Column

اعتماد کا غلط استعمال: جعلی آمدن سے حقیقی رہائش تک کا سفر

اعتماد کا غلط استعمال: جعلی آمدن سے حقیقی رہائش تک کا سفر
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
قلمِ حق
برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مقیم محمد منیر بظاہر ایک خاموش طبع، خوش گفتار اور تجربہ کار امیگریشن ایڈوائزر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ خود کو برطانوی امیگریشن قوانین کا ماہر ظاہر کرتا، موکلین سے اعتماد کے ساتھ بات کرتا اور ایسے انداز میں گفتگو کرتا تھا کہ سامنے والا خود کو محفوظ محسوس کرنے لگتا۔ اس کا تعلق برطانوی پاکستانی کمیونٹی سے تھا، جس کی وجہ سے لوگ فطری طور پر اس پر جلد اعتماد کر لیتے تھے اور اس کے مشوروں کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔
محمد منیر نے برسوں تک امیگریشن کے شعبے میں کام کرنے کا تاثر دیا۔ اس کے پاس باقاعدہ دفتر، منظم فائلنگ سسٹم اور قانونی اصطلاحات کا ایسا استعمال تھا جو کسی بھی عام شخص کو یہ یقین دلانے کے لیے کافی تھا کہ وہ واقعی نظام کو اندر سے جانتا ہے۔ یہی پیشہ ورانہ لبادہ اس کے فراڈ کا سب سے مضبوط ہتھیار ثابت ہوا، جس کے پیچھے ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ چھپا ہوا تھا۔
برمنگھم میں سامنے آنے والا یہ امیگریشن فراڈ دراصل ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا تھا، جو خاموشی کے ساتھ مگر مسلسل کام کر رہا تھا۔ یہ معاملہ محض چند جعلی کاغذات تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی اداروں کے درمیان قائم اعتماد کو کمزور کرنے کی ایک واضح مثال بن چکا تھا۔
محمد منیر نے خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا جو اپنے شریکِ حیات کو برطانیہ بلانا چاہتے تھے مگر آمدن کی سرکاری شرط پوری نہیں کر پاتے تھے۔ شریکِ حیات ویزا کے لیے مقررہ 29ہزار پائونڈ سالانہ آمدن بہت سے محنت کش، جز وقتی ملازمین اور نئے تارکینِ وطن کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، جس نے انہیں متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔ اسی رکاوٹ کو منیر نے ایک منافع بخش کاروباری موقع میں تبدیل کیا۔ وہ موکلین کو یہ باور کراتا تھا کہ اصل مسئلہ پیسہ کمانا نہیں بلکہ اسے کاغذی طور پر درست طریقے سے ثابت کرنا ہے۔ اس کے مطابق اگر دستاویزات مکمل اور بظاہر قانونی ہوں تو نظام خود بخود درخواست قبول کر لیتا ہے۔ اس فراڈ کی بنیاد شیل کمپنیوں پر رکھی گئی تھی، یعنی ایسی کمپنیاں جو قانونی طور پر رجسٹرڈ ضرور تھیں مگر عملی طور پر کسی قسم کی کاروباری سرگرمی انجام نہیں دیتی تھیں۔ ان کمپنیوں کا نہ کوئی حقیقی دفتر ہوتا تھا اور نہ ہی عملی طور پر کوئی کام، مگر کاغذات میں سب کچھ مکمل دکھائی دیتا تھا۔ انہی شیل کمپنیوں کے ذریعے جعلی ملازمتیں تخلیق کی جاتیں۔ موکلین کو کاغذی طور پر ملازم ظاہر کیا جاتا، ان کے لیے ماہانہ تنخواہیں مقرر کی جاتیں اور باقاعدہ پے سلپس تیار کی جاتیں جو کسی بھی اصل کمپنی کے ریکارڈ سے کم نہیں لگتیں تھیں۔ فراڈ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان جعلی تنخواہوں پر حقیقی ٹیکس بھی ادا کیا جاتا تھا۔ HMRCکے ریکارڈز میں آمدن، ٹیکس اور نیشنل انشورنس کی تفصیلات درست نظر آتیں، جس کے باعث امیگریشن حکام کے لیے ان دستاویزات پر فوری شک کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سرکاری اداروں کے درمیان موجود باہمی اعتماد کو دانستہ طور پر استعمال کیا گیا۔ ایک ادارے کی تصدیق دوسرے ادارے کے لیے کافی سمجھی گئی، اور یہی کمزوری اس نیٹ ورک کے حق میں جاتی رہی۔
یہ نیٹ ورک صرف محمد منیر تک محدود نہیں تھا۔ فیصل شریف اور احمد شریف اس کے اہم ساتھی تھے، جن کے درمیان ذمہ داریاں واضح انداز میں تقسیم تھیں۔ کوئی کمپنیاں رجسٹر کرتا، کوئی پے رول اور ٹیکس کے معاملات دیکھتا اور کوئی موکلین سے رابطے میں رہتا تھا۔ ہر موکل سے تقریباً 10ہزار پائونڈ نقد رقم وصول کی جاتی تھی۔ یہ لین دین مکمل طور پر غیر رسمی ہوتا تھا، نہ کوئی رسید دی جاتی اور نہ ہی کوئی تحریری معاہدہ کیا جاتا، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کا سراغ یا قانونی ثبوت سامنے نہ آ سکے۔ مجموعی طور پر اس نیٹ ورک نے 14شریکِ حیات ویزا درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے 5منظور بھی ہو گئیں۔ یہ منظوریوں نہ صرف مالی فائدے کا ذریعہ بنیں بلکہ نیٹ ورک کے لیے اس بات کا ثبوت بھی تھیں کہ ان کا جعلی نظام بظاہر کامیابی سے کام کر رہا ہے۔ تاہم اسی مرحلے پر اس فراڈ نیٹ ورک کی بنیادیں ہلنا شروع ہو گئیں۔ ایک موکل، جو درحقیقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا تھا، نے محمد منیر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔ ان ریکارڈنگز میں محمد منیر نے نہایت اعتماد کے ساتھ پورے فراڈ کا طریقہ کار بیان کیا۔ اس نے واضح کیا کہ جعلی نوکریاں کیسے بنائی جاتی ہیں، ٹیکس کیسے ادا کیا جاتا ہے اور نظام کو کس طرح بظاہر قانونی طریقے سے مطمئن کیا جاتا ہے۔ یہ ریکارڈنگز اس کیس میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔ ان کی بنیاد پر خفیہ نگرانی مزید تیز کی گئی، نقد رقم کے لین دین کو ٹھوس ثبوت میں بدلا گیا اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے گئے۔ کئی ہفتوں کی نگرانی اور تیاری کے بعد برمنگھم کے مختلف علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کی گئیں۔ صبح سویرے ہونے والے ان چھاپوں نے پورے نیٹ ورک کو سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر مفلوج کر دیا۔ ان کارروائیوں کے دوران گھروں اور دفاتر سے بڑی مقدار میں نقد رقم، کمپیوٹرز، موبائل فونز، جعلی پے سلپس، کمپنی ریکارڈز اور دیگر اہم دستاویزات برآمد کی گئیں۔ محمد منیر، فیصل شریف اور احمد شریف کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
عدالت میں جب یہ شواہد پیش کیے گئے تو یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ یہ کسی غلط فہمی یا تکنیکی خامی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مکمل، منظم اور دانستہ فراڈ تھا۔ دفاع کے تمام مقف ٹھوس شواہد کے سامنے کمزور ثابت ہوئے اور کیس اپنی بنیاد پر کھڑا نظر آیا۔ اس کیس کے اثرات صرف ملزمان تک محدود نہیں رہے بلکہ ان خاندانوں تک بھی پھیل گئے جن کے ویزے اس فراڈ کے ذریعے منظور ہوئے تھے۔ کئی خاندان اچانک قانونی بے یقینی کا شکار ہو گئے، جہاں ایک طرف برسوں بعد اکٹھا ہونے کی خوشی تھی تو دوسری طرف ویزا منسوخی، تفتیش اور ممکنہ قانونی کارروائی کا خوف۔ بعض افراد کو دوبارہ انٹرویوز اور طویل جانچ کے مراحل سے گزرنا پڑا، جس نے ان کی زندگیوں کو شدید ذہنی دبا میں مبتلا کر دیا۔
یہ اسکینڈل برطانوی امیگریشن نظام کے لیی بھی ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ثابت ہوا۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ صرف کاغذی شواہد اور ڈیٹا بیس کی تصدیق پر انحصار بعض اوقات خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اداروں کے درمیان موجود باہمی اعتماد، جو نظام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، اسی اعتماد کو اس فراڈ نیٹ ورک نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا، جس کے بعد پالیسی سازوں میں نظام کو مزید سخت بنانے پر بحث شروع ہو گئی۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے منظم فراڈ نیٹ ورک عموماً ان افراد کو نشانہ بناتے ہیں جو جذباتی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ برسوں سے شریکِ حیات سے جدا افراد، جو قانونی راستوں میں ناکامی کے بعد مایوسی کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں، ایسے وعدوں پر جلد یقین کر لیتے ہیں۔ محمد منیر اور اس کے ساتھیوں نے اسی انسانی کمزوری کو ایک منافع بخش کاروباری ماڈل میں تبدیل کر دیا۔
برمنگھم میں بے نقاب ہونے والا یہ کیس اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ غیرقانونی سرگرمیاں چاہے کتنی ہی منظم، محتاط اور طویل عرصے تک جاری رہیں، بالآخر ایک غلط قدم، ایک ریکارڈنگ یا ایک گواہی پورے نظام کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ محمد منیر اور اس کے نیٹ ورک کی کہانی محض ایک امیگریشن فراڈ نہیں بلکہ ایک سخت تنبیہ ہے کہ ریاستی اعتماد سے کھیلنے والے آخرکار اسی ریاستی نظام کے سامنے جواب دہ ہو جاتے ہیں، اور سچ دیر سے سہی مگر آخرکار سامنے آ ہی جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button