قومی سلامتی اور قومی بیانیہ

قومی سلامتی اور قومی بیانیہ
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی جغرافیائی، سیاسی اور سماجی اہمیت عالمی سطح پر غیر معمولی ہے۔ اس کی داخلی اور خارجی سلامتی کے مسائل صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ قومی استحکام، معاشرتی ہم آہنگی اور اخلاقی کردار سے بھی گہرائی میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں قومی پیغام امن کمیٹی ( این پی اے سی) کی ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری سے ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس دوران قومی سلامتی کے امور میں یکسوئی اور بیانیے پر اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ این پی اے سی کا قیام اسی مقصد کے لیے عمل میں آیا کہ پاکستان کے قومی مفاد میں ایک مربوط، واضح اور حقیقت پر مبنی بیانیہ ترتیب دیا جائے، جو نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے معاون ہو بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کرے۔ اس موقع پر فتنہ الخوارج، کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) اور تحریک طالبان افغانستان ( ٹی ٹی اے) کے تناظر میں داخلی سلامتی پر جامع گفتگو کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی سلامتی کے مسائل کو بروقت اور موثر انداز میں سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مظلوموں کی حمایت کو پاکستان کی اخلاقی ذمے داری قرار دیا، جو نہ صرف بین الاقوامی انسانی اقدار کے مطابق ہے بلکہ پاکستان کی اخلاقی اور سماجی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا سبب بھی ہے۔ یہ اصولی موقف کشمیر اور غزہ کے مسئلے پر بھی تسلسل کے ساتھ برقرار رکھا گیا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر اخلاقی ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ این پی اے سی نے پاک فوج سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے قومی بیانیے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس بات کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ قومی یکجہتی اور فوج کے ساتھ مضبوط تعاون ہی وہ بنیاد ہے جو دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت انگیزی کے خطرات سے نمٹنے میں پاکستان کے لیے موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اجلاس میں اراکین نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں اور نفرت انگیزی و فرقہ واریت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ اقدام داخلی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ این پی اے سی نے فیصلہ کیا کہ سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو ملک گیر سطح پر پھیلایا جائے۔ اس مقصد کے لیے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی و رہنمائی نشستیں بڑھانے کی تجویز دی گئی، تاکہ نوجوانوں میں فرقہ واریت کے خلاف شعور بیدار ہو اور وہ ایک متحد اور طاقتور پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ اقدام نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دے گا بلکہ نوجوان نسل کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فتنے سے محفوظ رکھنے میں بھی معاون ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ سب سے موثر ہتھیار ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ دہشت گردی اور دشمنی صرف ہتھیاروں یا عسکری قوت سے نہیں روکی جا سکتی بلکہ اس کے لیے ایک مضبوط، معلوماتی اور شعور بیدار کرنے والا بیانیہ تیار کرنا لازم ہے۔ عوام کو اس بیانیے سے روشناس کرانا، انہیں فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز پروپیگنڈے سے بچانا اور قومی مفاد کے لیے متحد کرنا ایک دیرپا حل ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں داخلی و خارجی چیلنجز روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ افغانستان میں عدم استحکام، کشمیر میں غیر حل شدہ مسائل اور عالمی سطح پر پاکستان کے سیاسی و اقتصادی مفادات کے لیے خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسے میں قومی بیانیہ صرف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عملی ضرورت بن گیا ہے۔ ایک مربوط، حقیقت پر مبنی اور اخلاقی اصولوں پر قائم بیانیہ ہی ملک کو داخلی انتشار اور خارجی دبا سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ این پی اے سی کی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی قیادت قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے داخلی اور خارجی مسائل کا جامع حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب فوج، سول ادارے اور عوامی نمائندے ایک صفحے پر آئیں تو دہشت گردی، فرقہ واریت اور بیرونی سازشوں کے خلاف مزاحمت میں ملک مزید مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں قومی مفاد اور عوامی تحفظ آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ اس موقع پر قومی یکجہتی اور انسداد دہشت گردی کے لیے اقدامات کو موثر بنانے پر زور دیا گیا۔ یہ واضح کیا گیا کہ کسی بھی قسم کے دہشت گرد یا انتہا پسند عناصر کے ساتھ مذاکرات یا مفاہمت ملک کے مفاد کے خلاف نہیں بلکہ اندرونی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے این پی اے سی نے زور دیا کہ ریاستی بیانیہ کو مضبوط کرنے اور عوام کو صحیح معلومات فراہم کرنے کے ذریعے دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے۔ مزید برآں، یہ واضح کیا گیا کہ عوام کی زندگیوں کی حفاظت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی قومی مفاد کا حصہ ہے۔ تعلیم، صحت اور معاشرتی انصاف کے شعبے میں بہتری کے بغیر کوئی بھی ملک مضبوط نہیں ہوسکتا۔ اس لیے این پی اے سی نے یہ پیغام دیا کہ صرف عسکری یا حفاظتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ سماجی و اقتصادی ترقی کے ذریعے عوام کو مضبوط بنانا بھی قومی مفاد کی بنیاد ہے۔ آج پاکستان کو ضرورت ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو شعور، تعلیم اور اخلاقی اصولوں سے لیس کرے۔ مساجد، مدارس اور جامعات میں قومی بیانیہ کو فروغ دینا، سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو ملک بھر میں پھیلانا اور فرقہ وارانہ تنازعات کو کم کرنا ایک مربوط حکمت عملی ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ عوام میں اتحاد اور قومی فخر بھی پیدا ہوتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی کے اقدامات پاکستان کی بقا، داخلی استحکام اور عالمی ساکھ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ قومی بیانیہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عملی ہتھیار ہے جو ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ فوج، سول ادارے اور عوام کے درمیان یکجہتی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف زیرو ٹالرنس اور مظلوموں کی اخلاقی حمایت، یہی وہ ستون ہیں جو پاکستان کو مضبوط اور مستحکم ریاست بناتے ہیں۔ پاکستان کے قومی مفاد میں ضروری ہے کہ ہر شہری، ہر ادارہ اور ہر لیڈر اس بیانیے کو نہ صرف سمجھے بلکہ اس پر عمل کرے۔ کیونکہ ایک متحد، باشعور اور اخلاقی طور پر مضبوط قوم ہی اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔
سرکاری اداروں پر قرضوں
کا بوجھ، اصلاحات ناگزیر
ملک کے مختلف سرکاری اداروں پر واجب الادا قرضوں اور مالی ذمے داریوں کا حجم 9.5کھرب روپے سے تجاوز کر جانا پاکستان کی معاشی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرے کی نشان دہی کرتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ نے سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی، کمزور گورننس اور حکومتی وسائل پر بڑھتے انحصار کو بے نقاب کر دیا ہے، جو براہِ راست قومی خزانے پر دبا بڑھا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیل، گیس، بجلی اور انفرا اسٹرکچر سے وابستہ سرکاری اداروں کے اخراجات اور قرضے 9557ارب روپے تک پہنچ چکے، جن میں ملکی و غیر ملکی قرضے، رول اوورز اور بھاری سودی ادائیگیاں شامل ہیں۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 4.9ٹریلین روپے تک جا پہنچنا اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف مالی نظم و ضبط کی ناکامی کا ثبوت ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک خطرناک راستے کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔ سرکاری اداروں کو اس وقت کریڈٹ، مارکیٹ اور آپریشنل خطرات کا سامنا ہے، جن کی بڑی وجوہ ناقص انتظامی ڈھانچہ، سیاسی مداخلت اور پیشہ ورانہ فیصلوں کی کمی ہیں۔ ادارے حکومتی ضمانتوں اور مسلسل قرضوں پر انحصار کر رہے ہیں، جس سے ان کی خود انحصاری ختم ہوچکی، صرف 2024ء کی ایک ششماہی میں 616ارب روپے کی مالی معاونت اس بات کا ثبوت ہے کہ خسارے میں چلنے والے ادارے قومی وسائل کو مسلسل کھینچ رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ حکومتی سبسڈیز میں تاخیر نے سرکاری اداروں کی مالی حالت مزید کمزور کردی ہے جب کہ توانائی، تیل اور گیس کے شعبوں میں عالمی قیمتوں کے اتار چڑھائو نے آمدن کو شدید متاثر کیا۔ اس کے ساتھ بوسیدہ نظام، انتظامی کمزوریاں اور منصوبہ بندی میں تاخیر نے اخراجات میں اضافہ اور کارکردگی میں کمی کو جنم دیا۔ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے واضح خبردار کیا کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی مالی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ کریڈٹ رسک مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط بنانا، خسارے میں چلنے والے اداروں کی ری اسٹرکچرنگ، سرکاری ضمانتوں کے اجرا کو محدود کرنا اور ریگولیٹری نگرانی کو موثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ وقتی سہاروں اور قرضوں کے بجائے سخت مگر ناگزیر اصلاحات کا راستہ اختیار کرے۔ سرکاری اداروں کی بہتری صرف مالی نظم و ضبط سے ہی ممکن ہے، کیونکہ مضبوط ادارے ہی مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں۔





