Column

طلبہ کا ذہنی تناؤ ، اساتذہ کا کڑا امتحان

نہال ممتاز:
یہ نسل کسی میدان جنگ میں نہیں، مگر اس کے اعصاب مسلسل حالتِ جنگ میں ہیں۔
یہ وہ نوجوان ہیں جو موبائل اسکرین کی روشنی میں جاگتے ہیں، مقابلے کی دوڑ میں سانس لیتے ہیں، اور کامیابی کے شور میں اپنی ناکامیوں کو خاموشی سے دفن کر دیتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، زیادہ کمانے کی خواہش، نمبر ون بننے کا دباؤ، غیر متوازن خوراک اور بگڑا ہوا لائف اسٹائل،یہ سب مل کر آج کی نسل کو اس ذہنی دباؤ میں دھکیل چکے ہیں جو پہلے شاید اتنا شدید نہیں تھا۔
نتیجہ یہ ہے کہ ذہنی صحت اب کسی ایک ملک یا ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہی، یہ ایک عالمی بحران بن چکی ہے۔ خودکشی، نشہ، شدید اضطراب اور ڈپریشن جیسے مسائل اب خبروں کی زینت بن رہے ہیں، اور سب یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ آخر اس کا حل کہاں ہے؟
اس سوال کا پہلا جواب والدین کے بعد جس دروازے پر جا کر رکتا ہے، وہ دروازہ استاد کا ہے۔
روایتی طور پر استاد کی ذمہ داری یہ سمجھی جاتی رہی ہے کہ وہ نصاب پڑھائے، سبق مکمل کرے اور امتحان میں اچھے نتائج دے۔ مگر آج کے حالات میں یہ تعریف ناکافی ہو چکی ہے۔ استاد اب صرف مضمون پڑھانے والا نہیں، وہ روزانہ درجنوں ذہنوں، بوجھل دلوں اور خاموش چیخوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے،چاہے اسے اس کا احساس ہو یا نہ ہو۔
یہاں اساتذہ کی دو دنیائیں سامنے آتی ہیں۔
سینئر اساتذہ، جن کے اور طلبہ کے درمیان نسلوں کا فاصلہ ہے۔ ان کے تجربات مختلف ہیں، ان کا زمانہ مختلف تھا۔ مگر اسی سینئر استاد کی سب سے بڑی طاقت اس کے اپنے بچے ہیں، جو اسی عمر کے ہیں جس عمر کے طالب علم اس کے سامنے بیٹھے ہیں۔ اگر وہ چاہے تو وہ استاد سے پہلے ایک والد یا ماں کی طرح سوچ سکتا ہے—زیادہ برداشت، زیادہ ہمدردی اور کم فیصلہ بازی کے ساتھ۔
دوسری طرف نوجوان اساتذہ ہیں، جو طلبہ کے زیادہ قریب ہیں۔ وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں، ان کے دباؤ سے واقف ہیں، ان کے مسائل کو “غیر حقیقی” کہہ کر رد نہیں کرتے۔ وہ دوستانہ ماحول بنا سکتے ہیں، مگر ان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ قربت اور پیشہ ورانہ حدود کے درمیان توازن قائم رکھیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم خود کچھ نہ کہے تو استاد کو کیسے پتا چلے کہ وہ اندر سے ٹوٹ رہا ہے؟
اس کے لیے کسی خفیہ اطلاع یا اعتراف کی ضرورت نہیں۔ اچانک خاموشی، کلاس میں عدم دلچسپی، غیر معمولی غصہ، مسلسل غیر حاضری، پڑھائی سے بے رغبتی، نشے کی علامات، یا ہر وقت تھکا ہوا نظر آنا—یہ سب وہ نشانیاں ہیں جنہیں نظرانداز کرنا سب سے آسان اور سب سے خطرناک عمل ہے۔
اگر کسی استاد کو یہ اندازہ ہو جائے کہ کوئی طالب علم ذہنی، جذباتی، گھریلو یا نشے کے مسئلے سے گزر رہا ہے تو یہاں اس کا رویہ فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ سب کے سامنے سوالات کرنا، طنز کرنا یا ڈانٹ دینا مسئلے کو حل نہیں، بلکہ مزید گہرا کر دیتا ہے۔ اس مقام پر استاد کو تفتیش کار نہیں بلکہ انسان بننا ہوتا ہے۔خاموشی سے بات کرنے والا، اعتماد دینے والا، اور ضرورت پڑنے پر ادارے کے متعلقہ پلیٹ فارم یا ماہرین تک بات پہنچانے والا۔
یہ سچ ہے کہ استاد ہر طالب علم کی زندگی نہیں بدل سکتا، مگر یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ وہ کسی ایک لمحے میں کسی طالب علم کو آخری قدم اٹھانے سے روک سکتا ہے۔ بعض اوقات صرف یہ احساس کہ “کوئی مجھے دیکھ رہا ہے، کوئی سن رہا ہے” زندگی اور موت کے درمیان فرق بن جاتا ہے۔
ذہنی صحت اب نصاب سے باہر کا موضوع نہیں رہی۔ اگر استاد آج بھی خود کو صرف کتاب اور لیکچر تک محدود رکھے گا تو وہ اس بحران سے نظریں چرا رہا ہوگا جو روز اس کی کلاس میں سانس لے رہا ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مان لیں کہ تعلیم صرف دماغ نہیں، دل بھی مانگتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button