Column

انسانیت کی منڈی

انسانیت کی منڈی
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
انسانی تہذیب کی داستان جہاں علم، فن اور تمدن کے دیے جلاتی ہے، وہیں اس کے بطن میں طاقت، ملکیت اور استحصال کے وہ سیاہ باب بھی دبے ہیں جن کی سیاہی آج تک نہیں مٹی۔ قدیم زمانوں میں جبر کا تعلق بالکل واضح اور بے نقاب تھا۔ انسان انسان کا مالک تھا؛ ایک مادی جائیداد، جسے جانوروں کی مانند منڈیوں میں ہانکا، خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ مصر کے اہراموں کے نیچے پسنے والا گوشت ہو، یونان کے فلسفے کے پس پردہ غلاموں کی سسکیاں ہوں یا روم کے کولوزیم میں درندوں کے آگے پھینکے گئے بے بس وجود، تاریخ گواہ ہے کہ غلامی ایک باضابطہ معاشی و قانونی نظام تھی۔
پھر ریگزارِ عرب سے وہ صدا اٹھی جس نے پہلی بار یہ آفاقی اصول دیا کہ انسان کسی کی جاگیر نہیں بلکہ محترم ہے اور اس کی آزادی اس کا پیدائشی حق ہے۔ اسلام دنیا کا پہلا مذہبی و اخلاقی نظام تھا جس نے غلامی کی جڑوں کو بتدریج کاٹنے کا قانونی و روحانی طریقہ دیا، غلام آزاد کرنا عبادت بنا، کفاروں اور فضائل میں داخل ہوا، اور مکاتبہ جیسے نظام وجود میں آئے جنہوں نے غلامی کو خفیف کرتے کرتے اس کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔
قرآن نے انسان کی قدر کو ’’ وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ‘‘ کہہ کر طے کیا، اور انسان کو انسان کے مقام پر کھڑا کیا۔
اسی دور میں اسلام نے عورت کی انسانی و سماجی حیثیت کو تسلیم کیا، وراثت، نکاح، شہادت، کمائی، تعلیم اور عزتِ نفس کے حقوق عطا کر کے اسے معاشرے کا مکمل انسان مانا۔ جبکہ یورپ میں اُس زمانے تک بعض کلیسائی و فکری حلقوں میں یہ بحث تک ہوتی رہی کہ عورت حقیقتاً انسان ہے بھی یا نہیں۔ 5ویں صدی کیCouncil of Mâcon
جیسے مذہبی اجلاسوں میں عورت کی روحانی و انسانی حیثیت پر اختلافی مباحث اس تضاد کی عکاسی کرتے ہیں۔ یوں انسانی وقار کے باب میں اسلام نے وہ اخلاقی بنیاد رکھی جس تک عالمی ضمیر کو پہنچنے میں صدیاں لگ گئیں اور دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ نے غلامی کو جرم قرار دیا۔
لیکن جرم کتابوں سے نہیں مٹتا، وہ اس وقت مٹتا ہے جب وہ محرکات ختم ہوں جو انسان کو مجبور بناتے ہیں۔ اسی لیے لوہے کی زنجیریں تو ٹوٹ گئیں مگر ان کی جگہ غربت، بھوک، جنگوں اور معاشی نابرابری کی نادیدہ بیڑیاں آ گئیں۔ یوں غلامی ختم نہیں ہوئی بلکہ انسانی اسمگلنگ کی صورت میں جدید لبادہ پہن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے اور یہ جدید غلامی کہیں زیادہ منظم، خفیہ اور سفاک ہے۔
آج انسانوں کی خرید و فروخت صرف اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ ایک مکمل متوازی معیشت بن چکی ہے۔ دنیا بھر کے رپورٹس میں منشیات کے بعد انسانی اسمگلنگ کو سب سے بڑا کالا دھندہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس دھندے میں سرحدی نیٹ ورکس، جعل ساز، ٹرانسپورٹر، ایجنٹ اور عالمی جرائم پیشہ گروہ مضبوط زنجیر کی طرح جڑے ہیں۔ اس بازار میں صرف جسم نہیں بکتا، بلکہ انسان کی عمر بھر کی کمائی، اس کی عزت، اس کے اعضاء اور اس کے خوابوں تک کا سودا ہوتا ہے۔
قدیم غلاموں کو لوہے کی ہتھکڑیاں لگتی تھیں، آج کے غلاموں کو امید اور خوف کی ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں۔ ایک طرف جنگ اور بھوک کا خوف، دوسری طرف بہتر زندگی کی امید، یہی دو جذبات اسمگلروں کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ وہ مایوس انسانوں کو خواب بیچتے ہیں، ان سے زمینیں اور زیور فروخت کرواتے ہیں، اور پھر انہیں کنٹینروں یا بحیرہ روم کی بے رحم لہروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یوں انسان اپنے ہی پیروں سے چل کر اپنی قبر تک پہنچ جاتا ہے۔
اس سیاہ صنعت کی جڑیں عالمی معاشی عدم مساوات میں پیوست ہیں۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کی قدر اس کی ’’استعمالیت‘‘(Utility)سے جوڑ دی ہے۔ جب انسان مقصد نہیں رہتا بلکہ وسیلہ بن جاتا ہے تو بازار اسے جنس (Commodity) سمجھنے لگتا ہے۔ بازار نفع اور نقصان سمجھتا ہے، وہ انسانی آنکھ کے آنسو نہیں دیکھتا۔ جب بھوک ضمیر سے زیادہ طاقتور ہو جائے تو پاسپورٹ کی فیس کے لیے ماں کا زیور اور باپ کی زمین بھی فروخت ہو جاتی ہے۔ یہی غربت اور مجبوری اس کالے دھندے کے لیے خام مال ہے۔
پاکستان اس وقت اس المیے کی مرکز میں تین زاویوں سے موجود ہے۔
پہلا زاویہ: ہمارے اپنے ہی نوجوان غیر قانونی راستوں سے سنہری مستقبل کے سراب کا پیچھا کرتے ہیں، بحیرہ روم کی لہروں پر ملنے والی لاشیں اور ترکی کے جنگلوں میں ٹھٹھر کر مرنے والے ہمارے بچے اسی حقیقت کا نوحہ ہیں۔
دوسرا زاویہ: پاکستان کا جغرافیہ اسے افغانستان اور وسطی ایشیا کے پناہ گزینوں کا گزرگاہ بناتا ہے، جہاں انسانی جانیں کپڑے کے گٹھروں کی طرح ایک سرزمین سے دوسری سرزمین منتقل ہوتی ہیں۔
تیسرا زاویہ: اندرونِ ملک جاری جبری مشقت، گھریلو بیگار، بھیک مافیا اور کمسن بچوں کے استحصال کی شکل میں ہے، بھٹوں سے لے کر شہروں کے بنگلوں تک معصوم جسم اور خواب پیسے کے بدلے بیچے جاتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف قانون، پابندی یا سرحدی نگرانی سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک اخلاقی، سماجی اور روحانی بحران ہے۔ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ شہری کو تحفظ، معاشی انصاف اور امید دے تاکہ کوئی نوجوان اپنے خواب کسی ایجنٹ کے ہاتھ گروی نہ رکھے۔ مذہب نے تو انسان کی تکریم کا اصول بہت پہلے دے دیا تھا، ہم نے اسے منڈی کا مال بنا دیا۔
ادیب، استاد اور دانشور کی ذمہ داری صرف معلومات دینا نہیں بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ جب قلم خاموش ہو جائے تو معاشرہ اخلاقی طور پر اندھا ہو جاتا ہے۔ حقیقی تہذیب اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان کو سرمایہ نہیں بلکہ محترم تسلیم کیا جائے۔
آخر میں سوال یہی ہے: کیا ہم واقعی مہذب ہیں یا ہم نے صرف غلامی کی شکل بدل دی ہے؟
آج انسان اپنا وقت، آزادی اور اعضاء تک نیلام کر رہا ہے۔ یہ نیلامی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم انسان کی قیمت نفع کے بجائے وقار سے نہیں جوڑتے۔ یاد رکھئے، ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے، یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں حقیقی تہذیب تک لے جا سکتا ہے، ورنہ ہم صرف نام کے مہذب رہ جائیں گے اور ہمارے اندر کا انسان منڈیوں میں بکتا رہے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ کوئی دور دراز کا المیہ نہیں، یہ ہمارے گھروں کی دہلیز پر کھڑی ہوئی آہٹ ہے۔ یہ ان خشک آنکھوں کا قصہ ہے جن میں آنسو باقی نہیں رہتے، ان مائوں کا نوحہ ہے جن کے بیٹے راستے میں دم توڑ دیتے ہیں، اور ان باپوں کی خاموش موت ہے جو اپنے ہاتھوں کی کمائی خوابوں میں دفن کر دیتے ہیں۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے، تو شاید کل ہم اپنی ہی تہذیب کی لاش پر کھڑے ہو کر سوچتے رہ جائیں کہ ہم کہاں غلط ہو گئے۔ سوال یہ نہیں کہ انسان کیوں بکتا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم کب تک خریدنے والوں کو معاشرے، نظام اور معیشت کے نام پر قانونی و اخلاقی جواز دیتے رہیں گے؟ انسانی زندگی اس بازار میں بولی لگنے کے لیے نہیں، محفوظ ہونے کے لیے ہے۔ اگر ہم نے انسان کی تکریم کا مقدمہ ابھی نہ لڑا، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی، اور آنے والی نسلیں ہمارے سکوت کو ہماری بدترین کمزوری لکھیں گی۔

جواب دیں

Back to top button