ColumnQadir Khan

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا نیا گٹھ جوڑ

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا نیا گٹھ جوڑ
قادر خان یوسف زئی
تاریخ کے دامن میں کچھ ایسے لمحے پوشیدہ ہوتے ہیں جو قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا تھا کہ وہ کابل، جس کی فتح پر اسلام آباد میں مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں اور جسے ہم اپنی ”اسٹریٹجک ڈیپتھ” کا محور سمجھتے تھے، وہی کابل محض تین سالوں میں ہماری قومی سلامتی کے لیے ایک ایسا بھنور بن جائے گا جہاں سے نکلنا دشوار ہو جائے گا؟ سرحد پار سے آنے والی ہوائیں بارود کی بو سے بوجھل ہیں۔حال ہی میں برسلز میں قائم ایک غیر جانبدار اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک ’’ انٹرنیشنل کرائسز گروپ‘‘ (ICG)نے ایک ہوشربا رپورٹ جاری کی ہے، جس نے پاک افغان تعلقات پر پڑی سفارتی مصلحتوں کی گرد جھاڑ دی ہے۔ یہ رپورٹ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا وہ نوحہ ہے جسے اسلام آباد کے ایوانوں اور راولپنڈی کے فیصلہ سازوں کو اب بہت سنجیدگی سے سننا ہوگا۔ آئی سی جی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کی بنیادی اور واحد وجہ افغان طالبان کا ’’ تحریک طالبان پاکستان‘‘ ( فتنہ الخوارج) کے خلاف کریک ڈائون سے صاف انکار ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی رپورٹ نے اس بیانیے کی تصدیق کر دی ہے جو پاکستان گزشتہ دو سال سے عالمی برادری کے سامنے رکھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افغان عبوری حکومت کی جانب سے فتنہ الخوارج کے جنگجوں کو لگام ڈالنے میں ناکامی یا درحقیقت انکار نے دونوں پڑوسی ممالک کو تصادم کی راہ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ افغان سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ آئی سی جی کا تجزیہ بتاتا ہے کہ کابل میں بیٹھے حکمران انتہا پسند ٹی ٹی پی کو اپنا ’’ جنگی اثاثہ‘‘ سمجھتے ہیں یا پھر وہ پختون روایات اور اپنی داخلی کمزوریوں کے باعث ان کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وجہ جو بھی ہو، اس کا خمیازہ پاکستان کی ریاست اور اس کے عوام بھگت رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے (2022)کے بعد سے پاکستان میں تشدد کا گراف خوفناک حد تک اوپر گیا ہے۔ یہ وہ ’’ امن‘‘ نہیں تھا جس کا وعدہ دوحہ مذاکرات میں کیا گیا تھا۔
اگر ہم جذباتی نعروں سے نکل کر زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو دل دہلا دینے والے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔ سال 2025ء پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا۔ آئی سی جی کی رپورٹ اور ہمارے اپنے عسکری ذرائع اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ صرف گزشتہ ایک سال میں 600سے زائد پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار دہشت گردی کی نذر ہوئے۔ زیادہ تر حملے پاکستان کے ان دو صوبوں میں ہوئے جو براہِ راست افغانستان کی سرحد سے جڑے ہیں، یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان۔ ان صوبوں میں ٹی ٹی پی نے اپنی کارروائیوں میں جو تیزی اور شدت دکھائی ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں سرحد پار سے جدید اسلحہ ( بشمول نائٹ ویژن ڈیوائسز اور امریکی ساختہ ہتھیار) اور محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغانستان کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے؟ مگر آئی سی جی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کابل نے نہ صرف اس ذمہ داری سے پہلو تہی کی بلکہ الٹا پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ رپورٹ میں ایک اور تشویشناک پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے، اور وہ دہشت گرد ٹی ٹی پی اور بلوچستان کے نام نہاد علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان بڑھتا ہوا آپریشنل گٹھ جوڑ ہے۔ اسلام آباد کا یہ موقف رہا ہے کہ یہ دونوں گروہ، اگرچہ نظریاتی طور پر مختلف ہیں، لیکن ریاستِ پاکستان کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر یکجا ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد نے بارہا عالمی فورمز پر یہ ثبوت پیش کیے ہیں کہ ان دہشت گرد تنظیموں کی ڈوریں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں۔ یہاں پاکستان کے روایتی حریف بھارت کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آئی سی جی کی رپورٹ میں بھی اسلام آباد کے ان الزامات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ بھارت ان گروہوں کی مالی اور عسکری معاونت کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو مغربی سرحد پر الجھا کر اس کی معیشت اور مشرقی سرحد کے دفاع کو کمزور کیا جا سکے۔ یہ ایک پیچیدہ ’’ ہائبرڈ وار‘‘ ہے جہاں ایک طرف مذہبی انتہا پسند ہیں اور دوسری طرف لسانی بنیاد پر لڑنے والے علیحدگی پسند، اور ان دونوں کا منبع اور پناہ گاہ بدقسمتی سے افغانستان کی سرزمین بن چکی ہے۔
آئی سی جی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کی پالیسی کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے دبا بڑھانے کے لیے جو سخت اقدامات اٹھائے، جیسے کہ غیر قانونی مقیم افغانوں کی واپسی اور بارڈر کراسنگز کی بندش، اس نے کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید ہوا دی۔ تاہم، یہاں ایک سوالیہ نشان ابھرتا ہے۔ کیا پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ بچا تھا؟ جب مہمان ہی میزبان کے گھر میں نقب لگانے والوں کے سہولت کار بن جائیں، تو ریاست کے پاس اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے لینے کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے؟
رپورٹ کا سب سے خطرناک حصہ وہ ہے جہاں مستقبل کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ آئی سی جی نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان رجیم نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ سرحدی جھڑپیں ایک ’’ بھرپور جنگ‘‘ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح خطے کے امن کے لیے سودمند نہیں ہے۔ ایک طرف پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے تو دوسری طرف کابل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی افغان پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لے۔ ’’ تزویراتی گہرائی‘‘ کا خواب اب ایک ڈرائونے خواب میں بدل چکا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کابل میں حکومت چاہے کسی کی بھی ہو، ریاست کے مفادات کا تحفظ جذبات سے نہیں بلکہ سخت اور بے لاگ فیصلوں سے ہوتا ہے۔
پاکستان کی ریاست کے لیے پیغام واضح ہی کہ ’’ دوست وہ ہے جو مشکل میں کام آئے، نہ کہ وہ جو مشکل پیدا کرے‘‘ ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو ’’ امیدوں‘‘ کے بجائے ’’ زمینی حقائق‘‘ پر استوار کریں۔ اگر کابل سے ٹھنڈی ہوا نہیں آ سکتی، تو کم از کم وہاں سے اٹھنے والی چنگاریوں کو اپنی سرحدوں سے دور رکھنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button