پارسائی ایک ڈھونگ ہے

پارسائی ایک ڈھونگ ہے
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
ایک بادشاہ تھا، جس کے محل کی زینت دنیا کے ہر نایاب خزانے سے بڑھ کر تھی۔ وہ دن رات اپنے دربار میں پارسائی، زہد اور تقویٰ کی باتیں کرتا۔ ایک دن اس نے درویش سے پوچھا’’ کیا پارسائی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان خواہشات سے بالکل آزاد ہو جائے؟ ‘‘۔ درویش مسکرا کر بولا، ’’ بادشاہ سلامت، پارسائی کا تقاضا یہ نہیں کہ تم انسان ہونے کی حقیقت سے منہ موڑ دو، بلکہ یہ ہے کہ تم اپنے دل کی سچائی کو سمجھو‘‘۔ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا’’ دل کی سچائی؟ ‘‘۔ درویش نے کہا، ’’ ہاں، وہ سچائی جسے زہد کے نقاب سے چھپایا جاتا ہے، وہی اصل گناہ کی جڑ ہے‘‘۔
رابعہ بصریؒ کے پاس ایک نوجوان خوبرو لڑکی آئی اور کہنے لگی، مجھے بھی آپ کی طرح متقی اور پرہیز گار بننا ہے۔ انہوں نے اس نوجوان لڑکی کو نصیحت کی کہ ’’ نکاح کرلو، پارسائی کی تمنا نہ کرو، دل کی پاکیزگی سب سے بڑی عبادت ہے‘‘۔ تو وہ ایک عظیم سچائی اور فطرت کی ایک حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ ایک لمحے کا لمس، صدیاں کاٹے ہوئے چِلّوں، سجدوں، اور زہد کے دعوئوں کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رب نے حلال راستے بنا دیئے، تاکہ انسان کا دل پاکیزہ رہے، روح سکون پائے، اور پارسائی کا ڈھونگ نہ رچایا جاسکے۔
آدم کو بھی پارسائی نے گناہ سے نہ بچایا۔ شجرِ ممنوعہ کا پھل کھا کر وہ بھی اسی فطرت کے سامنے ہار گیا، جسے رب نے خود انسان میں رکھا ہے۔
فلسفی ارسطو نے بھی کہا کہ ’’ انسان فطرت سے جڑا ہے، اور فطرت کے خلاف جانا خودکشی ہے، چاہے وہ جسمانی ہو یا روحانی‘‘۔
’’ پارسائی‘‘ ایک ایسا لفظ ہے، جو سننے میں روح کی بلندی کا پیغام دیتا ہے، مگر اس کے پردے میں اکثر نفس کی شکست، فطرت سے بغاوت اور دل کی پیاس چھپی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے زہد و پارسائی کے نام پر یا تو اپنی فطری ضرورتوں کو کچلا یا پھر اس کے پس پردہ گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اور یہی کچلا ہوا جذبہ یا گناہ انسان کو اصل میں سب سے اندھیری راستوں پر لے گیا۔ پارسا ہاتھ، گناہ کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں، اور وہ اس کی حقیقت کو پارسائی کی چادر سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو یقیناً عظیم گناہ کا سبب بن جاتا ہے۔ پھر خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پارسائی، انسانوں سے گناہ پوشیدہ رکھنے کا ایک راستہ تو نہیں۔ یا پھر پارسائی کی پرچھائی میں انسان اپنے نفس کی سچائی سے نظریں چراتا ہے۔ دل کی پیاس کو دبانا ہی اصل گناہ کی جڑ بن جاتا ہے۔
یہ بات آج بھی ہماری زندگیوں پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ انسان نے تاریخ کے ہر دور میں زہد و پارسائی کے نام پر اپنے فطری جذبوں کو دبایا، اور یہی دبا اکثر اخلاقی شکستوں، اضطراب اور نفسیاتی زخموں کا سبب بن گیا۔ یا پارسائی کے ڈھونگ میں گناہوں کو لوگوں کے سامنے چھپایا۔
کائنات میں ہر چیز توازن پر مبنی ہے۔ پارسائی کا ڈھونگ اس توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ اصل پاکیزگی وہ ہے جو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، دل کی پیاس اور روح کی خواہش کو مناسب اور نیک راستے سے پورا کرے۔ پارسائی کے پردے میں انسان اپنی فطرت کی حقیقت سے منہ موڑتا ہے، یا پارسائی کے پردے میں غلط کام کرتا ہے، جو گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے۔
مگر بقول شاعر
پسِ بازار بھی بِک جاتے ہیں بِکنے والے
کتنے سودے سرِ بازار نہیں بھی ہوتے۔
پارسائی بھی کہیں ڈھونگ ہوا کرتی ہے
کچھ گنہگار، گنہگار نہیں بھی ہوتے۔





