ColumnImtiaz Aasi

پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی نفی کردی

پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی نفی کردی
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
چلیں مسلم لیگ نون تو کبھی جمہوری ہونے کی دعویٰ دار نہیں رہی لیکن پیپلز پارٹی جو جمہوریت کی علمبردار بنتی پھرتی تھی، پی ٹی آئی کے جلسہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے جمہوریت کی نفی کر دی۔ ویسے بھی وہی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دعویدار کہلاوا سکتی ہیں جن میں پارٹی عہدوں پر جمہوری طریقہ سے الیکشن عمل میں لایا جائے، لہذا دونوں جماعتوں میں فرد واحد کے احکام پر عمل ہوتا ہے۔ چاروں صوبوں کی زنجیر والا معاملہ شہید بی بی کے رخصت ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی اقتدار میں رہتے ہوئے ایک معتوب جماعت سے خائف ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مارکیٹیں تو بند نہیں کیں البتہ سڑکوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے اپنے غیر جمہوری ہونے کا ثبوت دے دیا۔ عجیب تماشا ہے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہوائی اڈے پر پروٹول دینا اور سندھی ٹوپی اور اجرک پیش کرنا ہمیں بہت اچھا لگا، لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا سیاسی جماعتوں کے لئے کسی جماعت کی مقبولیت برداشت سے باہر ہے۔ زمانہ طالب علمی کی بات ہے طلبہ نعرے لگاتے تھے بھٹو آئے گا راج چلائے گا۔ سرخ ہے ایشیاء سرخ ہے، اس طرح کے نعرے طلبہ کے لہو کو گرماتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی نے نچلی سطح پر عوام کے مسائل کو دیکھا اور انہیں حل کرکے دکھایا، عوام کا سمندر بھٹو کے جلسوں میں آمڈ آتا تھا۔ شہید بی بی اپنے والد سے کچھ کم نہیں تھیں ، راولپنڈی کے لیاقت باغ کے عظیم الشان جلسہ گاہ میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ بی بی کی شہادت نے ملک کے عوام پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ یہ ناچیز ان دنوں سزائے موت کے سیل میں بند تھا، اپنے سیل میں ٹی وی پر بی بی کی شہادت نے کہیں روز تک مجھے اشک بار رکھا۔ مسلم لیگ نون سے سہیل آفریدی کو شکوہ نہیں کرنا چاہیے تھا، جناب نواز شریف کی جماعت کو جمہوری نہیں کہا جا سکتا، دور آمریت میں وجود میں آنے والی جماعت کبھی جمہوری ہو نہیں سکتی۔ عجیب تماشا ہے سہیل آفریدی اپنے قائد کی ہدایت پر عمل پیرا ہونے کے لئے میدان عمل میں نکلا ہے، سندھ کے عوام نے اسے بڑی پذیرائی بخشی ہے، جو اس بات کی غماز ہے وہاں کی عوام تبدیلی کے منتظر ہیں۔ درحقیقت پاکستان کے عوام پرانے دور سے نکل چکے ہیں، سوشل میڈیا نے دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کو بھی چوکنا کر دیا ہے اور انہیں اچھے اور برے کی خاصی تمیز ہو گئی ہے۔ اخبارات میں خبر دیکھ کر مجھے حیرت اس بات کی ہوئی دو سال، سات ماہ بعد سانحہ نو مئی 2023ء کی فوٹیج میں سہیل آفریدی، تمیور جھگڑا اور دیگر کو دکھایا گیا ہے۔ گو میں قانون دان تو نہیں البتہ پندرہ برس تک قید و بند میں رہ کر فوجداری قوانین سے خاصی آشنائی ہو گئی ہے۔ جب کسی شخص کا نام ایف آئی آر اور ضمنی چالان میں نہ ہو تو کیا کسی کو ملزم ٹھہرایا جا سکتا ہے؟۔ تمیور جھگڑا کا بیان نظر سے گزرا تو عجیب لگا وہ کہتے ہیں پنجاب فرانزک لیباٹری نے صرف ویڈیوز کی تکنیکی اور درستی پر رائے دی ہے نہ کہ کسی سے تعلق ثابت کیا ہے۔ دراصل حکومت 8فروری کو پہیہ جام سے خائف ہے، کہیں ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال ہو گئی تو حکومت کے پلے کچھ نہیں رہے گا۔ بدقسمتی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے اقتدار کو زندگی موت کا مسئلہ بنا رکھا ہے، اقتدار سے باہر ہوں تو ان کے لئے جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔
آج ملک کے عوام جن مسائل سے دوچار ہیں وہ انہی دو جماعتوں کی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ موٹر وے اور بڑے بڑے پل بنا کر غریب عوام کے پیٹ نہیں بھرے جا سکتے۔ مجھے یاد ہے جنرل پرویز مشرف نے قومی اخبارات کے ایڈیٹرز سے مخاطب ہوتے ہوئے بتایا تھا کورین واپس جاتے ہوئے انہیں سب کچھ بتا کر گئے تھے، تاہم جب وہ اپنے ملک واپس پہنچے تو ان کی حکومت نے انہیں جیلوں میں ڈال دیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں ایسی جماعتیں ہیں جن پر آئین کا حلیہ بگاڑنے کا داغ کبھی صاف نہیں ہوگا۔ آج نہ عدلیہ آزاد ہے، نہ ہی سیاسی جماعتوں کو اظہار کی آزادی ہے، لیکن ملک میں جمہوریت ہے۔ جو لوگ سیاست دانوں کو اقتدار میں لاتے ہیں، جب ان کی خواہشات کی تکمیل نہیں ہوتی تو ان پر غداری کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ ہمیں بانی پی ٹی آئی سے کچھ لینا دینا نہیں، لیکن ایک بات عقل تسلیم کرتی ہے ہمیں طاغوتی طاقتوں کی غلامی سے ہر صورت میں نجات حاصل کرنی چاہیے۔ دنیا میں تعداد میں سب سے زیادہ ہونے کے باوجود امت مسلمہ کیوں ذلیل و خوار ہو رہی ہے جس کی وجہ ہم نے اپنے اسلاف کی روایات کو چھوڑ دیا ہے۔ جب تک مسلمان رسالت مآبؐ کے فرمودات اور صحابہ کرامؓ کی پیروی کرتے رہے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ جیسے ہی مسلمانوں نے قرآن و سنت سے پہلو تہی کی ذلیل و خوار ہو گئے۔ قرون اولیٰ کی قوموں کی تباہی کیوں ہوئی جب کوئی بڑا جرم کرتا اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اور چھوٹے لوگوں کو سزائیں دے دی جاتی تھیں۔ مملکت خداداد میں آج وہی کچھ ہو رہا ہے جو قرون اولیٰ کے دور میں ہوتا تھا۔ جن لوگوں نے منی لانڈرنگ کی انہیں چھوڑ دیا گیا ہے یا جن لوگوں نے ملک سے باہر بڑی بڑی جائیدادیں بنائی ہیں انہیں کسی نے پوچھا نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کا یہی تو قصور تھا وہ منی ٹریل مانگتا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کے مخالفین خواہ اسے کچھ کہیں وہ یہودی ایجنٹ ہے، لیکن میرا ایک سوال ہے اگر وہ یہودی ایجنٹ تھا اسے اقتدار میں کون لایا تھا؟۔ یہ ٹھیک ہے عوام سہمے ہوئے ہیں، وہ سڑکوں پر نہیں آتے ہیں، ان کے دلوں کو نہیں بدلا جا سکتا۔ عمران خان میں بشری کمزوریاں ضرور ہوں گی، کوئی انسان صوفی ہونے کا دعو یٰ نہیں کر سکتا۔ ہمیں ایک بات تسلیم کرنا ہو گی اس نے اپنے آپ کو بدل لیا ہے، شائد اسی لئے ملک کے عوام اس کے گرویدہ ہیں۔

جواب دیں

Back to top button