مقاصد و مفادات

مقاصد و مفادات
محمد مبشر انوار
عالمی منظر نامے پر حالات ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ تحریر شائع ہونے تک ،ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت ہو چکی ہو کہ ابھی تک امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل دبائو بڑھایا جارہاہے اور امریکہ ہر صورت یہ چاہتا ہے کہ ایران میں حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے۔ بروز منگل، اطلاعات یہ ہیں کہ امریکی طیاروں نے ایرانی فضائی حدود میں پروازیں کی ہیں جس سے کھلی جارحیت و جنگ واضح دکھائی دے رہی ہے ،جو امریکی صدر ٹرمپ کی مجبوری سے کہیں زیادہ اسرائیلی خواہش معلوم ہوتی ہے ۔ امریکہ اور اسرائیلی کی یہ شدید خواہش ہے کہ کسی بھی طرح موجودہ حکومت کی جگہ، سابق شاہ ایران کے بیٹے کو اقتدار سونپ کر ،ایران پر ماضی کی طرح اپنا کنٹرول بحال کردیا جائے،اس ضمن میں امریکہ کسی عالمی اصول و قانون کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مطابق،جیسے چاہے اور جہاں چاہے،اپنی تابع فرمان حکومتوں کو بٹھانا چاہتا ہے۔ امریکی صدر اپنے انتخابی منشور کے برعکس بتدریج،امریکہ کو جنگوں میں تو دھکیل ہی رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ، امن عالم کو بھی دائو پر لگانے پر تلے دکھائی دیتی ہیں۔ بظاہر یہ انا کے فیصلے دکھائی دیتے ہیں لیکن پس پر دہ معاملات ، اپنی دائو پر لگی عالمی حیثیت کی بقا ہے کہ اس وقت امریکہ کے لئے ایسی جنگوں سے بچنے کا مطلب یہ ہے کہ جنگل کا شیر بوڑھا ہو چکا اور اپنا شکار نہیں کر سکتا یا یوں سمجھ لیں کہ اپنی طاقت کا اظہار کرنا امریکہ کی مجبوری بن چکا ہے۔ ایک طرف چین ہے، جو ایک معاشی دیو تو بن ہی چکاہے اب تقریبا براہ راست عالمی معاملات میں امریکی اختیار کو للکار رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک عرصہ تک امریکہ کا طوطی بولتا رہا ہے لیکن اب بیشتر خلیجی ریاستوں کا رجحان امریکہ کی بجائے چین کی جانب ہو چکا ہے۔ امریکہ اپنے اثر و رسوخ کو بچانے کی ویسی ہی کوششوں میں مصروف ہے، جس طرح بجھتے ہوئے دئیے کی لو آخری سانسیں لے رہی ہو لیکن آثار یہی بتا رہے ہیں کہ بالآخر دئیے کو بجھنا ہی ہے کہ امریکہ کی معاشی حیثیت بھی اس وقت انتہائی دگرگون صورتحال سے دوچار ہے۔ امریکی صدر ،امریکی معیشت کو بچانے کے لئے اپنی بھرپور تگ و دو کررہے ہیں اور ایسے ایسے فیصلے لے رہے ہیں،جن سے ان کی بدحواسی و بداعتمادی صاف دکھائی دے رہی ہے کہ ایسے تجارتی قوانین کہ اپنے حریفوں پر غیر حقیقت پسندانہ ٹیرف کا نفاذ،جو کسی بھی صورت قابل عمل نہیں کہ اس ٹیرف کے نفاذ سے ،تجارتی توازن قائم ہی نہیں رہ سکتااور نہ ہی دنیا اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف جس طرح دنیا سے سرمایہ کاری کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،یہ اقدامات بذات خود، امریکی معیشت کا بھانڈا کھول رہے ہیں جبکہ میری دانست میں امریکی صدر کے لئے یہ ایک سراب ہی ثابت ہو گا ۔ اس سراب کی بنیادی وجہ ،خود امریکی نظام حکومت ہے کہ صدارتی مدت صرف چار سال ہے ،اور اس مدت کا ایک سال ٹرمپ گزار چکے ہیں،جبکہ ایسے غیر یقینی شخص کو ،تسلی و تشفی دینے کا واحدطریقہ یہی ہے کہ اس کی بات ایسے مان لی جائے کہ لاٹھی ٹوٹے بغیر ہی سانپ مر جائے،اور ٹرمپ کی باقی ماندہ مدت ،طفل تسلیوں یا طریقہ کار طے کرتے ہی گزر جائے۔ اب ٹرمپ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اپنے عہدہ صدارت کو طوالت دینے کی خاطر ،امریکی آئین میں ترامیم کروا سکے کہ نہ تو کانگریس اور نہ ہی سینیٹ،کسی ایسی ترمیم کے لئے ٹرمپ کا ساتھ دینے کو تیار ہو گی،بہرحال یہ گمان ہے اور کون جانے کہ امریکہ میں بھی پاکستان کی مانند،ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ ٹرمپ ،آئین میں ترمیم کروا لیں، گو کہ یہ ازراہ تفنن ہی ہے کہ امریکہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔
بہرکیف، موجودہ حالات میں یہ حقیقت ایک بار پھر واضح نظر آ رہی ہے کہ صدی کے شروع میں کروسیڈ وار کا نعرہ لگانے والے امریکی ،آج بھی اس پر یقین رکھے ہوئے ہیں اور پوری دنیا میں اس وقت کشیدہ ترین حالات کا سامنا مسلم ممالک کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ایران ایک عرصہ سے ،معاشی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود،آج تک اپنی حیثیت نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ آج بھی امریکہ و اس کے حواریوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے ۔ کروسیڈ وار کے پس منظر میں ،موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو کھیل کی سمجھ بخوبی آتی ہے کہ کیوں امریکہ ہاتھ دھو کر ،ایران کے خلاف صف آرا ہے کہ کروسیڈ وار ک نعرہ لگانے کے بعد،مشرق وسطیٰ کا خطہ مسلسل بدامنی کا شکار ہے اور امریکہ،بتدریج اس خطے کو شعلوں میں جھونکتا چلا جارہا ہے۔ یہاں اپنے فوجی اڈے قائم کرکے ،ایک طرف تمام ریاستوں کو دبائو میں رکھا ہے تو دوسری طرف کسی بھی ریاست کی جانب سے جوابی کارروائی کی صورت ،نقصان پھر بھی مسلم ریاست کا ہی ہو گا،جو امریکی خواہشات کے عین مطابق ہو گا کہ امریکی چند ایک فوجیوں یا اسلحے کے انبار سے معمولی مقدار اگر ضائع ہو بھی جاتی ہے تو اس سے بھی فائدہ امریکہ کو ہی پہنچے گا کہ وہ مزید جارحیت اور جنگ کو بڑے پیمانے پر پھیلانے میں خود کوحق بجانب سمجھے گا۔بظاہر یہ جنگ امریکی انا کی سجھائی دیتی ہے جبکہ امریکہ کے پیچھے چھپا اسرائیل اس کا براہ راست ثمرات سمیٹے گا کہ یہ ساری آگ درحقیقت اسرائیل ہی کی لگائی ہوئی ہے ،جس میںامریکہ کی پشت پناہی کے بغیر ،اس کی کامیابی ممکن نہیں ہے کہ ماضی اس امر کا گواہ ہے کہ اسرائیل تن تنہا اس جنگ میں قطعی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اسرائیلی خواہشات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل اس خطے میں اپنی چودھراہٹ ہر صورت قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل اب تک ویسے بھی فلسطین کو ہڑپ کر چکا ہے جبکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کی چھیڑ خوانیاں بھی ہر وقت جاری رہتی ہے اور اس کی بد نظریں ان پر گڑی ہیں،کہ کب معاملات اس کے ہاتھ آئیں اور وہ پڑوسی ریاستوں پر بھی اپنا قبضہ کرنے میں کامیاب ہو۔ مصر،شام،اردن اور لبنان کی صورتحال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح اسرائیل نے ان ریاستوں میں ریشہ دوانیاں تو انتہائی چھوٹا لفظ ہے،اسرائیل ان ریاستوں میں ہر طرح کی مداخلت بھی کرتا ہے،دباؤ بھی ڈالتا ہے اور ا س کے باوجود ان ریاستوں پر براہ راست قبضہ کرنے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے۔ گو کہ اس وقت بھی ان ریاستوں میں سے کوئی بھی ریاست اسرائیلی خواہشات کے برعکس کام کرنے کو تیار نہیں اور درون خانہ اسرائیل کی خدمت میں جتی دکھائی دیتی ہیں ،کسی ریاست میں اتنی جرآ ت نہیں کہ کھلے بندوں انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کر سکیں حالانکہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے مسلم بھائیوں کو ظلم و درندگی کا نشانہ بنتے دیکھ رہے ہیں لیکن ظالم کے خلاف بروئے کار آنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
اس پس منظر میں، امریکی پشت پناہی اور بلاجواز قرب و جوار کی ریاستوں میں ڈیرے جما کر، ایسی اسلامی ریاست ،جو اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھل کر سامنے آئی، اس پر جنگ مسلط کرنے کے پیچھے یہی عوامل دکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ بہرصورت گریٹر اسرائیل کے قیام میں، اسرائیل کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے تاہم اس جنگ کے نتیجہ میں اگر امریکہ کامیاب ہوتا ہے، تو بعینہ عراقی معدنی وسائل پر قبضہ اسے مل سکتا ہے ۔ اس وقت تک بظاہر یہی امریکی پیشقدمی کے سامنے کوئی بھی ریاست کھڑی ہوتی نظر نہیں آئی، البتہ ایران چونکہ چین کا سٹریٹجک پارٹنر ہے اور اس کشیدگی میں بالآخر چین نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے، ایران کی ہر طرح کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ شنید یہ بھی ہے کہ روس بھی مزید خاموش نہیں رہنے والا اور کسی بھی صورت امریکہ کو مزید من مانی کرنے اور خطے کے امن کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن اس کا فیصلہ اگلے جند دنوں میں بخوبی ہو جائیگا۔ تاہم بظاہر امریکہ کے یہی مقاصد و مفادات دکھائی دیتے ہیں، جن کے حصول میں وہ بدمست ہاتھی کی مانند، کرہ ارض پر ہر مخالف کے خلاف روبہ کار آنے کو بے چین دکھائی دیتا ہے لیکن یہ بھول رہا ہے کہ صرف اپنی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے یا اپنے اختیار کو ثابت کرنے کے لئے امریکہ پوری دنیا کے امن کو دائو پر لگا رہا ہے۔





