Column

8فروری کی ہڑتال: احتجاج، انتشار یا سیاسی مجبوری؟

8فروری کی ہڑتال: احتجاج، انتشار یا سیاسی مجبوری؟
تحریر: رفیع صحرائی
8 فروری پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک متنازع حوالہ بن چکا ہے۔ عام انتخابات کو منعقد ہوئے دو سال ہو چکے مگر دو سال گزرنے کے باوجود ان انتخابات کے گرد اٹھنے والے سوالات ختم نہیں ہو سکے۔ ایسے میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 8فروری کو ملک گیر ہڑتال کی کال محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی حکمتِ عملی ہے جو ریاستی نظم، معاشی استحکام اور جمہوری تسلسل کے لیے نئے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
میں ہمیشہ آئین، قانون اور ریاستی اداروں کے استحکام کا داعی رہا ہوں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کسی بھی سیاسی جماعت کو احتجاج کا جمہوری حق ضرور حاصل ہے مگر شٹر ڈان اور ہڑتالیں وہ راستہ نہیں جن سے قومی مفادات کو تقویت ملتی ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہڑتالوں نے ہمیشہ قومی معیشت کو نقصان پہنچایا جبکہ عام آدمی کو دوہرے عذاب میں مبتلا کیا۔ اگر ہم بانی پی ٹی آئی کے ماضی کو دیکھیں تو اپوزیشن میں رہتے ہوئے وہ پاکستان کے شہروں کے نام لے لے کر پورے ملک کو بند کر دینے کی دھمکیاں دیا کرتے تھے۔ پھر جب انہیں اقتدار ملا تو ان کے موقف میں مکمل تبدیلی آ گئی۔ تب وہ سڑکوں پر احتجاج اور شٹر ڈان ہڑتال کو ملک دشمنی قرار دیا کرتے تھے۔ ان کے دل میں عام دکان داروں اور مزدوروں کے لیے ہمدردی کے جذبات امڈ آیا کرتے تھے۔ تقدیر انہیں ایک مرتبہ پھر اپوزیشن میں لے آئی تو اپنے ہی قائم کردہ اصولوں کو انہوں نے پسِ پشت ڈال دیا۔ پھر انہیں دکان دار یاد رہے نہ غریب مزدور اور دیہاڑی داروں کے لیے ان کے دل میں ہمدردی رہی۔ سبھی سیاست دان ایسے ہی ہوتے ہیں۔ سب کے دوہرے معیار ہوتے ہیں۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے ان کے چہرے پر جو ماسک ہوتا ہے حکومت میں آ کر اسے اتار پھینکتے ہیں اور دوسرا ماسک پہن لیتے ہیں۔ موقع محل کے حساب سے یہ ماسک بدلتے رہتے ہیں۔ اصل چہرے کہیں چھپ جاتے ہیں جو انہیں خود بھی نظر نہیں آتے۔
پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ 8فروری کے انتخابات عوامی مینڈیٹ کے برعکس تھے اور اسی لیے وہ اس دن کو’’ یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر منانا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انتخابی نتائج پر تحفظات تھے تو ان کا آئینی فورم عدالتیں اور پارلیمنٹ تھیں۔ سڑکوں پر آ کر نظام کو مفلوج کرنا نہ جمہوری حل ہے اور نہ ہی قومی روایات کے مطابق ہے۔ سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنا ہمیشہ آخری آپشن ہوا کرتا ہے۔ اس سے پہلے عدالتی راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ مذاکرات کی میز پر معاملات حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر بدقسمتی سے پی ٹی آئی معاملات کو سدھارنے کا آغاز ہی آخری آپشن سے کرتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت شدید انتشار کا شکار ہے۔ مرکزی رہنما جیلوں میں ہیں۔ تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے اور صوبائی سطح پر واضح قیادت کا فقدان ہے۔ ایسی صورتحال میں ملک گیر ہڑتال کی کال سیاسی قوت سے زیادہ سیاسی بے بسی کا اظہار معلوم ہوتی ہے۔
دوسری جانب حکومت کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ اگر عوام کے ایک بڑے طبقے میں بے چینی موجود ہے تو محض انتظامی اقدامات اور سیکیورٹی پلان سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے سنجیدہ مکالمہ، شفاف طرزِ حکمرانی اور معاشی ریلیف ناگزیر ہے۔
سیاسی اختلافات کو ریاستی کمزوری کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ دشمن قوتیں پہلے ہی پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے درپے ہیں۔ ایسے میں ہڑتالیں، دھرنے اور انتشار کسی کے مفاد میں نہیں۔ ایران کی صورتِ حال ہمارے سامنے ہے۔ جب اس نے امریکہ اور اسرائیل کے آگے جھکنے سے انکار کیا تو اسے اندرونی خلفشار سے دوچار کر کے کمزور کیا جا رہا ہے۔ امریکہ وہاں حکومت مخالف قوتوں کو ہوا دے رہا ہے۔ ہمارا دشمن میدانِ جنگ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد ہمیں اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اس بات کا ادراک حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں کو اچھی طرح ہونا چاہیے۔
8 فروری کی ہڑتال اگر محض علامتی احتجاج تک محدود رہی تو شاید وقتی سرخیوں سے آگے نہ جا سکے۔ لیکن اگر اسے زبردستی شٹر ڈائون یا تصادم کی شکل دی گئی تو نقصان صرف پی ٹی آئی یا حکومت کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہو گا۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں احتجاج کے حق کو آئین کی حدود میں رکھتے ہوئے قومی استحکام کو مقدم رکھیں۔

جواب دیں

Back to top button