Column

چاچا ٹرمپ: امن بھی، خوف بھی

چاچا ٹرمپ: امن بھی، خوف بھی
کالم نگار: امجد آفتاب
مستقل عنوان: عام آدمی
عالمی سیاست اگر شطرنج کا کھیل ہے تو اس کھیل میں سب سے غیر متوقع، بے قابو اور چونکا دینے والا مہرہ ’’ چاچا ٹرمپ‘‘ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی بھی لمحے کچھ بھی کر سکتے ہیں امن کا اعلان بھی، اور طاقت کا ایسا مظاہرہ بھی جو دنیا کو سانس روکنے پر مجبور کر دے۔ ان کے فیصلے کبھی کروڑوں کو بچاتے ہیں، کبھی دنیا کو دنگ کر دیتے ہیں یہی ہے ٹرمپ کا کمال۔
چاچا ٹرمپ کی سیاست کی بنیاد ہی غیر یقینی مزاجی پر کھڑی ہے۔ وہ خود اپنی تقاریر، بیانات اور انتخابی مہمات میں بار بار اس بات کا ذکر کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے مختلف خطوں میں جنگیں رکوا کر دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔ ان کے بقول، اگر وہ منظر پر نہ ہوتے تو کئی تنازعات مکمل جنگوں میں بدل چکے ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حامی انہیں امن کا پیامبر قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے دبائو کی سیاست اور طاقت کے مظاہرے کا نیا انداز سمجھتے ہیں۔
اسی تناظر میں مئی 2025ء میں پاک بھارت چار روزہ جنگ بندی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا، جہاں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں، وہاں چند دن کی جھڑپیں بھی پورے خطے کو ایٹمی تصادم کے دہانے پر لا سکتی ہیں۔ اس چار روزہ جنگ میں پاکستان نے انڈیا کو عبرتناک شکست دی اور اس کی فوجی کارکردگی عبرتناک حد تک متاثر ہوئی۔ اس کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ٹرمپ کے سامنے گڑگڑانے پر، ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور کشیدگی کو بڑھ کر مکمل جنگ میں بدلنے سے روکا۔
یاد رہے، اس وقت ٹرمپ انڈیا اور مودی کو اپنی شعلے بیانی سے لتاڑ رہے ہوتے ہیں، تو وہ واقعی بہت اچھے لگ رہے ہوتے ہیں ایک طرح سے دنیا کے لیے ’’ امن کے نیک چہرے والا غصہ‘‘۔
امریکی موقف اور خود ٹرمپ کے دعوئوں کے مطابق، ان کی سفارتی مداخلت نے چار دن کی شدید جھڑپوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ تصادم نہ رکتا تو اس کے نتائج صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہ رہتے بلکہ کروڑوں انسانوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ سرحدی علاقوں میں بسنے والے عوام کے لیے یہ محض سفارتی خبر نہیں بلکہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔ اس موقع پر چاچا ٹرمپ محلے کے اس بزرگ کی طرح دکھائی دئیے جو دو ضدی بچوں کے درمیان آ کر فیصلہ کن انداز میں کہہ دیتے ہیں:
’’ بس، اب معاملہ ختم کرو‘‘۔
یہ وہ رخ ہے جس پر ٹرمپ کو سراہا بھی گیا، کیونکہ ایٹمی جنگ کا ٹل جانا کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی کامیابی ہوتی ہے۔
مگر چاچا ٹرمپ کی شخصیت کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی نمایاں ہے اور اتنا ہی متنازعہ۔
دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وینزویلا جیسے ایک آزاد اور خودمختار ملک کے معاملات میں امریکی مداخلت کس حد تک جا سکتی ہے۔ وینزویلا، جو برسوں سے شدید معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور عالمی پابندیوں کی زد میں ہے، اس کے صدر نکولس مادورو کو امریکہ طویل عرصے سے متنازعہ حکمران قرار دیتا آیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو حکومت کو دبائو میں لانی کے لیے سخت پابندیاں عائد کیں اور کھل کر اپوزیشن کی حمایت کی۔
اسی پس منظر میں جب وینزویلا میں کارروائیوں اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو نشانہ بنانے کی بات سامنے آئی تو دنیا حیران رہ گئی۔ ناقدین کے مطابق یہ طرزِ عمل ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین پر سوالیہ نشان تھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ’’ قومی مفاد‘‘ اور ’’ جمہوری اقدار‘‘ کے تحفظ سے جوڑا۔ منظر کچھ یوں محسوس ہوا جیسے عالمی قانون، اقوامِ متحدہ اور سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر چائے کے کپ میں گری مکھی کو دو انگلیوں سے نکال کر الگ کر دیا گیا ہو۔ نہ زیادہ وضاحت، نہ زیادہ جواب دہی۔
ٹرمپ کی طاقت اور غیر متوقع اقدامات پر چین اور روس بھی بس ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ امریکہ کی ایک ہلکی سی حرکت عالمی طاقتوں کے لیے کس حد تک پریشانی پیدا کر سکتی ہے، مگر ہاتھ دھو کر کچھ نہیں کر سکتے۔
اسی کشمکش میں ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ چاچا ٹرمپ کو جس نے واقعی اپنے حساب سے دھرا وہ پاکستان اور اس کی قیادت ہے۔ پاکستان کی قیادت اور افواج کے بارے میں ٹرمپ کی تعریفیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ وہ بار بار اپنے بیانات میں یہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ان کے عالمی حکمت عملی میں کردار ادا کیا اور وہ اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہی تعلق اور تعریف ٹرمپ کے کردار کو اور انسانی اور دلچسپ رنگ دیتی ہے۔
یہ تضاد چاچا ٹرمپ کو ایک ساتھ منفرد بھی بناتا ہے اور خطرناک بھی۔ ایک طرف وہ جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لیتے ہیں، دوسری طرف ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جو نئی کشیدگی کو جنم دیتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ مزید جنگوں کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتا، مگر طاقت کے استعمال میں وہ ایسی سختی دکھاتے ہیں کہ دنیا کو بار بار یہ سوچنا پڑتا ہے کہ اگلا بحران کہاں جنم لے گا۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ٹرمپ اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتے۔ امریکی کانگریس، عدلیہ، میڈیا اور عالمی دبائو ان کے فیصلوں کو کسی حد تک محدود رکھتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان کا ایک بیان، ایک دھمکی یا ایک دعویٰ عالمی منڈیوں، سفارتی تعلقات اور جنگی خدشات کو ہلا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
چاچا ٹرمپ کی سیاست میں منطق کم اور ڈرامہ زیادہ ہے۔ شاید اسی لیے وہ خبروں کی دنیا میں مرکز نگاہ رہتے ہیں۔ کبھی وہ امن کے علمبردار بن جاتے ہیں، کبھی طاقت کے مظاہرہ باز، اور کبھی یوں لگتا ہے جیسے پوری دنیا ان کے لیے ایک بڑا سا اسٹیج ہے جہاں وہ اداکار بھی ہیں، ہدایت کار بھی، اور کبھی کبھار ولن بھی۔ جب بھی کیمروں کے سامنے ٹرمپ آتے ہیں تو مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ دنیا کو کوئی بریکنگ نیوز دینے والے ہیں، اور عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ چاچا ٹرمپ دنیا کے لیے نعمت ہیں یا آزمائش؟ شاید دونوں۔ طاقت اگر ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہو تو امن کا ذریعہ بنتی ہے، اور اگر بے احتیاطی سے برتی جائے تو تباہی کا سبب۔ چاچا ٹرمپ کے ہاتھ میں یہ طاقت دونوں راستے رکھتی ہے۔
اسی لیے جب بھی وائٹ ہائوس سے کوئی نیا بیان آتا ہے، دنیا بے اختیار یہی کہتی ہے:
’’ اللہ خیر کرے، آج چاچا ٹرمپ کس موڈ میں ہیں؟‘‘
اور قاری سوچتا ہے، کیا آج چاچا ٹرمپ نے دنیا کو چائے کی چسکی کے ساتھ بچا دیا یا پھر سب کو حیران کر دیا؟

جواب دیں

Back to top button