ہنر مند پاکستان، روشن مستقبل کی ضمانت

ہنر مند پاکستان، روشن مستقبل کی ضمانت
پاکستان اس وقت جن بڑے چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں بے روزگاری، ہنر مند افرادی قوت کی کمی اور عالمی منڈی میں مسابقت کا فقدان سرفہرست ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پاکستانی افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے، بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کی فراہمی اور خلیجی ممالک میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت ایک نہایت خوش آئند، بروقت اور دوررس نتائج کی حامل پالیسی سمت کا تعین کرتی ہے۔ وزیراعظم کے زیر صدارت ہونے والے جائزہ اجلاس میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن ( نیوٹیک) کے تحت جاری تربیتی پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت محض بیانات پر اکتفا نہیں کررہی بلکہ عملی پیش رفت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وزیراعظم کا نیوٹیک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار اور نئے اہداف کے تعین کی ہدایت اس امر کا ثبوت ہے کہ فنی و پیشہ ورانہ تربیت کو قومی ترقی کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت دی جارہی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان افرادی قوت اگر جدید تقاضوں، بین الاقوامی معیار اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہ کی گئی تو یہ آبادی بوجھ بن سکتی ہے، لیکن اگر اسے درست سمت، مہارت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ پاکستانی نوجوان صلاحیتوں سے بھرپور ہیں، درحقیقت ایک حقیقت کا اعتراف ہے، تاہم اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے منظم منصوبہ بندی، جدید تربیت اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشنز ناگزیر ہیں۔ عالمی سطح پر روزگار کے مواقع اب صرف ڈگریوں سے وابستہ نہیں رہے بلکہ مہارت، تجربہ اور سرٹیفیکیشن بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر خطوں میں ہنر مند لیبر کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم یہ ممالک ایسے افراد کو ترجیح دیتے ہیں جو بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہوں۔ اس تناظر میں وزیراعظم کی جانب سے بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کی فراہمی کو خوش آئند قرار دینا ایک نہایت اہم پالیسی قدم ہے، جو پاکستانی افرادی قوت کو عالمی منڈی میں قابلِ قبول بنانے میں مدد دے گا۔ اسی طرح وزارت خارجہ اور وزارت سمندر پار پاکستانیوں کو خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت بھی نہایت اہم ہی۔ سفارتی سطح پر دوطرفہ معاہدے، لیبر مارکیٹ تک رسائی اور پاکستانی ورکرز کے حقوق کے تحفظ جیسے اقدامات نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھائیں گے بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی نمایاں اضافہ کریں گے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اپرینٹس شپ قانون پر عملدرآمد کی ہدایت بھی قابلِ تحسین ہے۔ دنیا بھر میں اپرینٹس شپ ماڈل کو نوجوانوں کو عملی مہارت سکھانے کا موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس قانون پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد سے نوجوانوں کو دورانِ تربیت روزگار، عملی تجربہ اور صنعت سے براہِ راست وابستگی حاصل ہوگی، جو انہیں محض نظری تعلیم کے بجائے عملی زندگی کے لیے تیار کرے گی۔ تاہم یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ماضی میں فنی تربیت کے کئی منصوبے وسائل کی کمی، ناقص نگرانی اور عدم تسلسل کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نیوٹیک کے پروگرامز کو جدید ٹیکنالوجی، نجی شعبے کے تعاون اور عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مزید موثر بنایا جائے۔ نصاب کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مسلسل اپڈیٹ کرنا اور تربیت یافتہ افراد کی مانیٹرنگ و فالو اپ بھی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ شفافیت، میرٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ یہ پروگرام واقعی مستحق اور اہل نوجوانوں تک پہنچ سکیں۔ مجموعی طور پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پیشہ ورانہ تربیت کے نئے ایکوسسٹم، بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز اور عالمی منڈی میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت کے لیے دی گئی ہدایات پاکستان کے روشن مستقبل کی جانب ایک مضبوط قدم ہیں۔ اگر ان پالیسیوں پر سنجیدگی، تسلسل اور شفافیت کے ساتھ عملدرآمد کیا گیا تو نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ہنرمند اور قابلِ اعتماد افرادی قوت فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو معاشی خود انحصاری، استحکام اور ترقی کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔
جعلی کال سینٹرز، خاتمہ ناگزیر
سینیٹر پلوشہ خان کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے حالیہ اجلاس میں غیر قانونی کال سینٹرز اور ان سے منسلک مبینہ کرپشن کے انکشافات نے ایک بار پھر سائبر کرائم اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اجلاس میں یہ انکشاف کہ غیر قانونی کال سینٹرز کے ذریعے ماہانہ ایک اعشاریہ پانچ کروڑ روپے اور مجموعی طور پر تین سو ملین روپے کی خوردبرد ہوتی ہے، یہ امر اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق اس کیس میں تیرہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج ہے، تاہم اب تک محض پندرہ لاکھ روپے کی ریکوری ہونا اور متعدد ملزمان کا مفرور یا ضمانت پر ہونا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نہ صرف مثر حکمت عملی بلکہ مضبوط فالو اپ کی بھی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ تحقیقات آگے بڑھنے پر دیگر محکموں کے افراد کے ملوث ہونے کا امکان، اس معاملے کو محض چند افراد تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک وسیع تر نیٹ ورک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سینیٹر پرویز رشید کے ریمارکس کہ کال سینٹرز کا معاملہ برسوں پرانا ہے اور ماضی میں بھی سرکاری اہلکاروں کے ملوث ہونے کی بات سامنے آتی رہی ہے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ وقتی نہیں بلکہ مسلسل نظرانداز ہونے کا نتیجہ ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب دنیا کے دیگر ممالک غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف موثر کارروائی کر سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں؟ خاص طور پر جب پاکستانی کال سینٹرز کے خلاف عالمی سطح پر شکایات موجود ہوں، تو یہ ملک کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ دوسری جانب وزارت آئی ٹی کا یہ موقف کہ کال سینٹرز بذات خود غیر قانونی نہیں بلکہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مراکز قانون کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں، ایک حد تک درست ہے۔ تاہم تین ہزار رجسٹرڈ کال سینٹرز کی موجودگی میں نگرانی کا موثر نظام نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ این سی سی آئی اے کو سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، مگر خود حکام کا یہ اعتراف کہ ٹیکنالوجی تیزی سے بدلتی ہے اور ادارے ایک قدم پیچھے رہ جاتے ہیں، اصلاحات کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ اجلاس میں پاک ڈیٹا کام کے سی ای او بریگیڈیئر ( ر) ذوالفقار کی جانب سے اپنی شکایت کا اندراج اور پی ٹی سی ایل بورڈ ممبرز کی مراعات سے متعلق بحث بھی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ آئی ٹی سیکٹر میں شفافیت اور گورننس کے مسائل محض سائبر کرائم تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی موجود ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے کا انٹرنیٹ کو ضلعی سطح پر پھیلانے اور یو ایس ایف فنڈ کے غیر استعمال شدہ اربوں روپے کا ذکر اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان خلا موجود ہے۔ مجموعی طور پر یہ اجلاس ایک ویک اپ کال ہے کہ سائبر کرائم کے خلاف موثر قانون سازی، جدید ٹیکنالوجی، اداروں کے مابین ہم آہنگی اور سخت احتساب کے بغیر ڈیجیٹل پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ محض بیانات نہیں بلکہ ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں۔





