سردی اور خاموشی سے مرنے والے بزرگ

سردی اور خاموشی سے مرنے والے بزرگ
تحریر: رفیع صحرائی
آج کل سردی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ میدانی علاقوں میں درجہ حرارت ایک سے پانچ سنٹی گریڈ تک گر گیا ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت غیر معمولی طور پر منفی درجے تک پہنچ چکا ہے۔ ہُنزہ میں تو درجہ حرارت منفی 20تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان بھر میں شدید ٹھنڈ کی لہر جاری ہے جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے سکولوں میں سرد موسم کے پیشِ نظر کو سردی کی چھٹیوں میں ایک ہفتے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں مساجد میں فوتگی کے اعلانات کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ فیس بک پر فوتگی کی اطلاعات میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہر شہر اور بڑے قصبے میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب شدید سرد موسم میں ایک دو یا اس سے بھی زائد اموات نہ ہوتی ہوں۔ سوشل میڈیا پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار باندھ لیتی ہیں۔
’’ والد صاحب انتقال کر گئے‘‘۔
’’ والدہ صاحبہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں‘‘۔
’’ ساس یا سسر ہمیں چھوڑ گئے‘‘۔
یہ اموات اور اعلانات محض اتفاق نہیں۔ یہ ایک اجتماعی المیہ ہے جسے ہم معمول کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ دراصل یہ ہمیں خاموشی سے خبردار کیا جا رہا ہوتا ہے کہ ہمارے گھروں کے بزرگ سخت سردی کی نذر ہو رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم اسے قدرت کا فیصلہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جن ہاتھوں نے محنت مزدوری یا ملازمت کے ذریعے کما کر اپنی اولاد کی پرورش کی ہوتی ہے انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد یا بڑھاپے میں اپنی ضروریات کے لیے اولاد سے نقد رقم یا ضرورت کی اشیاء مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ان کی ضرورت انتہا پر بھی ہو تو زبان پر شکایت نہیں لاتے۔ یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہوتا۔ بڑھاپے میں خود داری ان کی آخری دولت بن جاتی ہے۔
یاد رکھیے! جو شخص ساری عمر مسجد اور مدرسے کے لیے چندہ مانگتا رہا ہو، وہ بھی اپنی اولاد سے ایک کمبل مانگنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ اس کی انا اور غیرت اسے اولاد کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت ہی نہیں دیتی۔ بوڑھوں کو یہ خدشہ بھی ہوتا ہے کہ اگر اولاد نے انکار کر دیا، ان کی ضرورت پوری کرنے کو موخر کر دیا یا کوئی عذر پیش کر دیا تو وہ اپنی ہی نظروں میں ہلکے ہو جائیں گے۔ ان حالات میں یہ اولاد کا فرض ہے کہ بوڑھے والدین کی ضروریات کو بِن کہے پورا کرے۔
ہم پوچھتے ہیں:’’ ابو، آپ کو کچھ چاہیے؟‘‘
جواب آتا ہے: ’’ نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے‘‘۔
اور ہم اس’’ نہیں‘‘ کو سچ مان کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی بے حسی ہے۔ ہم فارمیلٹی پوری کر کے خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
ایک بات دماغ میں بٹھا لیجیے۔ بڑھاپا انسانی جسم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ انسانی اعضاء پچاس، ساٹھ یا ستر سال تک مسلسل کام کرنے کے بعد کمزور ہو جاتے ہیں۔ سردی کا ایک جھونکا جوان جسم کے لیے معمولی ہو سکتا ہے مگر بزرگ کے لیے یہی جھونکا جان لیوا بن سکتا ہے۔ بزرگوں کی کی قوتِ مدافعت کمزور ہو چکی ہوتی ہے، خون کی گردش سست، ہڈیاں نازک اور سانس کا نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ شوگر، بلڈ پریشر اور جوڑوں کے امراض اس عمر میں آ گھیرتے ہیں جو قوتِ مدافعت بہت کم کر دیتے ہیں۔ انسان موسم کی سختی برداشت کرنے کے قابل نہیں رہ جاتا۔ ایسے میں ٹھنڈا فرش، ہلکا کمبل اور پتلے کپڑے ان بزرگوں کے لیے زہر بن جاتے ہیں۔
ہم اپنے لیے مہنگی جیکٹیں، گرم رضائیاں اور ہیٹر خریدتے ہیں مگر ماں باپ کو پرانی رضائی اور ہلکا سویٹر دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن میں بٹھانی ہو گی کہ بزرگوں کی رضائی ہماری رضائی سے زیادہ موٹی ہونی چاہیے اور ان کے کپڑے ہم سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں کیونکہ وہ ہم سے کہیں زیادہ سردی محسوس کرتے ہیں۔ ہو سکے تو ان کے کمرے میں ہیٹر لگا دیجیے ورنہ لکڑیاں جلا کر ان کا کمرہ گرم رکھنے کی کوشش کیجیے۔
سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے وہ زیادہ تر قدرتی نہیں بلکہ ہماری غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ اولاد جو یہ سمجھتی ہے کہ ماں باپ خود بتا دیں گے حقیقت میں سب سے بڑی نالائق ہوتی ہے۔ والدین کبھی نہیں بتاتے۔ وہ خاموشی سے تکلیف سہتے ہیں اور ایک دن خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
جس طرح ہمارے بچپن میں والدین ہماری ضروریات کا خیال رکھتے تھے اور خود دیکھتے تھے کہ ہمیں سردی تو نہیں لگ رہی، ہمارے موزے پورے ہیں یا نہیں، ہماری رضائی ٹھیک ہے یا نہیں، اب وہی کردار ہمیں ادا کرنا ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس گرم موٹا لباس ہے یا نہیں، انہیں سرد موسم میں گرم جرسی، گرم چادر، موزے اور بند جوتے مہیا کرنا ہمارا فرض ہے۔ ان سے ان کی ضروریات کے بارے میں پوچھنا نہیں، ہمیں خود دیکھنا ہے۔ خود انتظام کرنا ہے۔
یہ موسمِ سرما صرف سردی کا نہیں، ہمارے ضمیر کا امتحان بھی ہے۔ اگر اس سال بھی ہم نے اپنے بزرگوں کو کمبل، گرم کپڑے اور محبت کی حرارت نہ دی، تو ہو سکتا ہے اس سال فیس بک پر ایک اور’’ انتقال‘‘ کی خبر ہمارا انتظار کر رہی ہو گی۔
یاد رکھیے، جو جوان اولاد اپنے بوڑھے ماں باپ کو آج سردی سے نہیں بچا سکتی، آنے والے کل میں اس کی اپنی اولاد بھی اسے بے یارو مددگار چھوڑ دے گی۔




