مصنوعی ذہانت اور آج کا ادیب: ایک وجودی چیلنج
مصنوعی ذہانت اور آج کا ادیب: ایک وجودی چیلنج
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسان نے جب پہلی بار لکیر کھینچی تھی تو شاید اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ لکیر آنے والے وقت میں کتنی شکلیں بدل لے گی۔ کبھی یہ لکیر غار کی دیواروں پر نقش ہوئی، کبھی مٹی کی تختیوں پر ابھری، کبھی کاغذ پر چھپی، کبھی اسکرین پر منتقل ہوئی اور آج کوڈ، ڈیٹا اور الگورتھم میں ڈھل رہی ہے۔ یہی تبدیلی انسانی تہذیب کی بنیاد ہے۔ تبدیلی کبھی لفظوں میں آتی ہے، کبھی اوزاروں میں، کبھی رویوں اور کبھی مزاجوں میں ۔
آج جو سب سے بڑی تبدیلی ہم محسوس کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ انسان کے ساتھ لکھنے والا ایک نیا ساتھی پیدا ہو چکا ہے، اور اس کا نام ہے مصنوعی ذہانت ۔ مشینی ادیب
مصنوعی ذہانت ایک ٹیکنالوجی نہیں، ایک تحولیاتی مرحلہ ہے۔ جیسے انسان نے پہیہ ایجاد کیا تھا، جیسے انسان نے بھاپ کا انجن بنایا تھا، جیسے انسان نے بجلی کو قابو کیا تھا، ویسے ہی مصنوعی ذہانت نے معلومات کے سمندر کو کنٹرول کرنے کا طریقہ دے دیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس سوال کو بھی جنم دیا ہے کہ لکھنے والے انسان کا کردار کیا رہ جائے گا؟ کیا ادیب کی جگہ مشین لے لے گی؟ کیا تخلیق الگورتھم سے پیدا ہو سکے گی؟ کیا احساسات پروگرام کیے جا سکتے ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا انسان لفظوں پر اپنی اجارہ داری کھو دے گا؟ اسی تناظر میں آج کے ادیب کے لیے یہ لمحہ موجود نہایت اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ وہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے مستقبل کے بیانیے تشکیل پائیں گے۔
ادب ہمیشہ انسان کے تجربے سے پیدا ہوتا آیا ہے۔ تجربہ وہ نہیں جو محض معلومات ہو، بلکہ تجربہ وہ ہے جو باطن میں محسوس ہو ، ذہنی و جذباتی کشمکش میں ڈھلے، جس میں محرومیاں، ناکامیاں، عشق، ہجرت، موت، تنہائی، شکست، مزاحمت اور سوالات شامل ہوں۔ انسان لفظ لکھنے سے پہلے محسوس کرتا ہے، درد سے گزرتا ہے، رشتوں میں ٹوٹتا ہے، امیدوں میں بنتا ہے۔ یہ تجربہ کسی ڈیٹا سیٹ میں محفوظ نہیں ہو سکتا اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ادب کھڑا ہوتا ہے۔لیکن دوسری طرف مصنوعی ذہانت ہے جو لفظ لکھ سکتی ہے، مضمون بنا سکتی ہے، کہانی تشکیل دے سکتی ہے، اسلوب کی نقالی کر سکتی ہے، حتیٰ کہ ادبی انداز اختیار کر سکتی ہے۔ تو پھر انسانی ادیب کہاں کھڑا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف تکنیکی نہیں، تہذیبی، فکری اور وجودی بھی ہے۔ ٹیکنالوجی ہمیشہ ایک مرحلے تک تخلیقی عمل میں دخل دیتی ہے مگر اسے مکمل طور پر نگل نہیں سکتی، کیوں کہ تخلیق کا بنیادی مادہ احساس ہے اور احساس کسی لیب میں نہیں بنتا۔ کوئی مشین یہ اندازہ نہیں لگا سکتی کہ محبت دل میں کیوں پیدا ہوتی ہے، جدائی کا لمحہ آنکھوں میں کیوں ٹھہر جاتا ہے، موت کس طرح وجود کو چیرتی ہے، یا ہجرت کس طرح انسان کے اندر گھر بسا لیتی ہے۔ کوئی ناقابل یقین لمحہ باطن میں پڑا ڈال دے تو آنکھیں کا عکس کیسا دکھائی دیتا ہے ۔ جب کسی کی یاد مونجھ میں ڈھلتی بدلتی ہے تو چہرے پر کون سا عکس بکھرتا ہے ۔ جب امید حسرت بنتی ہے تو قلب و ذہن پر کیسا نقش ابھارتی ہے ۔یہ اور اس جیسے بیسیوں احساسات ، وہ تجربات ہیں جو انسانی ادیب کی تخلیق کا سرچشمہ ہیں۔
مصنوعی ذہانت ایک الگ دنیائے تحریر پیدا کر رہی ہے، جو سرعت، معلومات اور ساخت کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ ایک مشین چند لمحوں میں ہزاروں الفاظ ترتیب دے سکتی ہے، وہ بھی غلطیوں سے پاک، حوالہ جاتی، مربوط اور سمجھ آنے والے۔ انسانی ذہن کبھی اتنی رفتار سے نہیں چل سکتا۔ مگر کیا سرعت تخلیق کی جگہ لے سکتی ہے؟ کیا معلومات معنی کی جگہ سنبھال سکتی ہے ؟ کیا ساخت داخلی تجربے کا متبادل ہو سکتی ہے؟
یہی وہ سوالات ہیں جہاں انسانی ادیب کی اصل طاقت سامنے آتی ہے۔ وہ طاقت ہے احساس، تضاد، کرب اور سوال کرنے کی صلاحیت۔
مشین محسوس نہیں کرتی، بلکہ پروسیس کرتی ہے۔ وہ لفظوں کو سمجھتی نہیں، بلکہ ترتیب دیتی ہے۔ وہ سوالوں کو پراگمیٹک سطح پر لیتی ہے، وجودی سطح پر نہیں۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیوں کہ یہی فرق تخلیق اور نقالی کے درمیان حد قائم کرتا ہے۔
آج کا ادیب ایک عجیب تضاد میں زندہ ہے۔ ایک طرف اسے یہ خدشہ ہے کہ اس کی جگہ مشین لے لے گی، دوسری طرف اس کے پاس وہ وسائل بھی آ گئے ہیں جو پہلے کسی ادیب کو میسر نہیں تھے۔ آج وہ ایک بٹن کی مدد سے پوری دنیا کی زبانیں پڑھ سکتا ہے، حوالہ جات نکال سکتا ہے، تاریخی مواد حاصل کر سکتا ہے، اور چند لمحوں میں ایک تحریر کی ساخت تیار کر سکتا ہے۔ مگر سہولت صرف رفتار بڑھاتی ہے، تخلیق پیدا نہیں کرتی۔
مصنوعی ذہانت ادب کو تبدیل نہیں کر رہی بلکہ ادب تک رسائی کو تبدیل کر رہی ہے۔ لکھنا وہ ہے جس میں ادیب اپنی روح ڈال دے، اپنا دکھ، اپنا سوال، اپنی شکست اور اپنی امید شامل کرے۔ مصنوعی ذہانت یہ نہیں کر سکتی، کیوں کہ اسے نہ شکست کا احساس ہے نہ امید کا۔ وہ نہ محبت میں جلتی ہے نہ تنہائی میں پگھلتی ہے۔
مصنوعی ذہانت نے ایک اور بحث بھی جنم دی ہے اور وہ ہے سرقہ یعنی Plagiarismکی۔ آج کے تعلیمی و ادبی ماحول میں یہ سوال شدت اختیار کر چکا ہے کہ اگر کوئی مشین سے لکھوائے تو کیا یہ سرقہ ہے؟ یہاں ایک پیچیدگی ہے۔ سرقہ وہاں ہوتا ہے جہاں کسی اور کی تحریر کو اپنا کہہ دیا جائے۔ مگر مصنوعی ذہانت کی تحریر نہ کسی انسان کی ہے نہ کسی مصنف کی۔ یہ نہ سرقہ ہے نہ حقیقی تخلیق۔ یہ معلومات کی Algorithmic Reconstructionہے۔ آج کے دور میں علمی اداروں نے یہ طے کیا ہے کہ اگر متن کی مماثلت کسی حد ( عموماً 20سے 25فیصد) سے بڑھ جائے تو اسے قابلِ قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ اس طرح اے آئی نے ہمارے تحقیقی ضابطوں میں بھی ایک نیا باب کھول دیا ہے۔
تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی نے انسان کا کردار ختم نہیں کیا بلکہ بدل دیا ہے۔ جب کیمرہ آیا تو فنِ مصوری نے حقیقت نگاری سے نکل کر علامتیت اور تجریدیت کی نئی راہیں ڈھونڈ لیں۔ پرنٹنگ پریس نے خطاطی کی جگہ نہیں بلکہ اشاعت میں ناقابل یقین تیزی پیدا کی ہے ۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے آنے سے ادیب ختم نہیں ہو گا، اس کی ذمہ داری بدل جائے گی۔ آج کے ادیب کو نئے سوالوں کی طرف جانا ہو گا۔ مثلاً انسان اور مشین کا تعلق کیا ہے؟ ڈیجیٹل وجود کیا ہے؟ ورچوئل تنہائی کیا ہے؟ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے، ادب ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کو کیا محسوس ہو رہا ہے۔
دنیا بدل رہی ہے مگر انسان کا دکھ نہیں بدلا، اور جب تک دکھ باقی ہے ادب زندہ رہے گا۔ ٹیکنالوجی کی رفتار چاہے کتنی بھی تیز کیوں نہ ہو جائے، انسان کی داخلی دنیا اپنی تمام پیچیدگیوں کے ساتھ موجود رہے گی۔ آج کے ادیب کا اصل کام صرف لکھنا نہیں بلکہ سوچنا، محسوس کرنا اور معنویت کی بازیافت کرنا ہے۔
یہ بات طے ہے کہ مشین کام کر سکتی ہے مگر احساس نہیں رکھتی۔ مشین متن بنا سکتی ہے مگر بیانیہ نہیں گھڑ سکتی۔ ادب انسان کے اندر کے موسم سے جنم لیتا ہے، اور مشین کے اندر کوئی موسم نہیں ہوتا۔ یہی انسانی برتری ہے، یہی ہمارا ورثہ اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔





