
امریکی شہریوں کے لیے ایران چھوڑنے کی ہدایت، سکیورٹی خدشات پر وارننگ جاری
ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی نے امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ایران سے روانہ ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں میں شدت آ رہی ہے، جو کسی بھی وقت پرتشدد صورت اختیار کر سکتی ہیں۔
امریکی ورچوئل ایمبیسی کے مطابق حالیہ حالات کے باعث گرفتاریوں، تشدد اور سخت سکیورٹی اقدامات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مختلف شہروں میں سڑکوں کی بندش، پبلک ٹرانسپورٹ میں خلل اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز تک رسائی محدود کر دی ہے، جبکہ متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے ایران آنے اور جانے والی پروازیں عارضی طور پر معطل یا محدود کر دی ہیں۔ بعض فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں 16 جنوری تک روکنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ رابطے کے متبادل ذرائع پہلے سے ترتیب دیں اور اگر حالات اجازت دیں تو آرمینیا یا ترکی کے راستے زمینی سفر کے ذریعے ایران چھوڑنے پر غور کریں۔ اگر فوری طور پر روانگی ممکن نہ ہو تو محفوظ مقام پر رہنے، خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی ورچوئل ایمبیسی نے شہریوں کو احتجاجی مظاہروں سے دور رہنے اور بدلتی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی ایران میں براہِ راست سفارتی موجودگی نہیں ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ امریکہ کے مفادات کی نمائندگی ’پروٹیکٹنگ پاور‘ کے طور پر کرتا ہے اور امریکی وزارتِ خارجہ ورچوئل ایمبیسی کے ذریعے معلومات فراہم کرتی ہے۔





