
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز کاروبار کے دوران مندی کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ سلسلہ رواں ہفتے کے آغاز سے ہی جاری ہے، کیونکہ پیر کے روز بھی مارکیٹ میں شدید دباؤ دیکھا گیا تھا اور انڈیکس دو ہزار پوائنٹس سے زائد گر گیا تھا۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق حالیہ مندی کی ایک بڑی وجہ خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں اسٹاک مارکیٹ میں تیز رفتار اضافے کے باعث قیمتیں اپنی بلند سطح پر پہنچ چکی تھیں، جس کے بعد تکنیکی تصحیح ناگزیر ہو گئی تھی۔ ایسی صورتحال میں سرمایہ کار منافع سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے مارکیٹ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ تیزی کے دوران مارکیٹ میں لیوریج یعنی ادھار پر سرمایہ کاری کا حجم بھی نمایاں حد تک بڑھ گیا تھا، جس کے باعث معمولی منفی خبروں پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایران سے متعلق عالمی سطح پر سامنے آنے والی پیش رفت اور امریکی پالیسی کے حوالے سے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے کی صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے پاکستان کی معیشت اور مالی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کا عکس اسٹاک مارکیٹ میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں حصص کی خرید و فروخت دباؤ کا شکار رہی اور مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں آ گئی۔





