے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے، جو کہ ایک متنازعہ جانبدارنہ موقف ہے، کیونکہ فوجی حملے کا مطالبہ اس جواز کی برتری کو دھندلا دیتا ہے۔ جب آپ جمہوریت اور انسانی حقوق کا علم اٹھا کر غیر ملکی بمباری کی مانگ کرتے ہیں، تو آپ دراصل اپنے ہی عوام کو ایک نئی قسم کی بربادی کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں۔اس تمام تر صورتحال میں ایران کے عوام کہاں کھڑے ہیں؟ ایک عام ایرانی، جو مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی پابندیوں سے تنگ ہے، وہ یقیناً تبدیلی چاہتا ہے۔ لیکن کیا وہ یہ تبدیلی اپنے سروں پر گرتے ہوئے بموں کی قیمت پر چاہتا ہے؟ شاید نہیں۔ رضا پہلوی اور ان کی مشیروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انقلاب برآمد نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی انہیں میزائلوں کے ذریعے مسلط کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایرانی حکومت کو گرنا ہے تو اسے ایرانی عوام کے ہاتھوں ہی گرنا ہوگا، اسی صورت میں آنے والا نظام پائیدار ہو سکتا ہے۔ اگر تبدیلی باہر سے آئی، تو وہ اپنے ساتھ وہی افراتفری اور عدم استحکام لائے گی جو ہم نے عراق اور افغانستان میں دیکھا۔ رضا پہلوی کا یہ بیانیہ کہ ’’ سرجیکل اسٹرائیک‘‘ سے کام آسان ہو جائے گا، دراصل جنگ کی ہولناکیوں سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ جنگ کبھی بھی کام آسان نہیں کرتی، یہ مسائل کو پیچیدہ اور نسلوں کو اپاہج کر دیتی ہے۔ آج کی دنیا میں، جہاں معلومات کا سیلاب ہے اور پراپیگنڈے کی جنگیں لڑی جا رہی ہیں، رضا پہلوی جیسے جلاوطن رہنمائوں کے لیے سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنا آسان ہے، لیکن زمین پر موجود ایک عام ایرانی کے لیے حقیقت بہت تلخ ہے۔ وہ ایک طرف ریاستی جبر کا شکار ہے تو دوسری طرف اسے یہ خوف لاحق ہے کہ اگر ملک میں خانہ جنگی چھڑ گئی یا غیر ملکی حملہ ہو گیا، تو اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ ۔
مبصرین کا خیال ہے کہ رضا پہلوی کی جانب سے یہ انتہائی مطالبہ دراصل ان کی فرسٹریشن (Frustration)کا بھی عکاس ہے۔ ایران کے موجودہ نظام کے حامی، جو کہ تعداد میں کم نہیں ہیں، اس بیرونی خطرے کو دیکھ کر مزید شدت سے حکومت کے گرد اکٹھے ہو سکتے ہیں۔آخر میں، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے پریس کانفرنسوں یا غیر ملکی دارالحکومتوں میں نہیں، بلکہ ان ملکوں کی گلیوں اور چوراہوں میں ہوتے ہیں۔ رضا پہلوی کا درد اور ان کی خواہش اپنی جگہ، لیکن ان کا راستہ خطرات سے بھرپور ہے۔ ایران کا مستقبل ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، نہ کہ کسی غیر ملکی پائلٹ کے ہاتھ میں جو ہزاروں فٹ بلندی سے ’’ سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کے لیے بٹن دبائے۔ یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے یہ سوچنے کا ہے کہ ایران کو ایک اور شام یا لیبیا بننے سے کیسے بچایا جائے۔

جواب دیں

Back to top button