Column

پاک چین کی لازوال دوستی

پاک چین کی لازوال دوستی

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کی نائب وزیر سن ہائی یان سے ملاقات اور دوسری جانب پاکستان آسان خدمت مرکز کے افتتاح، ریلوے اصلاحات اور نجی شعبے سے مشاورت پر مبنی اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت خارجہ محاذ پر اعتماد سازی اور داخلی سطح پر انتظامی اصلاحات کو بیک وقت آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ خبریں اگرچہ بظاہر مختلف نوعیت کی ہیں، مگر درحقیقت پاکستان کے موجودہ سیاسی، معاشی اور سفارتی بیانیے کا جامع عکس پیش کرتی ہیں۔ چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ واضح اور دوٹوک بیان کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہر حال میں غیر متزلزل رہے گا اور ایک چین پالیسی پر پاکستان کا عزم اٹل ہے، نہ صرف سفارتی تسلسل کی علامت ہے بلکہ بدلتی عالمی حالات میں ایک واضح پیغام بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں بلاکس کی تشکیل اور طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کی توثیق ایک سوچا سمجھا اور حقیقت پسندانہ فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ خصوصی طور پر پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) کے دوسرے مرحلے پر زور دینا اس امر کا غماز ہے کہ حکومت اب صرف انفرا اسٹرکچر تک محدود رہنے کے بجائے صنعتی تعاون، برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینا چاہتی ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سی پیک کے ثمرات واقعی عام آدمی تک پہنچ پا رہے ہیں؟ ماضی میں منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان جو خلا رہا ہے، اسے پُر کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ چینی قیادت کے لیے نیک تمناں اور صدر شی جن پنگ کو دورہ پاکستان کی دعوت اس بات کی علامت ہے کہ اسلام آباد بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو محض رسمی سطح پر نہیں بلکہ عملی اور نتیجہ خیز بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کی معاشی و سیاسی استحکام کی کوششوں کی تعریف سفارتی سطح پر ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر اصل امتحان اندرونی محاذ پر اصلاحات کی رفتار اور شفافیت ہے۔ دوسری جانب پاکستان آسان خدمت مرکز کا قیام ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ عوامی خدمات کو ایک چھت تلے فراہم کرنے کا تصور پاکستان کے لیے نیا نہیں، مگر اس پر سنجیدگی سے عمل درآمد پہلی مرتبہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیراعظم کا اسٹاف کی تربیت، خوش اخلاقی اور احترام پر زور دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ محض عمارتیں اور نظام کافی نہیں ہوتے، بلکہ رویے اور ادارہ جاتی ثقافت ہی عوام کا اعتماد بحال کر سکتی ہے۔ آذربائیجان کے تعاون سے اسلام آباد میں پہلے آسان خدمت مرکز کا قیام بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرنے کی ایک مثال ہے۔ اگر اس ماڈل کو واقعی بین الاقوامی معیار کے مطابق وسعت دی گئی اور کارکردگی کے اہداف کے ساتھ تھرڈ پارٹی آڈٹ کو یقینی بنایا گیا تو یہ قدم بیوروکریسی کے فرسودہ نظام کو بدلنے میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ اچھے منصوبے اکثر سیاسی عدم تسلسل، وسائل کی کمی اور انتظامی سستی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان ریلوے سے متعلق وزیراعظم کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ملکی معیشت کی بحالی میں بڑے سرکاری اداروں کی اصلاح ناگزیر ہے۔ پاکستان ریلوے دہائیوں سے خسارے، بدانتظامی اور نظراندازی کا شکار رہا ہے۔ نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر غور کرنا ایک درست سمت کی نشان دہی کرتا ہے، مگر اس کے لیے سیاسی عزم، ادارہ جاتی خودمختاری اور شفاف فیصلہ سازی لازمی ہوگی۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ماضی میں ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، ایک تلخ حقیقت ہے۔ اگر آئندہ پی ایس ڈی پی میں واقعی ریلوے کو متناسب بجٹ فراہم کیا جاتا ہے اور اسے جدید کمرشل مواصلاتی نظام کا حصہ بنایا جاتا ہے تو نہ صرف قومی آمدن میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ علاقائی رابطہ کاری میں بھی پاکستان کا کردار مضبوط ہو سکتا ہے۔ ان تمام اقدامات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حکومت ایک جامع حکمت عملی کے تحت خارجہ محاذ پر مضبوط شراکت داری، داخلی سطح پر عوامی سہولت اور معیشت کی بحالی کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم عوام کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ اعلانات اور منصوبے عملی شکل اختیار کریں گے یا ماضی کی طرح فائلوں اور تقاریر تک محدود رہیں گے؟ پاکستان اس وقت جس معاشی دبا، مہنگائی اور عوامی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے، اس میں محض وعدے کافی نہیں۔ چین جیسے قریبی دوست کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی یقیناً اہم ہے، مگر اس کے ساتھ اندرونی نظم و نسق، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی بحالی ہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو حقیقی استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ اگر حکومت ان محاذوں پر مستقل مزاجی، شفافیت اور عملی نتائج دکھانے میں کامیاب ہوگئی تو یہ اقدامات تاریخ میں مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

کے پی میں 13دہشتگرد ہلاک

خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور کرم میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13دہشتگردوں کی ہلاکت ایک اہم پیش رفت ہے، جو اس امر کی واضح علامت ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف پرعزم ہے بلکہ عملی سطح پر موثر نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف بروقت اور ٹھوس کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیکیورٹی ادارے دشمن کے عزائم سے بخوبی آگاہ اور ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے سے خیبر پختونخوا اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور عوام کے حوصلے پست کرنا تھا۔ ایسے حالات میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں نہایت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ اس حکمت عملی سے نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ضلع بنوں میں آٹھ اور کرم میں پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت مہلت دینے کے لیے تیار نہیں۔ کلیئرنس اور سرچ آپریشنز کا تسلسل اس عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر دہشت گردوں سے پاک کرنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ خاص طور پر غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے تدارک کے لیے یہ اقدامات نہایت ناگزیر ہیں۔ قومی ایکشن پلان اور وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا ہدف واضح اور دوٹوک ہے۔ یہ وژن محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی ہے جس کے تحت فوج، قانون نافذ کرنے والی ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں باہمی تعاون سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا رہی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی پذیرائی اور قوم کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی اس قومی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے تدارک کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ سرحدی سیکیورٹی، انتہاپسند سوچ کا خاتمہ، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی یکساں اہم ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ متاثرہ علاقوں میں ترقی، روزگار اور تعلیم کے مواقع بڑھا کر دہشت گرد عناصر کی جڑیں کمزور کرے۔ مجموعی طور پر بنوں اور کرم میں حالیہ کامیاب کارروائیاں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔ قوم کو بھی چاہیے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی رہے تاکہ ملک کو اس ناسور سے ہمیشہ کے لیے پاک کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button