Column

میری لاٹھی، میری مرضی

میری لاٹھی، میری مرضی
تحریر: محمد محسن اقبال
تخلیقِ کائنات کے اولین لمحے سے یہ عالم ایک خدائی توازن کے تحت رواں دواں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات کو وجود بخشا اور ہر ایک کے لیے اس کا دائرہ حیات اور رزق متعین فرمایا۔ خشکی پر انسان کو عقل، شعور اور اخلاقی ذمہ داری عطا کی گئی، جبکہ سمندروں میں حیات کی ایک حیرت انگیز دنیا بسائی گئی، جس میں معلوم انواع کی تعداد لاکھوں میں ہے اور بے شمار اقسام اب بھی انسانی علم سے اوجھل ہیں۔ انہی آبی مخلوقات میں وہیل شارک سب سے بڑی مچھلی ہے، جو سمندر کی وسعتوں میں وقار کے ساتھ تیرتی ہے اور پانی کو چھان کر ننھی مخلوقات سے اپنی غذا حاصل کرتی ہے۔ آبی دنیا میں بڑی مخلوق کا چھوٹی مخلوق کو کھا جانا فطری نظام کا حصہ ہے، جس میں غرور یا جبر نہیں بلکہ جبلّت کارفرما ہوتی ہے۔
افسوس کہ انسان، جو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے، اپنی اجتماعی زندگی میں اکثر اسی حیوانی منطق کو اختیار کر لیتا ہے، بلکہ کئی مواقع پر اس سے بھی زیادہ سفاک ثابت ہوتا ہے۔ قومیں اور ریاستیں اس لیے وجود میں نہیں آئیں کہ طاقتور کمزور کو نگل جائے۔ ہر ملک، خواہ وہ جغرافیائی اعتبار سے چھوٹا ہو یا بڑا، معاشی لحاظ سے کمزور ہو یا طاقتور، اپنی تاریخ، شناخت، تہذیب اور خودمختاری رکھتا ہے۔ مگر انسانی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت نے اکثر حق کو روند ڈالا۔ بڑی سلطنتوں نے کمزور قوموں پر حملے کیے، ان کے وسائل لوٹے، ان کی سرحدیں مسخ اور اپنی جارحیت کو تقدیر یا ناگزیر ضرورت کا نام دیا۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ تباہ کن جنگوں، برباد تہذیبوں اور مسلسل انسانی المیوں کی صورت میں نکلا۔
پہلی عالمی جنگ نے اس جارحانہ طرزِ فکر کے نتائج پوری انسانیت کے سامنے رکھ دئیے۔ کروڑوں انسان ہلاک ہوئے، معیشتیں زمین بوس ہو گئیں اور تہذیبی ترقی کا سفر دہائیوں پیچھے چلا گیا۔ اسی تباہی کے بعد یہ احساس ابھرا کہ اگر طاقت کے جنون کو کسی اخلاقی اور قانونی دائرے میں نہ باندھا گیا تو انسان خود اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کا سامان کرتا رہے گا۔ اسی شعور کے نتیجے میں 1920ء میں لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد یہ تھا کہ اقوام کے درمیان تنازعات جنگ کے بجائے مکالمے، ثالثی اور قانون کے ذریعے حل ہوں، اسلحے کی دوڑ روکی جائے اور اجتماعی سلامتی کا تصور فروغ پائے۔
لیکن لیگ آف نیشنز محض ایک خواب ثابت ہوئی۔ بڑی طاقتوں کی عدم دلچسپی، امریکہ کی غیر شمولیت، نفاذی قوت کی کمی اور فیصلوں میں اتفاقِ رائے کی شرط نے اسے مفلوج کر دیا۔ جب جاپان نے منچوریا پر حملہ کیا، اٹلی نے ایتھوپیا کو روند ڈالا اور یورپ میں فسطائیت نے سر اٹھایا تو لیگ خاموش تماشائی بنی رہی۔ بالآخر دوسری عالمی جنگ نے اس ادارے کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کا قیام اس امید کے ساتھ عمل میں آیا کہ اب ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔ اقوامِ متحدہ کے منشور میں عالمی امن، ریاستی خودمختاری، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے بلند دعوے کیے گئے۔ سلامتی کونسل کو بااختیار بنایا گیا اور بڑی طاقتوں کو اس نظام کا حصہ بنایا گیا تاکہ وہ اس کے خلاف نہ جائیں۔ نوآبادیاتی غلامی سے آزاد ہونے والی اقوام نے اسے انصاف اور تحفظ کی علامت سمجھا۔
مگر وقت کے ساتھ یہ حقیقت واضح ہوتی چلی گئی کہ اقوامِ متحدہ بھی طاقت کے توازن کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے۔ سلامتی کونسل کی ویٹو پاور انصاف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔ جہاں طاقتور ممالک کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا، وہاں قوانین کی تشریح بدل گئی اور اصولوں کو موڑ دیا گیا۔
حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری اور وینزویلا کے داخلی معاملات، خصوصاً تیل کے ذخائر پر کنٹرول کے دعوے نے بین الاقوامی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکی صدر کا یہ کہنا کہ وہ اس معاملے میں بین الاقوامی قانون کو نہیں مانتے، دراصل اس سوچ کا اظہار ہے جس میں طاقت خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے۔ مبصرین کے مطابق وینزویلا کا اصل جرم یہ تھا کہ اس نے اپنا تیل روس اور چین کو ڈالر کے بجائے اپنی قومی کرنسیوں میں فروخت کرنا شروع کیا، جس سے ڈالر کی عالمی بالادستی کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
روس اور چین کی جانب سے مذمتی بیانات تو آئے، مگر عملی سطح پر عالمی ردِعمل نہایت کمزور رہا۔ اس خاموشی نے اس خدشے کو جنم دیا کہ شاید بڑی طاقتیں دنیا کو آپس میں تقسیم کرنے کے کسی غیر اعلانیہ فارمولے پر متفق ہو چکی ہیں۔ چین تائیوان پر، روس یوکرین پر اور امریکہ وینزویلا پر اپنی گرفت مضبوط کرے اور باقی دنیا محض تماشائی بن کر رہ جائے۔ اگر یہ تصور حقیقت بن گیا تو پھر دنیا قانون کے بجائے طاقت کے اصول پر چلے گی، جہاں وہی حکمران ہو گا جس کے ہاتھ میں سب سے مضبوط لاٹھی ہو گی۔
اس طرزِ عمل کے اثرات صرف مخالف ممالک تک محدود نہیں رہتے۔ امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اب تشویش میں مبتلا ہیں کہ کہیں کل ان کی خودمختاری بھی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔ دوسری طرف ایران میں بار بار ہونے والے احتجاجی واقعات کو بہت سے آزاد مبصرین بیرونی مداخلت سے جوڑتے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ جہاں طاقتور حلقے کسی حکومت سے مطمئن نہ ہوں، وہاں عدم استحکام پیدا کرنا ایک آزمودہ حکمتِ عملی بن چکی ہے۔
تقریباً ایک صدی قبل علامہ محمد اقبالؒ نے اسی حقیقت کو غیر معمولی بصیرت مگر سخت زبان کے ساتھ کچھ یوں بیان کیا تھا:
من ازیں بیش ندانم کہ کفن دزدے چند
بہر تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند
( یعنی، مجھے اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں کہ چند کفن چوروں نے قبروں کی تقسیم کے لیے ایک انجمن بنا لی ہے)۔
ان کے نزدیک یہ ادارے امن کے نگہبان نہیں بلکہ شکست خوردہ اقوام اور زوال پذیر تہذیبوں کی باقیات کو مہذب انداز میں بانٹنے کا ذریعہ تھے۔ کفن چور کی علامت، جو مشرقی اخلاقیات میں سب سے گھٹیا کردار سمجھا جاتا ہے، اس اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتی ہے جو شائستہ سفارت کاری کے پردے میں چھپا ہوتا ہے۔
قدرت، اپنی ظاہری سختی کے باوجود، توازن برقرار رکھتی ہے۔ وہیل شارک بے پناہ مقدار میں غذا کھاتی ہے، مگر سمندر زندہ رہتے ہیں کیونکہ فطری ہم آہنگی قائم رہتی ہے۔ انسانی تہذیب، جسے عقل، اخلاق اور قانون کی نعمت عطا کی گئی ہے، درندگی کے لیے کوئی عذر نہیں رکھتی۔ اگر عالمی ادارے صرف طاقتوروں کے مفادات کی خدمت کرتے رہے تو ان کی قانونی اور اخلاقی حیثیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ انصاف کے بغیر امن محض ایک نعرہ رہ جاتا ہے، اور قانون کے بغیر دنیا ایک ایسی افراتفری کی طرف بڑھتی ہے جو فطری جدوجہدِ بقا سے بھی زیادہ ہولناک ثابت ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button