نوموفوبیا

ذرا سوچئے
نوموفوبیا
امتیاز احمد شاد
جدید دور میں موبائل فون انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ رابطے سے لے کر تعلیم، کاروبار، تفریح اور معلومات تک ہر شعبے میں موبائل نے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ تاہم اسی سہولت نے ایک ایسے نفسیاتی مسئلے کو بھی جنم دیا ہے جو خاموشی سے ہماری ذہنی صحت کو متاثر کر رہا ہے، اور اس مسئلے کا نام نوموفوبیا ہے۔ نوموفوبیا دراصل موبائل فون کے بغیر رہنے کے خوف کو کہا جاتا ہے، جس میں انسان فون سے دور ہونے پر بے چینی، گھبراہٹ اور اضطراب محسوس کرتا ہے۔ یہ مسئلہ بظاہر معمولی عادت محسوس ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ایک سنجیدہ ذہنی بیماری کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ نوموفوبیا کی اصطلاح انگریزی الفاظ
No Mobile Phone Phobia
سے اخذ کی گئی ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا افراد موبائل فون کو اپنی زندگی کا لازمی سہارا سمجھنے لگتے ہیں۔ فون بند ہو جائے، بیٹری ختم ہو جائے یا انٹرنیٹ دستیاب نہ ہو تو ان کے رویے میں واضح تبدیلی آ جاتی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، بے سکونی، چڑچڑاپن اور توجہ کی کمی جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ یہ کیفیت اس بات کی علامت ہے کہ انسان ذہنی طور پر فون پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔ نوموفوبیا کا آغاز اچانک نہیں ہوتا بلکہ یہ ہماری روزمرہ عادات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ہم ہر فارغ لمحے میں فون استعمال کرنے لگتے ہیں، تنہائی سے بچنے کے لیے سکرین کا سہارا لیتے ہیں اور اپنی خوشی اور سکون کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑ لیتے ہیں تو یہی رویہ آہستہ آہستہ نوموفوبیا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سوشل میڈیا ایپس، گیمز اور مسلسل نوٹیفیکیشن دماغ کو اس قدر مصروف کر دیتے ہیں کہ فون کے بغیر رہنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔
نئی نسل نوموفوبیا سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ نوجوانوں کے لیے موبائل فون صرف ایک آلہ نہیں بلکہ ان کی شناخت، دوستی اور اظہار کا ذریعہ بن چکا ہے۔ لائکس، فالوورز اور ویوز ان کی خود اعتمادی کا پیمانہ بنتے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً حقیقی زندگی کے تعلقات کمزور اور ورچوئل دنیا زیادہ مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ یہی عدم توازن نوجوانوں کو ذہنی دبائو، تنہائی اور عدم اعتماد کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
نوموفوبیا کی علامات ہماری روزمرہ زندگی میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ بار بار فون چیک کرنا، بغیر کسی نوٹیفیکیشن کے بھی سکرین دیکھتے رہنا، سوتے وقت فون ہاتھ یا تکیے کے نیچے رکھنا، بیٹری کم ہونے پر گھبرا جانا اور دوستوں یا خاندان کے ساتھ بیٹھ کر بھی فون میں گم رہنا اس مسئلے کی نمایاں نشانیاں ہیں۔ اگر ان علامات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو یہ وقت کے ساتھ شدت اختیار کر لیتی ہیں۔
یہ مسئلہ صرف ذہنی نہیں بلکہ جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ مسلسل سکرین دیکھنے سے آنکھوں کی کمزوری، سر درد، گردن اور کندھوں میں درد جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ نیند کا متاثر ہونا ایک عام مسئلہ ہے، کیونکہ فون کی نیلی روشنی دماغ کو متحرک رکھتی ہے۔ ذہنی طور پر انسان اضطراب، ڈپریشن، یادداشت کی کمزوری اور توجہ کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے، جس کا براہِ راست اثر اس کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
نوموفوبیا سماجی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ خاندانی تعلقات متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ افراد جسمانی طور پر موجود ہونے کے باوجود ذہنی طور پر فون میں مصروف ہوتے ہیں۔ بات چیت کم ہو جاتی ہے، احساسات کا تبادلہ محدود ہو جاتا ہے اور رشتوں میں سرد مہری پیدا ہو جاتی ہے۔ انسان آہستہ آہستہ تنہائی کی طرف مائل ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ بظاہر سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آتا ہے۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی نوموفوبیا ایک سنجیدہ رکاوٹ بن چکا ہے۔ طلبہ کی توجہ مطالعہ سے ہٹ جاتی ہے، یادداشت متاثر ہوتی ہے اور تعلیمی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کام کرنے والے افراد کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے، کیونکہ بار بار فون دیکھنے سے توجہ بٹتی رہتی ہے۔ یہ سب عوامل مجموعی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق نوموفوبیا ایک حقیقی نفسیاتی مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ یہ ہر طبی فہرست میں شامل نہیں، مگر اس کے اثرات اتنے واضح ہیں کہ اس پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ نوموفوبیا قابلِ علاج ہے، بشرطیکہ انسان خود اپنی عادات بدلنے کے لیے تیار ہو۔
نوموفوبیا سے بچائو کے لیے سب سے پہلے موبائل کے استعمال کا شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔ فون کے لیے وقت مقرر کریں اور غیر ضروری استعمال سے گریز کریں۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے فون خود سے دور رکھیں تاکہ دماغ کو سکون مل سکے۔ غیر ضروری نوٹیفیکیشن بند کرنا بھی ایک موثر قدم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حقیقی زندگی کی سرگرمیوں جیسے ورزش، مطالعہ، عبادت اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دینی چاہیے۔
والدین، اساتذہ اور معاشرے کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ بچوں کو شروع سے ہی متوازن ڈیجیٹل استعمال کی تربیت دی جائے اور بڑوں کو خود بھی ایک مثبت مثال قائم کرنی چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت اور ڈیجیٹل آگاہی پر گفتگو کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ موبائل فون ایک بہترین سہولت ہے، مگر اس کا حد سے زیادہ استعمال ہمیں جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ نوموفوبیا ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موبائل ہماری زندگی کا ایک حصہ ہے، پوری زندگی نہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی عادات کو درست نہ کیا تو کل یہی سکرین ہمارے سکون، رشتوں اور مستقبل کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے وقت آ گیا ہے کہ ہم موبائل کو کنٹرول کریں، اس سے پہلے کہ وہ ہمیں کنٹرول کرنے لگے۔





