ColumnZia Ul Haq Sarhadi

ایم ایل۔1ریلوے کے روشن مستقبل کی نوید

ایم ایل۔1ریلوے کے روشن مستقبل کی نوید
ضیاء الحق سرحدی
گزشتہ دنوں ایشیائی ترقیاتی بینک ( اے ڈی بی) نے پاکستان میں مین لائن ون ( ایم ایل۔1) منصوبے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ یہ ایک بڑا ریلوے انفراسٹرکچر منصوبہ ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور تک پاکستان کی موجودہ ریلوے لائن کو اپ گریڈ اور جدید بنایا جائے گا۔ گوادر پرو کے مطابق انہوں نے انکشاف کیا کہ ایم ایل۔ 1کے کراچی روہڑی سیکشن کا سنگ بنیا د جولائی 2026 ء میں رکھا جائے گا۔ ایم ایل ون پاکستان کا وہ بنیادی منصوبہ ہے جس کا ذکر برسوں سے ہوتا آرہا ہے مگر عملی پیش رفت تاخیر کا شکار رہی، یہ تاخیر محض ایک ریلوے لائن تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سی پیک کے پورے تصور کو سست روی میں مبتلا کیے رکھا۔ حالانکہ ابتدا ہی سے یہ واضح تھا کہ جب تک ملک کا مرکزی ریلوے ڈھانچہ جدید نہیں ہوگا، علاقائی تجارت، صنعتی توسیع اور ترسیل کا خواب ادھورا رہے گا۔ ایم ایل ون دراصل پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ کراچی سے پشاور تک ایک محفوظ، تیز رفتار اور جدید ریلوے نظام نہ صرف لاگت کم کرے گا بلکہ صنعتوں کو بندر گاہوں، منڈیوں اور سرحدی راستوں سے موثر طور پر جوڑ دے گا۔ یہی وہ ربط ہے جس کے بغیر سی پیک کے حقیقی ثمرات سامنے نہیں آسکتے۔ سڑکوں پر انحصار کم ہوگا، مال برداری کا نظام بہتر ہو گا اور اندرون ملک صنعت کاری کو نئی رفتار ملے گی۔ اس منصوبے پر پیش رفت اس لیے بھی امید افزا ہے کہ اس سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔ تعمیر سے لے کر آپریشن تک، مقامی افرادی قوت کو شامل کرنے کا موقع ملے گا۔ ساتھ ہی ریلوے کے گرد صنعتی زونز، گودام اور لاجسٹک مراکز وجود میں آئیں گے۔ ایم ایل ون کی تکمیل در اصل سی پیک کو ایک نعرے سے عملی حقیقت میں بدلنے کی کنجی ہے۔ اگر یہ منصو بہ بروقت اورشفاف انداز میں آگے بڑھا تو پاکستان کے لیے صنعتی ترقی اور علاقائی رابطے کا نیا باب کھل سکتا ہے۔ حالانکہ 2020ء میں قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی ( ایکنک) نے پاکستان اور چین کے درمیان لاگت شیئرنگ کی بنیاد پر کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن ( ایم ایل ون) کی اپ گریڈیشن کی منظوری دے دی تھی۔ دنیا بھر میں ٹرین کارگو مصنوعات کی ارزاں منتقلی کا اولین ذریعہ مانا جاتا ہے مگر بد قسمتی سے قیام پاکستان کے بعد پاکستان ریلوے کو سیاسی وجوہ پر مسلسل نظر انداز کیا گیا جس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے نئی لائنیں بچھانا تو دور کی بات پرانی ریلوے لائینوں کی مرمت اور توسیع کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ ایم ایل ون ریلوے لائن منصوبے کے1ہزار 872کلومیٹر طویل ٹریک کے عملی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ایم ایل ون منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور اور ٹیکسلا سے حویلیاں تک ریلوے ٹریک کو اپ گریڈاور ڈبل کیا جائے گا، حیدرآباد سے ملتان کے درمیان طویل ترین749کلومیٹر کا ٹریک بھی ڈبل اور اپ گریڈ ہو گا۔ نئے اور بہتر ریلوے ٹریکس سے مسافر ٹرینوں کی رفتار 110سے بڑھ کر160کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ یہ منصوبہ 1سے2لاکھ مقامی افراد کو روزگار فراہم کرے گا۔ سی پیک کے تحت چین کے تعاون سے ایم ایل ون منصوبہ کی تکمیل کے بعد نہ صرف ریلوے کے نظام میں بہتری آئے گی اور 24گھنٹے کا سفر 7گھنٹے میں طے ہوگا بلکہ انڈر اور اوور ہیڈ پاسز کی تعمیر سے حادثات کا اندیشہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ایم ایل ون منصوبہ کو نئے اور خوشحال ترقی یافتہ پاکستان کی جانب اہم قدم اور سنگ میل کہا جا سکتا ہے۔ گوادر پورٹ پرسی پیک منصوبے کے تحت کام تیز رفتاری سے جاری ہے اور ملک کی اہم شاہرائوں کو گوادر پورٹ سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ بھاشا ڈیم کا میگا پراجیکٹ اور وہاں پر بجلی کی پیداوار کا منصوبہ بھی سی پیک کا حصہ ہے اور اب سی پیک منصوبوں میں ایک نیا منصوبہ ریلوے لائن ایم ایل ون ہے جس سے ذرائع آمدورفت اور سامان کی نقل و حمل میں انقلاب برپا ہوگا۔ اس منصوبے سے لوگوں کو تیز ترین اور آرام دہ سفر سہولیات میسر آئیں گی۔ سی پیک منصوبوں کے تحت پورے ملک میں سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے جبکہ ریلوے کی اپ گریڈیشن سے سی پیک کے ثمرات خطے کے دوسرے ممالک کو بھی ہوں گے جس سے یہ پورا خطہ ترقی کرے گا۔ دنیا پھر میں ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک اپنے شہریوں کو بلا امتیاز بہترین سفری سہولیات کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی عوام آرام دہ اور بہترین سہولیات کے ساتھ کم از کم منزل مقصود پر پہنچ سکیں۔ بلٹ ٹرین اس کی ایک مثال ہے جس کی رفتار 500کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر کبھی ہمارے ملک میں یہ ٹرین چل سکی تو کراچی سے پشاور کا سفر تین سے چار گھنٹے کا ہوگا۔ جو کہ ہمارے لئے ایک خواب ہے۔ خدا کرے کہ یہ خواب جلد از جلد شرمندہ تعبیر ہو۔ سی پیک منصوبے سے پورے خطے کیلئے خوشحالی اور روزگار کے منصوبے پیدا ہونگے۔ سی پیک منصوبہ سے ہماری اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ پاکستان کے قدیم دوست چین کے تعاون سے ریلوے کی جدت، تعمیر و ترقی کے ML-1نامی جس منصوبے کا آج کل ہر طرف شہرہ ہے اس سے مراد پشاور سے کراچی تک ریلوے لائن براستہ لاہور اور ملتان ہے جس کا فاصلہ تقریبا1681کلومیٹر ہے۔ پاکستان ریلوے کا قیام برٹش دورِ حکومت میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہوا اور ریلوے کی پہلی ٹرین کراچی سٹی اور کوٹری سٹی کے درمیان 13مئی 1861ء عوام کیلئے کھولی گئی۔ پاکستان ریلوے قومی، دفاعی اور فلاحی ادارہ ہے۔ اس ادارے سے اس ملک کا دفاع بھی منسلک ہے اور اس ادارے کے ذریعے ہی عام حالات اور جنگ کے دوران اسلحے کی نقل و حرکت ریلوے کی ٹرینوں کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ بلا شبہ پاکستان ریلوے سب سے سستا، محفوظ، آرام دہ اور آلودگی سے پاک ذریعہ ہے۔ اس طرح پاکستان ریلوے ملکی معیشت اور دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور درحقیقت پاکستان ریلوے چاروں صوبوں کی زنجیر ہے۔ دنیا میں اس وقت مال گاڑیاں 25ٹن ایکسل لوڈ کے ساتھ چلتی ہیں جبکہ ہمارا ٹریک 22ٹن سے زیادہ لوڈ برداشت کرنے کا اہل نہیں۔ ان حالات میں ML-1کا منصوبہ سی پیک کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا بھر میں ریلوے کو کم سی کم ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والا ٹرانسپورٹ کا ذریعہ مانا جاتا ہے۔ جب 136گاڑیاں ML-1پر چلیں گی تو بہت سا وہ فریٹ جو سڑک کے ذریعے ٹرانسپورٹ ہوتا ہے وہ ریلوے پر منتقل ہونا شروع ہوجائے گا اور ریلوے کی آمدن میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا۔ اس وقت ملک کا صرف 4فیصد حصہ کراچی سے بذریعہ ریل اٹھایا جاتا ہے جبکہ بقایا تمام فریٹ روڈ پر چلا جاتا ہے۔ ML-1کے بعد یہ حصہ تقریبا20فیصد ہونے کی توقع ہے جس سے سڑکوں پر ٹریفک بھی کم ہوجائے گی اور حادثات میں بھی کمی ہوگی۔ اس سے نہ صرف آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ ڈیزل کی درآمد پر بھی بہت خوشگوار اثر پڑے گا کیونکہ ریلوے سڑک کے مقابلے میں پانچ گناہ ایندھن کم استعمال کرتا ہے۔ ان حالات میں ML-1کا پراجیکٹ آنا ایک نعمت اور انقلاب سے کم نہیں۔ ML-1، 9سال میں مکمل ہوجائے گا، مکمل ہونے کے بعد کراچی سے پشاور سفر کا دورانیہ 15گھنٹے رہ جائے گا جبکہ لاہور اور راولپنڈی کا دورانیہ اڑھائی گھنٹے، لاہور سے کراچی 10گھنٹے، لاہور سے ملتان 3گھنٹے، اسی طرح پنڈی سے پشاور پونے دو گھنٹے رہ جائے گا۔ انشا اللہ آنے والے وقت میں پاکستان ریلوے کا شمار دنیا کی اہم ترین ریلوے میں ہوگا اور یہ ایشیا کے نیٹ ورک کا بہت اہم حصہ بن جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا ایشین ٹائیگر کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔

جواب دیں

Back to top button