Column

غزہ: خاموشی بھی جرم ہے

غزہ: خاموشی بھی جرم ہے
تحریر: ثناء اللہ مجیدی
دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹا سا خطہ ہے، جسے غزہ کہا جاتا ہے، مگر اس کی سرزمین پر بہنے والا خون آج پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک ایسا سیاہ دھبہ بن چکا ہے جسے وقت بھی شاید مٹا نہ سکے۔ غزہ میں آج عمارتیں نہیں ڈھائی جا رہیں بلکہ وہاں تہذیب، اخلاق، انسانی حقوق اور انصاف کے وہ تمام دعوے ملبے تلے دفن ہو رہے ہیں جن پر جدید دنیا کو ناز تھا۔ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے، اسے محض جنگ کہہ دینا حقیقت سے فرار ہے یہ ایک منظم، سوچا سمجھا اور مسلسل جاری ظلم ہے، جسے عالمی طاقتوں کی خاموشی نے مزید وحشی بنا دیا ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ نہیں کہ ظلم ہو رہا ہے، کیونکہ تاریخ انسانی ظلم سے بھری پڑی ہے، اصل المیہ یہ ہے کہ آج ظلم پوری دنیا کی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے، مگر دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ وہ اقوام جو انسانی حقوق کی علمبردار بن کر دنیا کو درس دیا کرتی تھیں، آج ان کی زبانیں گنگ ہیں، ان کے ضمیر منجمد ہیں، اور ان کے بیانات محض رسمی الفاظ کا مجموعہ بن چکے ہیں۔ غزہ میں بچوں کی لاشیں اٹھتی ہیں، مائوں کی گودیں اجڑتی ہیں، اور پورے خاندان مٹ جاتے ہیں، مگر بین الاقوامی فورمز پر اسے ایک ناقابلِ توجہ تفصیل سمجھ کر فراموش کر دیا جاتا ہے۔
یہ زمین کوئی نئی مظلوم نہیں۔ صدیوں سے یہ خطہ آزمائشوں سے گزرتا آیا ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں انبیائے کرامٌ کا پیغام گونجا، جہاں عدل، رحم اور انسانیت کی تعلیم دی گئی۔ مگر آج اسی سرزمین پر ظلم کی وہ داستان رقم ہو رہی ہے جس پر تاریخ بھی شرمندہ ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا کبھی محبت اور انصاف کا درس دیتے تھے، مگر آج انہی تہذیبوں کے وارث اس ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ غزہ کے بچے جب بمباری کے شور میں چیختے ہیں، تو دنیا کے ایوانوں میں کوئی ہلچل نہیں مچتی، بلکہ میڈیا کی زبان میں یہ محض ایک ’خبر‘ بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ المیہ اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ انسانیت کا قتل اب آسان ترین عمل بن گیا ہے، خاص طور پر جب ظلم کی باگ ڈور طاقتور ہاتھوں میں ہو اور نشانہ فلسطینی ہوں۔ غزہ میں ہلاکت خیزی صرف بموں تک محدود نہیں رہی، سرد موسم بھی ایک موثر ہتھیار بن چکا ہے۔ بمباری کے بعد جیسے ہی خاموشی چھاتی ہے، سرد ہوائیں اپنی جان لیوا یلغار شروع کر دیتی ہیں۔ ملبے تلے علاقے، تباہ شدہ مکانات اور بے آسرا خیمے ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں جہاں زندہ بچ جانا بھی غیر معمولی بات محسوس ہوتی ہے۔
خیموں میں ٹھٹھرتے ہوئے بچے، بھوک سے نڈھال بزرگ، اور مائوں کے سہمے ہوئے چہرے آج پوری دنیا کے ضمیر پر ایک سوال ہیں۔ مگر یہ سوال کسی کو جھنجھوڑ نہیں پاتے، کیونکہ ہم نے ظلم کو معمول بنا لیا ہے۔ عالمی تنظیمیں رپورٹس جاری کرتی ہیں، قراردادوں کے مسودے تیار ہوتے ہیں، کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں، مگر زمین پر کچھ نہیں بدلتا۔ انصاف کے الفاظ کاغذوں میں دفن ہو جاتے ہیں، جبکہ غزہ کے لوگ حقیقی ملبے تلے دبے رہتے ہیں۔
یہ کہنا کسی مبالغے پر مبنی نہیں کہ غزہ میں سردی اب خود ایک قاتل بن چکی ہے۔ وہ بچے جو بمباری سے بچ گئے تھے، اب برفانی ہوائوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بچوں کو ملبے سے نکالا، اب انہیں زندہ رکھنے کے لیے اپنا وجود جلانے پر مجبور ہیں۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا ظلم ہے۔ جب تعمیراتی سامان پر پابندیاں ہوں، جب پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جائے، جب بنیادی سہولتیں جان بوجھ کر ختم کر دی جائیں، تو پھر بارش بھی بم بن جاتی ہے اور سردی بھی گولی۔
غزہ کے ستر فیصد سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ جو عمارتیں کسی طرح کھڑی ہیں، وہ بھی موت کے دہانے پر ہیں۔ ان کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں، دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ ایک معمولی جھٹکا، ایک تیز بارش، اور پوری عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے۔ یہ مکانات اب رہنے کی جگہ نہیں رہے، یہ اجتماعی قبریں بن چکے ہیں۔ وہاں بسنے والا ہر شخص ہر رات اس خوف کے ساتھ سوتا ہے کہ شاید یہ اس کی آخری رات ہو۔
خیموں کی بستیوں میں زندگی کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے۔ نہ مناسب دیواریں ہیں نہ چھت نہ سردی سے بچا کا کوئی انتظام۔ ایک لاکھ ستائیس ہزار سے زائد خیمے ناکارہ ہو چکے ہیں، اور انیس لاکھ سے زیادہ انسان اپنے ہی وطن میں مہاجر بن چکے ہیں۔ ان کے پاس زمین ہے مگر مکان نہیں، وطن ہے مگر پناہ نہیں۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو خوف آتا ہے کیونکہ بادل ان کے لیے رحمت نہیں بلکہ خطرے کی علامت ہیں۔
چند دن قبل دو معصوم بچوں کی سردی سے موت کی خبر عالمی میڈیا پر آئی مگر وہ محض چند لمحوں کی سرخی بن کر رہ گئی۔ نہ کوئی ہنگامی اجلاس ہوا، نہ کوئی موثر احتجاج۔ ایک ایسی دنیا جو ایک جانور کے مرنے پر چیخ اٹھتی ہے، وہ دو انسانوں کی موت پر خاموش رہی۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟ کیا انسان کی جان کی قیمت اب اس کی قومیت اور طاقت سے طے کی جاتی ہے؟
اصل سانحہ مگر وہ ہے جو نظر نہیں آتا۔ وہ خوف، وہ ذہنی تھکن، وہ ٹوٹا ہوا اعتماد جو ہر فلسطینی کے اندر دفن ہو چکا ہے۔ وہ بچہ جو رات کو سونے سے پہلے ماں سے پوچھتا ہے: ’’ امی، کیا ہم کل بھی زندہ ہوں گے؟‘‘۔ یہ سوال کسی بھی زندہ ضمیر کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے، مگر ہم نے اسے بھی معمول بنا لیا ہے۔
ہم نے ظلم کو قبول کر لیا ہے، ہم نے خاموشی کو عادت بنا لیا ہی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی خود ایک جرم ہے۔ جب ظلم کے مقابلے میں زبان بند ہو جائے تو وہ زبان ظالم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ جب غیرت سو جائے تو ظلم کو مزید طاقت ملتی ہے۔ اور جب امتِ مسلمہ اپنی بے بسی پر راضی ہو جائے تو دنیا کے نقشے پر خون کی لکیریں اور گہری ہو جاتی ہیں۔
آج انصاف کے نعرے لگانے والے بھی شریکِ جرم ہیں، کیونکہ ان کی خاموشی ظلم کو زندگی بخش رہی ہے۔ طاقتور اقوام، ان کے سفارت خانے، اور انسانی حقوق کے ادارے سب جانتے ہیں کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے، مگر ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ انہیں اپنی معیشت کی فکر ہے، اپنے تجارتی معاہدوں کی اپنے اتحادیوں کی۔ ان کے نزدیک انسان کی قیمت تیل سے کم اور ایک معاہدے سے سستی ہے۔
ایسے میں سوال ہم سب سے ہے کیا ہم صرف دیکھنے سننے اور افسوس کرنے کے لیے رہ گئے ہیں؟ کیا ہماری غیرت محض تقاریر اور تحریروں تک محدود ہو چکی ہے؟ کیا ہم نے یہ مان لیا ہے کہ ظلم مقدر ہے اور خاموشی عبادت؟ نہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ ہمیں قلم کو گواہ بنانا ہوگا اور زبان کو صدائے احتجاج۔ آج اگر ہم نہ بولے تو کل ہماری خاموشی ظالم کے حق میں گواہی بن جائے گی۔ آواز اٹھانا اب کوئی سیاسی عمل نہیں رہا، بلکہ یہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ بن چکا ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرو، چاہے وہ اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔
غزہ کا مسئلہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں، یہ پوری امتِ مسلمہ کا امتحان ہے۔ ہر مسلمان کا دل زخمی ہے، مگر زخمی دل کافی نہیں۔ عمل چاہیے، اتحاد چاہیے، اور وہ ہمت چاہیے جو تاریخ کا رخ بدل سکے۔ کم از کم اتنا تو ہمیں کرنا ہی ہوگا کہ اپنے ضمیر کو زندہ رکھیں، اپنی دعائوں میں فلسطین کو شامل رکھیں، اور اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بتائیں کہ ظلم کے وقت خاموش رہنا خود ایک ظلم ہے۔
آج غزہ میں بارشیں رحمت نہیں، آزمائش بن چکی ہیں۔ ہر بوند کے ساتھ ایک سوال برستا ہے: ’’ دنیا کے انسانو!! تم کب جاگو گے؟‘‘، اور شاید تاریخ ہمیں انہی الفاظ میں یاد رکھے کہ ایک شہر سردی سے نہیں مرا، اسے انسانوں کی خاموشی نے مار دیا۔
اے پروردگار! غزہ کی مٹی کو اپنے کرم سے ڈھانپ لے، اس کے آسمان کو امن کا پیغام بنا دے، اور اس کے باسیوں کو اپنی حفاظت میں لے لے۔ ہمیں بے حسی سے نجات دے، ہماری خاموشی کو توبہ میں بدل دے، اور ہمیں مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت عطا فرما، آمین یا رب العالمین۔

جواب دیں

Back to top button