پاک، امریکا تعلقات، نئی معاشی سمت

پاک، امریکا تعلقات، نئی معاشی سمت
پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک طویل، پیچیدہ اور اتار چڑھائو سے بھرپور تاریخ رکھتے ہیں، مگر حالیہ بیانات اور پیش رفت اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ تعلقات اس وقت ایک ایسے موڑ پر آچکے ہیں جہاں سے باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ امریکی سفارت خانے کے منسٹر کائونسلر برائے پبلک ڈپلومیسی اینڈی ہیلس کے حالیہ خیالات محض سفارتی خوش کلامی نہیں بلکہ ایک بدلتی ہوئی زمینی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں پاکستان کو ایک اہم اقتصادی اور جغرافیائی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اینڈی ہیلس کا یہ کہنا کہ پاک، امریکا تعلقات اپنی تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر ہیں، بذاتِ خود ایک غیر معمولی بیان ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات زیادہ تر سکیورٹی اور جیو پولیٹکس کے گرد گھومتے رہے، جن میں افغان جنگ، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور خطے کی سیاست مرکزی کردار ادا کرتی رہی۔ تاہم موجودہ منظر نامہ اس روایتی فریم ورک سے آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے، جہاں معاشی تعاون، سرمایہ کاری، تعلیم اور عوامی روابط کو تعلقات کا نیا محور بنایا جا رہا ہے۔ ریکوڈک منصوبی میں امریکی سرمایہ کاری کا امکان اس تبدیلی کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ بلوچستان کے اس اہم معدنی منصوبے کو پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا جاتا رہا ہے، مگر سیاسی عدم استحکام، قانونی پیچیدگیوں اور سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کے باعث یہ منصوبہ طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہا۔ اب اگر امریکی ایگزم بینک اور نجی امریکی کمپنیاں اس میں کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کی کان کنی اور معدنیات کے شعبے کو نئی زندگی دے گا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کو بھی ایک مثبت پیغام جائے گا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد منزل بن رہا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اینڈی ہیلس نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری کے حتمی فیصلے امریکی حکومت نہیں بلکہ نجی کمپنیاں کرتی ہیں۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ نجی سرمایہ کاری ہمیشہ مارکیٹ کے اعتماد، سیاسی استحکام اور معاشی امکانات کی بنیاد پر آتی ہے۔ اگر امریکی نجی شعبہ پاکستان میں دلچسپی لے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی کاروباری حلقوں میں پاکستان کے بارے میں تاثر بتدریج بہتر ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی افرادی قوت کو ترجیح دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ اس سرمایہ کاری کو محض مالی فائدے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سماجی اور انسانی ترقی سے بھی جوڑتا ہے۔ پاک، امریکا تعلقات میں عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان مضبوط روابط کا ذکر بھی اس بیانیے کا ایک اہم پہلو ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان باہمی احترام اور خوشگوار تعلقات کو اینڈی ہیلس نے جس انداز میں اجاگر کیا، وہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے صرف ادارہ جاتی سطح تک محدود نہیں بلکہ قیادت کی سطح پر بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں قیادت کے درمیان اعتماد اکثر بڑے فیصلوں کی راہ ہموار کرتا ہے، اور موجودہ حالات میں یہی اعتماد مستقبل کے معاشی اور سفارتی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں پاک امریکا تعاون ایک ایسا روشن پہلو ہے جو کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کو جوڑے ہوئے ہے۔ فل برائٹ پروگرام کے 75سال مکمل ہونا اور 9ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کا امریکا کی ممتاز جامعات سے تعلیم حاصل کرنا محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسے انسانی سرمائے کی کہانی ہے جو دونوں معاشروں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ نہ صرف جدید علم اور تحقیق سے مستفید ہوتے ہیں بلکہ واپسی پر پاکستان میں علمی، معاشی اور سماجی ترقی میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔ یو ایس ای ایف پی اور ایجوکیشن یو ایس اے جیسے پروگرام پاکستانی نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی کو مزید آسان بنا رہے ہیں۔ تاہم اس مثبت تصویر کے ساتھ کچھ زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو اب بھی معاشی استحکام، پالیسی کے تسلسل، شفافیت اور گورننس جیسے چیلنج درپیش ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری، خواہ وہ امریکی ہو یا کسی اور ملک کی، تبھی پائیدار ثابت ہو سکتی ہے جب اندرونی طور پر مضبوط ادارے، واضح قوانین اور سیاسی استحکام موجود ہو۔ اس لیے حکومتِ پاکستان پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ممکنہ موقع کو محض بیانات تک محدود نہ رہنے دے بلکہ عملی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے۔ اسی طرح امریکا کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وقتی مفادات کے بجائے طویل المدتی شراکت داری کے تناظر میں آگے بڑھائے۔ اگر واقعی امریکا پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور خطے میں استحکام کے لیے اہم شراکت دار سمجھتا ہے تو اسے تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور انسانی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہوگی۔ مجموعی طور پر اینڈی ہیلس کے بیانات ایک امید افزا مستقبل کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ تصویر اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ پاک، امریکا تعلقات اب محض سیکیورٹی کے گرد نہیں گھوم رہے بلکہ معاشی ترقی، تعلیم اور عوامی روابط کے ذریعے ایک نئی سمت اختیار کر رہے ہیں۔ اگر دونوں ممالک اس موقع سے دانش مندی، سنجیدگی اور باہمی احترام کے ساتھ فائدہ اٹھائیں تو یہ تعلقات نہ صرف دو طرفہ سطح پر بلکہ خطے کے لیے بھی استحکام اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہے جسے ضائع کرنا پاکستان کے لیے ایک اور کھویا ہوا موقع ثابت ہو سکتا ہے، اور جس سے فائدہ اٹھانا ایک نئی معاشی اور سفارتی کہانی کا آغاز بن سکتا ہے۔
کینسر کے مریضوں کیلئے مفت ادویہ
پاکستان میں کینسر ایک ایسا موذی مرض بن چکا ہے جو نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کو معاشی تباہی سے بھی دوچار کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومتِ پاکستان اور ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی روچ (Roche) کے درمیان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کینسر کے مریضوں کو مفت ادویہ کی فراہمی کا معاہدہ ایک نہایت خوش آئند اور بروقت اقدام ہے۔ یہ معاہدہ اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ مہنگے علاج نے عام آدمی کے لیے زندگی اور موت کو مشکل ترین فیصلے میں بدل دیا ہے۔ وفاقی سیکریٹری صحت کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے مطابق اس منصوبے کے تحت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے کینسر مریضوں کو مفت ادویہ فراہم کی جائیں گی، جب کہ اس پانچ سالہ معاہدے سے پمز اسپتال میں ہزاروں مریض مستفید ہوں گے۔ یہ بات نہایت اہم ہے کہ علاج صرف وقتی امداد تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل المدتی منصوبے کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، جو پائیدار صحت پالیسی کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا یہ بیان کہ پاکستان میں ایک کروڑ تیس لاکھ افراد مختلف بیماریوں کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں، ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ کینسر جیسی بیماری، جس پر پانچ سال میں قریباً 98لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، ایک عام پاکستانی کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسے میں اگر 741مریضوں کو فی مریض قریباً ایک کروڑ روپے کا مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے تو یہ اقدام نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی زندگی کی نئی امید ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ اگر حکومت اور نجی شعبہ خلوصِ نیت سے تعاون کریں تو صحت جیسے حساس شعبے میں بھی نمایاں نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا ماڈل دنیا بھر میں کامیابی سے رائج ہے اور پاکستان میں اس کا موثر نفاذ صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لاسکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ شفافیت، میرٹ اور پہلے آئیے پہلے پائیے کے اصول پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہوگا تاکہ یہ سہولت حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے۔ ضروری ہے کہ اس ماڈل کو مستقبل میں دیگر صوبوں، سرکاری اسپتالوں اور بیماریوں تک بھی وسعت دی جائے۔ کینسر کے بعد گردوں، دل اور دیگر مہنگے علاج بھی عوام کے لیے ناقابلِ رسائی ہوتے جارہے ہیں۔ اگر حکومت اسی عزم کے ساتھ نجی شعبے کو شامل کرتی رہے تو صحت کا شعبہ عوام کے لیے بوجھ کے بجائے سہارا بن سکتا ہے۔ بلاشبہ، کینسر کے مریضوں کو مفت ادویہ کی فراہمی کا یہ معاہدہ پاکستان کے صحت کے نظام میں ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ یہ قدم ثابت کرتا ہے کہ درست پالیسی، سنجیدہ نیت اور موثر شراکت داری کے ذریعے انسانیت کی خدمت ممکن ہے اور یہی کسی بھی فلاحی ریاست کی اصل پہچان ہوتی ہے۔





