تازہ ترینخبریںسپورٹسپاکستان

*پاکستان میں عالمی معیار کے اسٹیڈیمز کی تعمیر؛ پی ایف ایف نے فیفا سے مدد مانگ لی

*پاکستان میں عالمی معیار کے اسٹیڈیمز کی تعمیر؛ پی ایف ایف نے فیفا سے مدد مانگ لی*

*حکومت پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، غیر ملکی سرمایہ کاری سے فٹ بال کا نقشہ بدلیں گے: صدر پی ایف ایف*

لاہور: پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے ملک میں فٹ بال کے فروغ اور بہترین انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے فیفا کی جانب رخ کر لیا ہے۔

پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی کا کہنا ہے کہ فٹ بال اسٹیڈیمز کے حوالے سے حکومت سے رجوع کرنے سے پہلے پی ایف ایف انفراسٹرکچر کی امداد کے لیے فیفا کی طرف دیکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پر بوجھ ڈالنے کے بجائے پی ایف ایف کا مقصد اس کام کے لیے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ہے۔

محسن گیلانی نے بتایا کہ دو منی پچز پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہیں جو اسلام آباد اور لاہور میں نصب کی جائیں گی، جبکہ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) بھی دو ٹریننگ پچز فراہم کرے گا۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جناح اسٹیڈیم فی الوقت اے ایف سی کے ضوابط پر پورا نہیں اترتا۔ اسے اپ گریڈ کرنے کے لیے خطیر رقم درکار ہے، اور بار بار کے اخراجات کے باوجود یہ بمشکل بین الاقوامی معیار پر پورا اترتا ہے۔ صدر پی ایف ایف نے مزید کہا کہ اسٹیڈیم کی تعمیر کے پروگرام کے تحت پی ایف ایف کی کوشش ہوگی کہ فیفا پاکستان میں اپنا پہلا مخصوص اسٹیڈیم تعمیر کرے، کیونکہ عالمی معیار کے اسٹیڈیمز کے بغیر میچوں کی میزبانی ایک چیلنج ہے۔

مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے گیلانی نے ذکر کیا کہ پی ایف ایف ڈسٹرکٹ، صوبائی اور قومی لیگز بشمول ویمن لیگ کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے ڈومیسٹک فٹ بال لیگ شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور بتایا کہ علی ترین سمیت کئی افراد اس سلسلے میں پریزنٹیشنز دے چکے ہیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ ان کا مقصد فٹ بال لیگ کے لیے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جیسی کامیابی حاصل کرنا ہے، لیکن پاکستان کو انفراسٹرکچر کی شدید کمی، محدود وسائل اور مخصوص اسٹیڈیمز کی قلت کا سامنا ہے۔ پی ایف ایف چیف نے تسلیم کیا کہ فٹ بال گورننس کے بحران کی وجہ سے برسوں سے ڈومیسٹک فٹ بال کو نظر انداز کیا گیا، تاہم آنے والی لیگ کے دورانیے کا فیصلہ دستیاب سہولیات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

صدر گیلانی نے یہ اعلان بھی کیا کہ اقوام متحدہ یوتھ، پی ایف ایف اور وزیراعظم یوتھ پروگرام مل کر نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے فٹ بال کو بطور آلہ استعمال کرنے کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔ مزید برآں، "فٹ بال فار اسکولز” پروگرام شروع کیا جا رہا ہے تاکہ کلب لیول تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکولوں سے ٹیلنٹ تلاش کیا جا سکے۔

اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایف ایف اسکول فٹ بال کو بحال کرے گی اور اسکولوں میں ایک ہزار سے زائد فٹ بال تقسیم کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ فیفا ان ممالک میں نئے اسٹیڈیم بنانے کا پروگرام شروع کر رہا ہے جہاں ایسے انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔

محسن گیلانی نے پی سی بی کو ایک کامیاب ادارے کے طور پر سراہا اور پی ایف ایف کی بہتری و ترقی کے لیے چیئرمین پی سی بی سید محسن نقوی سے ماہرانہ مشورے طلب کیے۔ گیلانی کے مطابق، محسن نقوی نے مثبت جواب دیا اور پاکستان میں فٹ بال کو کامیاب بنانے میں تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے اپنی بات کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ فٹ بال اور کرکٹ پاکستان کے دو بڑے کھیل ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ پی سی بی اور پی ایف ایف دونوں کھیلوں کی بہتری کے لیے مل کر کام کریں۔

جواب دیں

Back to top button