جیلوں میں منشیات کی فروخت اور کارروائی

جیلوں میں منشیات کی فروخت اور کارروائی
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
یہ بات اب کھلا راز ہے پنجاب کی جیلوں میں منشیات کی فروخت ہوتی ہے، لیکن جب سے پنجاب کے موجودہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اپنا منصب سنبھالا ہے، مانیٹرنگ ٹیمیں کچھ زیادہ متحرک ہو گئی ہیں ۔ چنانچہ جیسے ہی کوئی شکایت موصول ہوتی ہے سیکرٹری داخلہ کی ہدایت پر یہ ٹیمیں جیلوں میں چھاپے مارتی ہیں۔ ایسی ایک شکایت قیدیوں کی طرف سے موصول ہونے پر مانیٹرنگ ٹیم نے ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں اچانک چھاپہ مارا تو لنگر خانے کے ایک قیدی سے آئس، چرس اور کئی ہزار روپے برآمد ہوئے۔ جیلوں میں عام طور پر جب کوئی چھاپہ مار ٹیم آتی ہے تو اس کی قبل از وقت اطلاع یابی پر جیل کا عملہ اپنے معاملات ٹھیک کر لیتا ہے، شائد اب مانیٹرنگ ٹیموں کے چھاپے کی قبل از وقت اطلاع نہیں ہو پاتی ہے۔ اٹک جیل سے منشیات کی برآمدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے جیل میں مانیٹرنگ ٹیموں کے چھاپوں کی پیشگی اطلاع نہیں ہو پاتی ہے۔ پنجاب کی جیلوں کے جہاں اور کئی سپرنٹنڈنٹس کو تبدیل کیا گیا ہے، وہاں سینٹرل جیل کے اڈیالہ جو اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس کی وجہ وہاں پی ٹی آئی کا بانی قید و بند میں ہے وہاں کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کو تبدیل کرکے سینٹرل جیل فیصل آباد کا سپرنٹنڈنٹ لگایا گیا ہے۔ عبدالغفور انجم قریبا پونے دو سال راولپنڈی تعینات رہے، اس دوران انہوں نے اپنے خلاف پی ٹی آئی کی دائر ہونے والی بے شمار رٹ پیٹشنز پر کارروائی رکوا کر اپنی اہلیت کا ثبوت دیا۔ پنجاب کی جیلوں کے قابل ترین اور اعلی ٰ تعلیم یافتہ سپرنٹنڈنٹ ہونے کے ناطے عبدالغفور انجم نے بغیر کوئی دبائو قبول کئے اپنے فرائض بڑی کامیابی سے ادا کئے۔ اب ہم اٹک جیل کی بات مکمل کرتے ہیں منشیات کی برآمدگی کے بعد وہاں تعینات سپرنٹنڈنٹ اشتیاق گل کو ملازمت سے فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور انہیں آئی جی آفس رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے، ان کی جگہ ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہائوالدین سے حق نواز کو نیا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق ابھی اٹک جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور کئی اور ملازمین کے خلاف کارروائی ہونا باقی ہے۔ مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ پر قیدی اور کچھ ملازمین کے خلاف اٹک کے تھانے میں ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے۔ جیلوں میں منشیات کی فروخت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو، چیف چکر اور ہیڈ وراڈر کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ جیلوں میں کبھی موبائل فون بہت بڑی آمدن کا ذریعہ تھا۔ گو کہ اب بھی جیلوں میں موبائل قیدیوں نے رکھے ہوئے ہیں، البتہ موبائل فون پی سی اوز ختم ہو گئے ہیں، جس کی وجہ قیدیوں کے لئے سرکاری طور پر اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کے لئے پی سی اوز نصب ہیں۔ جیلوں سے منشیات کی برآمدگی سے سوال ذہنوں میں آتا ہے آخر منشیات اندر کیسے جاتی ہیں، تو میں اس راز سے بھی پردہ اٹھا دیتا ہوں۔ سب سے پہلے جیلوں کی ڈیوڑھی میں متعین ملازمین کا راست باز ہونا بہت ضروری ہے، اگر وہ نہ چاہیں تو کوئی غیر قانونی چیز اندر نہیں جا سکتی۔ ایک طریقہ واردات یہ بھی ہے جیلوں کی بیرونی دیواروں پر ٹاور بنائے گئے ہیں۔ اگرچہ انگریز دور میں یہ ٹاور نہیں ہوا کرتے تھے، جیلوں میں ٹاور کئی عشرے قبل بنائے گئے، جہاں چوبیس گھنٹے مسلح ملازم موجود ہوتے ہیں۔ آج کل زیادہ تر منشیات کوٹ موکا پر بنائے گئے ٹاورز کے راستے اندر بھیجی جاتی ہیں۔ جیل کا ایک ہیڈ وارڈر ڈیوٹی بک ہوتا ہے، جو ملازمین کی ڈیوٹی لگاتا ہے، اس کی مبینہ ملی بھگت سے ملازمین اپنی ڈیوٹی کوٹ گشت پر لگوا لیتے ہیں اور کوٹ موکا پر تعینات وارڈرز کی مبینہ ملی بھگت سے منشیات کوٹ موکا سے جیل کی بیرونی دیوار سے نیچے گرا دیتے ہیں، جس کے بعد کوٹ گشت والے ملازمین منشیات اور موبائل اٹھا کر متعلقہ قیدیوں تک پہنچاتے ہیں۔ کوٹ موکا کے راستے غیر قانونی اشیاء کی آمد کوئی نئی بہت نہیں بلکہ بہت پرانا طریقہ واردات ہے۔ سب جیل شجاع آباد کے سپرنٹنڈنٹ ٹیپو سلطان کو ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہائوالدین کا سپرنٹنڈنٹ لگایا گیا ہے وہ اس سے قبل بھی منڈی بہائوالدین جیل کے چند ماہ سپرنٹنڈنٹ رہ چکے تھے۔ ٹیپو سلطان کی مدت ملازمت سال رواں میں ختم ہونے والی ہے محکمہ جیل خانہ جات نے انہیں ریٹائرمنٹ سے قبل ڈسٹرکٹ جیل کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کرکے اچھا قدم اٹھایا ہے۔ ٹیپو سلطان ایک دلیر جیلر کی شہرت رکھتے ہیں وہ کئی سال تک سنٹرل جیل اڈیالہ میں اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ سینٹرل جیل راولپنڈی میں ساجد بیگ کو سینٹرل جیل فیصل آباد سے تبدیل کرکے یہاں بھیجا گیا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے بانی کے جیل میں ہونے کی بنا ان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں اور ورکرز کے دھرنوں کی وجہ سے اڈیالہ روڈ عالمی شہرت اختیار کر چکی ہے ۔ راولپنڈی جیل میں دوسری جیلوں کی نسبت سیاسی دبائو کچھ زیادہ ہوتا ہے گو اڈیالہ جیل مال پانی کے اعتبار سے پنجاب کی جیلوں میں سرفہرست ہے لیکن یہاں سیاسی دبائو اور پی ٹی آئی کی طرف سے عدالتوں میں درخواستوں کے جوابا ت دینے کے لئے ایک خصوصی قانون دان کی ضرورت ہے۔ تبدیل ہونے والے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم نے نہ تو بیرونی دبائو قبول کی نہ ہی عدالتی کارروائیوں سے کبھی خوف کا شکار ہوئے اور اپنے فرائض دل جمعی سے ادا کئے۔ عبدالغفور انجم کا رویہ قیدیوں کے ملاقاتیوں، وی آئی پیز اور جڑواں شہروں کے صحافیوں سے ہمیشہ دوستانہ رہا ۔ راولپنڈی کی سینٹرل جیل ایسی حساس جیل سے باعزت رخصت ہونا سپرنٹنڈنٹ کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ بہرکیف سیکرٹری داخلہ پنجاب کی طرف سے جیلوں میں مانیٹرنگ ٹیموں کا بھیجے جانا قید خانوں سے مبینہ کرپشن کے خاتمے کے لئے ایک اچھی کاوش ہے۔ جیلوں میں مانیٹرنگ ٹیموں کے اچانک دوروں سے امید کی جا سکتی ہے جیلوں میں کرپشن ختم نہیں تو کم از کم کچھ کمی ضرور واقع ہو جائے گی۔ پنجاب کی جیلوں میں مبینہ کرپشن کے ایسے ایسے طریقے رائج ہیں جن کا ذکر آئندہ کالموں میں ضرور کروں گا تاکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے علم میں لایا جا سکے۔





