طاقت جو حکمت کے تابع ہو

طاقت جو حکمت کے تابع ہو
تحریر: محمد محسن اقبال
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے زیرِ قیادت پاکستان کی مسلح افواج کا دور ایک ایسے نادر امتزاج کا عکاس ہے جس میں عسکری وقار، سفارتی سرگرمی اور ابھرتے ہوئے معاشی امکانات یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ 7تا 10مئی 2025ء کی مختصر مگر فیصلہ کن پاک، بھارت کشیدگی وہ مرکزی موڑ ثابت ہوئی جس نے نہ صرف خطے میں پاکستان کے اسٹریٹجک انداز کو نئی جہت دی بلکہ عالمی سطح پر اس کی قیادت کو بھی ازسرِنو متعارف کرایا۔ کشمیر میں ایک مبینہ اور نام نہاد دہشت گرد واقعے کے بعد’’ آپریشن سندور‘‘ کے نام سے بھارت کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے، پاکستان پر ایک نیا جبر آمیز معمول مسلط کرنے کی کوشش سمجھے گئے، مگر اس کے جواب میں پیدا ہونے والی صورتحال نے مختلف عالمی دارالحکومتوں میں اسٹریٹجک اندازوں کو بدل کر رکھ دیا۔
ابتدا ہی سے جنرل عاصم منیر نے واضح مگر محتاط طرزِ عمل اختیار کیا۔ ان کا یہ اعلان کہ کسی بھی جارحیت کا’’ تیز اور شدید‘‘ جواب دیا جائے گا، محض لفظی سختی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے بارہا اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کشیدگی بڑھانا نہیں بلکہ بازدار قوت ( ڈیٹرنس) قائم رکھنا چاہتا ہے، اور دنیا کو یاد دلایا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان غیر ذمہ دارانہ رویہ ناقابلِ اندازہ خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے نہایت درستی کے ساتھ جوابی کارروائیاں کیں، متعدد بھارتی طیارے مار گرائے، اور ایسی عملی برتری کا مظاہرہ کیا جو مکمل جنگ کے دہانے کو چھوئے بغیر حاصل کی گئی۔ طاقت اور تحمل کے اس توازن نے نہ صرف بازدار قوت بحال کی بلکہ سفارتی راستوں کو بھی دوبارہ فعال ہونے کا موقع دیا۔
عالمی ردِعمل غیر معمولی طور پر کھلا اور مثبت تھا۔ اس بحران کو اتفاقیہ نہیں بلکہ نظم و ضبط پر مبنی قیادت کے ذریعے ٹلتا ہوا سمجھا گیا۔ اس وقت امریکی صدر نے کھلے عام جنرل عاصم منیر کے کردار کو ایٹمی تصادم روکنے میں کلیدی قرار دیا، جو جنوبی ایشیا میں بحران کے استحکام کے حوالے سے واشنگٹن کی دیرینہ سوچ کے تناظر میں خاص علامتی اہمیت رکھتا تھا۔ اس اعتراف نے پاکستان کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا اور ملکی سطح پر عسکری قیادت کی ساکھ میں اضافہ کیا، یوں پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر پیش کیا گیا جو شدید دبا میں بھی تنازع کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بعد کے مہینوں میں جنرل عاصم منیر کے کردار میں نمایاں وسعت آئی۔ برسوں کی سفارتی جمود کے بعد پاکستان کی عالمی سیاست میں واپسی کے عمل میں وہ ایک مرکزی کردار کے طور پر ابھرے۔ امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط بحال ہوئے، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوئے، جن کی علامت شاہ عبدالعزیز میڈل کا اعزاز ہی اور مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں دفاعی سفارت کاری میں اضافہ ہوا۔ مشترکہ فوجی مشقیں، انسدادِ دہشت گردی تعاون اور معاشی بات چیت بیک وقت آگے بڑھنے لگیں، جو اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ آج کی عالمی سیاست میں سلامتی اور معیشت ایک دوسرے سے جدا نہیں رہیں۔
اسی پس منظر میں پاکستان کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بہتر عسکری ساکھ اور بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں ملک کو غیر ملکی قرضوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر طویل انحصار سے نجات دلا سکتی ہیں؟ پاکستان کا بیرونی قرضہ اس وقت 100ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جو مجموعی قومی پیداوار کے لگ بھگ 70فیصد کے برابر ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی توسیعی سہولت تقریباً 7سے 8ارب ڈالر پر محیط ہے جو دہائی کے دوسرے نصف تک جاری رہے گی۔ اگرچہ اصلاحات کے اندازے بتدریج دبائو میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر ساختی کمزوریاں بدستور موجود ہیں۔
ایسے میں دفاعی برآمدات ایک ضمنی سرگرمی کے بجائے ایک اسٹریٹجک ذریعہ بن کر ابھری ہیں۔ جنرل عاصم منیر کی جانب سے ملکی دفاعی صنعت کو بروئے کار لانے کی حمایت اس وسیع تر سوچ کا اظہار ہے کہ عسکری صلاحیتیں معاشی فوائد بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ مئی 2025ء کے بحران کے دوران پاکستانی ہتھیاروں کی کارکردگی ایک غیر ارادی مگر طاقتور عملی مظاہرہ ثابت ہوئی جس نے ممکنہ خریداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ نسبتاً کم لاگت، جنگ میں آزمودہ اور لچکدار مالی شرائط کے ساتھ یہ نظام اچانک عالمی منڈی میں دوبارہ زیرِ بحث آ گئے۔
اس حکمتِ عملی کا مرکز جے ایف17تھنڈر جنگی طیارہ ہے۔ آذربائیجان کا 4.6ارب ڈالر کا معاہدہ، جس کے تحت چالیس جے ایف17بلاک تھری طیارے فراہم کیے جائیں گے، اب تک پاکستان کی سب سے بڑی دفاعی برآمدی کامیابی ہے۔ انڈونیشیا کے ساتھ درجنوں طیاروں اور ڈرونز کے لیی مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں، جو کئی ارب ڈالر کی آمدنی کے ساتھ جنوب مشرقی ایشیا میں طویل المدت دفاعی تعاون کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ سوڈان کے ساتھ ابتدائی طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر کا معاہدہ قریب ہے، جس کے دائرہ کار میں توسیع ہو کر یہ چار ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے، جس میں طیارے، ڈرونز، ہتھیار، تربیت اور لاجسٹکس شامل ہوں گے۔ سعودی عرب نے یا تو چار ارب ڈالر کی براہِ راست خریداری یا تقریباً دو ارب ڈالر کے قرضے کو طیاروں کی خرید میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کیا ہے۔ عراق اور بنگلہ دیش کی دلچسپی بھی پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتی ہے۔
اگر ان میں سے چند معاہدے بھی عملی صورت اختیار کر لیتے ہیں تو مالی آمدن دسیوں ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ زرِمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرے گی، ادائیگیوں کے توازن پر دبا کم کرے گی اور قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرے گی، یوں آئی ایم ایف کی ہنگامی مداخلتوں پر انحصار میں کمی آ سکتی ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا یہ کہنا کہ مسلسل اسلحہ برآمدات پاکستان کو مستقبل کے بیل آئوٹس سے بچا سکتی ہیں، اگرچہ کچھ حد تک خوش فہمی ہو سکتا ہے، مگر یہ اس بڑھتی ہوئی آگاہی کی عکاسی کرتا ہے کہ روایتی برآمدی ماڈلز اب کافی نہیں رہے۔
تاہم ماہرینِ معیشت خبردار کرتے ہیں کہ دفاعی برآمدات اکیلے پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتیں۔ اسلحہ کی فروخت کو وسیع تر مالی نظم و ضبط، برآمدی تنوع اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ غیر دفاعی برآمدات میں محدود اضافہ اس امر کا ثبوت ہے کہ معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی ہمہ جہت پیش رفت ناگزیر ہے۔
اس کے باوجود ایسے مواقع شاذ ہی اس قدر واضح انداز میں سامنے آتے ہیں۔ بحران کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت، اس کے بعد سفارتی استحکام اور معاشی روابط نے پاکستان کے لیے وہ اسٹریٹجک گنجائش پیدا کی ہے جس کی اسے طویل عرصے سے کمی تھی۔ اگر اس لمحے کو مربوط معاشی پالیسی اور مسلسل اصلاحات سے ہم آہنگ کیا گیا تو طاقت اور تحمل سے حاصل ہونے والی کامیابیاں بالآخر زیادہ مالی خودمختاری اور ایک محفوظ قومی مستقبل میں ڈھل سکتی ہیں۔





