Column

ایران میں کوئی خوف نہیں

ایران میں کوئی خوف نہیں
صورتحال
سیدہ عنبرین
زندہ قومیں اپنے ازلی دشمنوں کو میدان جنگ میں شکست دینے کیلئے ہمیشہ تیار و بے چین رہتی ہیں، جبکہ غلام قوموں کے افراد کرکٹ میچ جیت کر سمجھتے ہیں انہوں نے اپنے دشمن کو زیر کر لیا ہے، بس یہی کافی ہے۔ ایران نے جس انداز میں گزشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا جواب دیا اس نے دنیائے اسلام میں ایک نئی روح پھونک دی ہے، اس سے قبل فلسطینی مجاہدین، حماس اور حزب اللہ نے اپنے لہو سے جو تاریخ رقم کی وہ اسرائیل پر آج بھی لرزہ طاری کر دیتی ہے ۔ اسرائیل کے پیچھے امریکہ اور یورپ کی مکمل طاقت کھڑی تھی، لیکن وہ فلسطینی جانباروں سے فلسطین خالی نہ کرا سکے۔ بعض مسلمان ممالک اگر درپردہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ نہ کھڑے ہوتے تو فلسطین کب کا آزاد ہو چکا تھا۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے جو کوششیں گزشتہ کئی برس سے جاری رکھی ہیں وہ تمام بری طرح ناکام رہی ہیں۔ آج وہ ایک مرتبہ پھر ایران کی ہر دلعزیز قیادت کے مقابل سابق شاہ آف ایران کے بیٹے رضا شاہ کو لے آئے ہیں، وہ یہ بھولے ہوئے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب بنیادی طور پر بادشاہت کے خلاف تھا۔ امریکہ، اسرائیل اور یورپ کی اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی کہ وہ دنیا بھر میں جمہوریت کا پرچار کرتے ہیں، لیکن انہیں گزشتہ 47برس میں کوئی متبادل جمہوری چہرہ نہیں ملا۔
مرحوم سابق شاہ آف ایران ایشیا میں امریکہ اور سی آئی اے کے نمائندہ تھے، یہی طاقتیں آج پھر اپنے نمک خواروں کو اقتدار میں لا کر ایرانی وسائل کو لوٹنے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے پرانا طریقہ واردات استعمال کرنے کی کوشش کی، جو انہوں نے ستر کی دہائی کے وسط میں ایک مرتبہ پاکستان میں استعمال کیا۔ پہلے مرحلے پر عوام کو سڑکوں پر لایا گیا۔ دوسرے مرحلے میں انتخابی دھاندلی کو مذہبی تڑکا لگایا اور آخری مرحلے میں بذریعہ مارشل لاء دس برس کیلئے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی۔ مارشلائی چہرے جب اپنا مشن پورا کر چکے تو پھر ان سے یکمشت جان چھڑا لی گئی۔ ایران میں سب سے پہلے کاروباری طبقے کو ساتھ میں لیا گیا، پھر ڈالر کے زور پر رقص کرنے والے میدان میں آ گئے۔ ان کا زور اس وقت ٹوٹا جب ایرانی فوج اور انٹیلی جنس نے ایک بڑا معرکہ مارا اور آٹھ سو ایسے افراد گرفتار کر لئے جو امریکہ، اسرائیل، جرمنی اور بعض دوسرے ممالک سے رابطوں میں تھے اور ہدایات کے مطابق ان نقاب پوشوں کو مدد فراہم کر رہے تھے جو مسلح ہو کر مساجد اور سرکاری عمارات کو نذر آتش کر رہے تھے۔ ایران میں انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود اشتعال انگیز ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہی تھیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ایلون مسک کا سیٹلائٹ اور اسرائیلی ٹرمینل مکمل طور پر فعال تھے، بعض ویڈیوز میں ڈیڈ باڈی بیگز دکھائے گئے، ایسے لاشوں سے بھرے کمرے ہمیں کرونا کے زمانے میں بھی دکھائے گئے تھے، جب دنیا کو موت کے خوف میں مبتلا کر کے گھروں میں قید کرنا تھا۔ لہٰذا اس مرتبہ یہ جعلی لاشوں کے بیگ کوئی تاثر پیدا نہ کر سکے۔ یہ کہانی اس وقت دنیا کے سامنے آئی جب ایرانی حکومت نے برطانیہ، جرمنی، اٹلی، فرانس اور بعض دیگر ممالک کے سفیروں نمائندوں کو بلا کر انہیں بڑی سکرین پر یہ ویڈیوز دکھائیں، جن میں نقاب پوش شرپسند عناصر تخریبی کارروائیوں میں مصروف تھے، انہیں دکھایا گیا کہ ایرانی پولیس یا فوج قتل عام نہیں کر رہی، بلکہ گماشتے سب کچھ کر رہے ہیں۔ پٹرول بم چلاتے اور املاک نذر آتش کرتے واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔
مہنگائی کے نام پر عوام کو سڑکوں پر لانے والے دنیا کو اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ انہوں نے 47سال سے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کیلئے کب اور کہاں آواز بلند کی، آج اگر ایران اقتصادی بدحالی کا شکار ہے تو اس کی وجہ صرف یہ پابندیاں ہیں۔
وینزویلا پر امریکی جارحیت کے بعد تو دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ وسائل پر قبضوں کی ہوس نے امریکہ کو اندھا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا وہ کسی یو این او، کسی ادارے، کسی قانون کو نہیں مانتا، اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون ہے، جو وہ سوچتا ہے، کہتا ہے، کرتا ہے اور کرنا چاہتا ہے فقط وہی درست ہے۔ کیا اب بھی امریکہ کے بارے میں کوئی ابہام باقی ہے کہ وہ ایک جمہوری ملک ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔ اسرائیل کے سر پر حماس اور حزب اللہ سوار ہیں، امریکہ کے سر پر اور اعصاب پر ایران سوار ہے۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ کو دونوں ملکوں کے حوالے سے بھیانک خواب آتے ہیں، وہ راتوں کے پچھلے پہر اچانک ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران پر حملے کی دھمکی نے پورے ایران کو ایک مٹھی کی طرح اکٹھا کر دیا ہے، آج ایران کے ہر شہر کی گلیاں و بازار احتجاجی نعروں کی بجائے حکومت کے حق میں آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ مرگ بر امریکہ مقبول ترین نعرہ ہے۔ ٹرمپ کو پہلے رائونڈ میں شکست ہو چکی ہے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، لہٰذا دوسرا وار اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے کرتے ہوئے ان ممالک پر مزید 25فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو ایران سے کسی نہ کسی انداز میں کچھ نہ کچھ کاروبار کرتے ہیں۔ ان ممالک میں بھارت، ترکیہ، سعودی عرب، یو اے ای، عراق، جرمنی، روس اور چین ہیں۔ اس حوالے سے جاری کئے گئے ایگزیکٹو آرڈر کا مقصد فقط ایک ہے کہ ایران پر عرصہ حیات تنگ کیا جائے، امریکہ کو یاد رکھنا چاہئے گزشتہ قریباً نصف صدی سے عائد پابندیوں کے باوجود ایران اور ایرانی قوم ایک شان سے زندہ ہے، اس کا میزائل پروگرام اور جوہری پروگرام اس کی قوت بازو سے پروان چڑھا ہے، جس نے اسرائیل کو حقیقی خوف میں مبتلا کر رکھا ہے، وہ خوب جانتا ہے جب تک ایران میں رہبر معظم علی خامنہ ای کی حکومت ہے وہ ایران اور فلسطین کو ہڑپ نہیں کر سکتا۔
ایران نے ایک مرتبہ پھر اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے، لیکن ہم ہر وقت جنگ کیلئے تیار ہیں اور دشمن کو پہلے سے زیادہ طاقت سے جواب دیں گے۔ آج کسی ایرانی کے چہرے پر کوئی خوف نہیں، لہو گرما دینے والے ترانوں سے ایران کے در و دیوار گونج رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button