جنریشن الفا: اکیسویں صدی کی نئی نسل

ذرا سوچئے
جنریشن الفا: اکیسویں صدی کی نئی نسل
امتیاز احمد شاد
اکیسویں صدی کی تیز رفتار دنیا میں ہر نئی نسل اپنے ساتھ نئی سوچ، نئی ترجیحات اور نئے چیلنجز لے کر آتی ہے۔ جس طرح بیبی بومرز، جنریشن ایکس، ملینیلز اور جنریشن زی نے اپنے اپنے ادوار میں سماجی، معاشی اور ثقافتی تبدیلیوں کو جنم دیا، اسی طرح اب دنیا میں ایک نئی نسل پروان چڑھ رہی ہے جسے جنریشن الفا کہا جاتا ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جو تقریباً 2010 ء کے بعد پیدا ہوئے اور جن کی پرورش ایک مکمل ڈیجیٹل ماحول میں ہو رہی ہے۔ والدین، فیصلہ ساز قوتوں اور معاشرے کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ جنریشن الفا کون ہے، اس کی خصوصیات کیا ہیں اور یہ مستقبل کی دنیا کو کس طرح متاثر کرے گی۔
جنریشن الفا کی اصطلاح سب سے پہلے سماجی محققین نے استعمال کی تاکہ 2010ء کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو ایک الگ شناخت دی جا سکے۔ یہ وہ نسل ہے جو سمارٹ فون، ٹیبلٹ، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے ماحول میں آنکھ کھول رہی ہے۔ ان کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کوئی نئی چیز نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں تاریخ کی پہلی مکمل ڈیجیٹل نسل بھی کہا جاتا ہے۔
جنریشن الفا کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا ٹیکنالوجی سے گہرا تعلق ہے۔ یہ بچے چھوٹی عمر میں ہی سکرین کو چھونا، ویڈیوز دیکھنا، گیمز کھیلنا اور ایپس استعمال کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ آن لائن تعلیم، ویڈیو کالز اور ڈیجیٹل اسائنمنٹس ان کے لیے معمول کی بات ہے۔ وبا کے دوران آن لائن سکولنگ نے اس رجحان کو مزید مضبوط کیا، جس سے جنریشن الفا کی ڈیجیٹل مہارتیں کم عمری میں ہی نکھر گئیں۔
جنریشن الفا کی تعلیم روایتی نظام سے خاصی مختلف ہے۔ اب کتابوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مواد، اینی میشنز، تعلیمی گیمز اور انٹرایکٹو پلیٹ فارمز کا استعمال بڑھ چکا ہے۔ یہ بچے رٹا لگانے کے بجائے بصری اور عملی انداز میں سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اساتذہ کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم کو زیادہ موثر اور دلچسپ بنائیں۔
اگرچہ جنریشن الفا ٹیکنالوجی میں ماہر ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ نفسیاتی اور سماجی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ سکرین ٹائم میں اضافے کی وجہ سے توجہ کی کمی، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور سماجی میل جول کا محدود ہونا ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں توازن پیدا کریں تاکہ ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ ساتھ حقیقی زندگی کی سرگرمیاں بھی برقرار رہیں۔
جنریشن الفا کا خاندانی نظام کے ساتھ تعلق بھی بدل رہا ہے۔ آج کے والدین زیادہ تعلیم یافتہ اور ٹیکنالوجی سے واقف ہیں، جس کا اثر بچوں کی تربیت پر بھی پڑتا ہے۔ والدین بچوں کی رائے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات مصروف زندگی اور سکرین پر انحصار بچوں اور والدین کے درمیان فاصلے بھی پیدا کر دیتا ہے۔
جنریشن الفا عالمی سطح پر جڑی ہوئی نسل ہے۔ یہ بچے مختلف ثقافتوں، زبانوں اور نظریات سے آن لائن واقف ہو رہے ہیں، جس سے ان میں برداشت اور تنوع کو قبول کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہ نسل صنفی مساوات، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر کم عمری میں ہی حساس نظر آتی ہے۔ مستقبل میں یہ رویے معاشرتی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ جنریشن الفا مستقبل کی معیشت کو نئی شکل دے گی۔ یہ نسل نئی ٹیکنالوجیز، خودکار نظام اور ڈیجیٹل کاروبار کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کے پیشے بھی ماضی سے مختلف ہوں گے۔ ممکن ہے کہ بہت سی ملازمتیں جو آج موجود ہیں، مستقبل میں ختم ہو جائیں اور ان کی جگہ نئے شعبے جنم لیں۔ جنریشن الفا کی تخلیقی سوچ اور ڈیجیٹل مہارتیں انہیں اس بدلتی معیشت میں کامیاب بنا سکتی ہیں۔
جنریشن الفا کی بہتر نشوونما کے لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی تربیت دینا، اخلاقی اقدار سکھانا اور جسمانی و ذہنی صحت کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر اس نسل کو صحیح سمت دی جائے تو یہ مستقبل میں ایک متوازن، باخبر اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔
جنریشن الفا محض ایک نئی نسل نہیں بلکہ مستقبل کی دنیا کی بنیاد ہے۔ اس کے ہاتھ میں ٹیکنالوجی کی طاقت ہے اور اس کے ذہن میں نئے خیالات کی روشنی۔ اگر ہم آج اس نسل کی ضروریات، مسائل اور صلاحیتوں کو سمجھ لیں تو کل کا معاشرہ زیادہ ترقی یافتہ، منصفانہ اور پائیدار ہو سکتا ہے۔ ماضی میں گم، روایت پسند ، جدت سے دور رہنے والوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم جنریشن الفا کو صرف سکرین کے بچوں کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ انہیں مستقبل کے معمار کے طور پر پہچانیں۔





