Columnمحمد مبشر انوار

بونگیاں

بونگیاں
محمد مبشر انوار
امریکی صدر ٹرمپ وینزویلا کے رجیم چینج میں امریکہ کو براہ راست ملوث کرکے، اپنے عزائم واضح کر چکے ہیں گو کہ ان کے عزائم کے پس پردہ قومی مفادات کی جھلک بخوبی دیکھی جا سکتی ہے لیکن ریاستی مفادات کے حصول میں اس طریقہ کار کو کسی بھی طور قابل ستائش قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں عالمی قوانین کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر اسے کسی بھی طور صدر ٹرمپ کے انتخابی منشور کے مطابق کہا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ انتخابی مہم میں جنگیں بند کرانے اور تجارتی راستے کھولنے کے لئے امریکی عوام سے ووٹ مانگ رہے تھے اور جو بائیڈن انتظامیہ کی نا کامی و نااہلی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے لیکن بدقسمتی سے، صدرٹرمپ کی امن پسندی کا نقاب بمشکل ایک سال بھی نہیں چل پایا اور صدر ٹرمپ نے اس نقاب کو ازخود اپنے چہرے سے نوچ ڈالا ہے اور جس طرح کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، ان سے امن عالم کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم دوسری طرف روس و چین کے روئیے کو دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہنوز پرامید ہیں کہ معاملات کسی نہ کسی جگہ ٹھہر جائیں گے اور امن عالم برقرار رہ پائے گا، ممکنہ طور اسی وجہ سے چین یا روس کی جانب سے کھل کر کسی بھی قسم کا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا حتی کہ امریکہ نے وینزویلا سے روس و چین کو تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو بھی اپنے قبضہ میں لے لیا ہے ،جس کے جواب میں روس نے عملے کی واپسی کا مطالبہ تو کیا ہے لیکن تیل کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ برکیف اس امریکی اقدام کا ایک مقصد، روس و چین کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کروانا ہے تو دوسری طرف امریکی تیل کمپنیوں کو یہ باور کروانا ہے کہ اگر امریکی صدر امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا میں سرمایہ کاری کے احکامات دے رہے ہیں، تو اس کے پس پردہ ان کا بھرپور اعتماد موجود ہے، امریکی قبضہ کو حتمی سمجھتے ہیں اور وینزویلا میں کسی بھی قسم کی مدافعت/مزاحمت کی توقع نہیں رکھتے، تاہم وینزویلا کی موجودہ حکومت کی حد تک یہ بات عیاں ہے کہ خواہ مغوی صدر نکولس میدورا کا برخوردار یہ کہتا رہے کہ ملکی معاملات مضبوط ہاتھوں میں ہیں، درحقیقت معاملات ریاست کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں۔ اگر ایسی بات نہ ہوتی اور واقعتا ریاستی معاملات وینزویلا کی سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں ہی ہوتے، تو نہ نئی صدر ڈیلسی کو امریکی وفد کے ساتھ معاہدہ کرنے کی ضرورت پیش آتی اور نہ ہی امریکی صدر یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے کہ مستقبل میں وینزویلا کے معاملات امریکی صدر براہ راست کنٹرول کریں گے۔ درحقیقت پس پردہ وینزویلا کے آرمی چیف کی حد تک یہ معاملات سامنے آ چکے ہیں کہ وہ امریکیوں کے ساتھ مل چکے ہیں، ایسی صورتحال میں یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے کہ وینزویلا ریاستی حد تک اپنی آزادی برقرار رکھ پائے یا امریکی جارحیت کے سامنے کھڑا ہو پائے گا بالخصوص جب آرمی چیف، جس کے تحت پوری فوج کی کمان ہے، امریکی احکامات کے تابع ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کو خواہ کچھ بھی نام دیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر مادر وطن کی حفاظت کرنے والے، اس کے مخالفین سے جا ملیں تو مادر وطن کی حفاظت کی بجائے، بغیر لڑے ہی دشمن اختیار حاصل کر لیتا ہے، جو اس صورتحال میں تاحال دکھائی دیتا ہے لیکن وینزویلا اپنی گوریلا جنگی تاریخ کو دہرانے کی بھرپور اہلیت و صلاحیت ضرور رکھتا ہے اور مستقبل قریب میں یہ امید بہرحال ضرور دکھائی دیتی ہے کہ وینزویلا میں گوریلا کارروائیاں دکھائی دیں گی۔ ان گوریلا کارروائیوں سے کیا وینزویلا امریکی چنگل سے آزاد ہو پائے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ روس و چین کی جانب سے وینزویلا کی مدد جاری رہے گی کہ اس سے بہرصورت امریکہ ایک طویل مدتی جنگ کا شکار ہوجائے گا اور اس کی رہی سہی معیشت کا جنازہ بھی نکل جائے اور جو امیدیں امریکہ وینزویلا کے تیل کی کمائی سے لگائے ہوئے ہے، وہ امیدیں بر نہ آئیں۔ دوسری طرف اس امریکی اقدام کے بعد، بہرطور ایک طرف اگر روس کو یوکرین پر اپنی جارحیت کا جواز مل چکا ہے تو دوسری طرف ایسی ہی صورتحال اسرائیل کی بھی ہے اور مستقبل قریب میں کئی ایک دیگر ریاستیں، اس جواز کو بنیاد بنا کر ایسی کارروائیوں کے لئے نہ صرف اعلانات کرر ہی ہیں بلکہ اپنے لائحہ عمل ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔
ان مہم جو ریاستوں کا ذکر کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جنوب مغرب ایشیا میں امریکہ جس ریاست پر سب سے زیادہ بھروسہ کر رہا تھا، اس کی حالت کیا ہو چکی ہے اور کیا واقعی امریکہ اس پر مزید بھروسہ یا اعتماد کر سکتا ہے، یا وہ ریاست اپنے کسی نئے لائحہ عمل پر امریکہ کا اعتماد حاصل کر سکتی ہے؟ اس حقیقت سے ساری دنیا واقف ہے کہ افغانستان پر امریکی جارحیت کا بنیادی مقصد کیا تھا اور کیا امریکہ اپنے اس بنیادی مقصد میں کامیاب ہوا یا نہیں یا اس جارحیت کے الٹ نتائج اس وقت امریکہ کو بھگتنے پڑے ہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ اپنے تئیں روس کو افغانستان میں عبرتناک شکست سے دوچار کر چکا تھا جبکہ اس کی شدید خواہش تھی کہ کسی طرح چین کی بڑھتی ہوئی معاشی حیثیت کو نکیل ڈالے، جس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے امریکہ نے 9/11کی آڑ میں، چین کے پڑوسی، افغانستان کو طویل جنگ کے بعد، کمزور سمجھتے ہوئے ، اس پر جارحیت کی کہ کسی طرح چین کے پڑوس میں رہ کر چین کی گو شمالی کی جائے لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا اور یہ وقت چین کے لئے نعمت غیر متبرکہ ثابت ہوا۔ امریکہ دو دہائیوں تک افغانستان میں مصروف رہا اور ان دو دہائیوں میں چین نے جو مقاصد حاصل کئے، ان کا اندازہ آج ساری دنیا کو بخوبی ہو رہا ہی اور چین کا اثر و رسوخ دنیا پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دوسری طرف جس ریاست کو امریکہ نے ہر طرح کی مدد و تعاون فراہم کیا، وہ چین کے سامنے بری طرح پٹ گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ بڑی عسکری طاقت کے زعم میں سمجھیں یا عالمی طاقت کی حلیف حیثیت میں خود کو عالمی طاقت سمجھتے ہوئے، ایسے اقدامات کرتے نظر آئی، جیسے وہ واقعتا اس کی اہل بھی ہے تاہم ساری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بھارت کا یہ زعم، غرور و تکبر خاک میں ملایا گیا کہ آج تک وہ سر اٹھانے کے قابل دکھائی نہیں دیتا الٹا امریکی صدر کی جانب سے اس کی جو درگت، عالمی ملاقاتوں میں بنتی ہے، اس نے بھارت کو کہیں نہ نہیں چھوڑا۔
بہرحال یہ سب حقائق اب تاریخ کا حصہ ہیں اور بھارت ان کو چاہ کر بھی نہیں بدل سکتا تاہم اس کی ہنوز یہ کوششیں اپنی جگہ جاری ہیں کہ کسی طرح اس خفت کو مٹانے کی کوئی صورت بن سکے۔ امریکہ حالیہ وینزویلا کی کارروائی کے بعد، بھارتی میڈیا میں ایسی کارروائیوں کے متعلق مسلسل ناتمام خواہشات سننے کو مل رہی ہیں اور بھارتی تجزیہ نگار و دفاعی ماہرین، اپنی حکومت کو ایسے مشوروں سے نواز رہے ہیں، جو میری دانست میں ریاست ہی کی زبان میں ریاست کو یہ مشورے دے رہے ہیں کہ چونکہ امریکہ نے وینزویلا پر ، عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، رجیم چینج آپریشن کیا ہے، لہذا بھارت یہی کام پاکستان میں کرنے کے لئے حق بجانب ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا بھارت، امریکہ ہے یا پاکستان وینزویلا ہے؟۔ پہلے بھی بھارت ’’ گرم تعاقب‘‘ کے چکر میں ایسی حماقت دو مرتبہ کر چکا ہے اور دونوں مرتبہ اسے منہ کی کھانی پڑی ہے، تو کیا اب پاکستان جوابا کوئی کارروائی نہیں کرے گا یا بھارتی ٹیکنالوجی اس قلیل عرصہ میں پاکستان سے برتر و بہتر ہو گئی ہے یا بھارتی سینا کے سورمائوں میں ماند پڑا جذبہ یکلخت اجاگر ہو گیا ہے، جس سے وہ پاکستانی افواج کے سینے، فقط نعروں سے ہی چیر دیں گے، جیسے پاکستانی شیروں/شاہینوں کے ولولہ انگیز نعرے، بھارتی سینا کے سورمائوں کی پتلونیں گیلی کر دیتے ہیں؟۔ جنگ لڑنے کا جذبہ تو پاکستانی سورمائوں کو پاک فوج میں شامل ہوتے ہی پلا دیا جاتا ہے اور حیدر کرار کے یہ جانشین شہادت کو زندگی پر فوقیت دیتے ہیںکہ اس ابدی زندگی کے سامنے یہ زندگی ہیچ ہے۔ حیرت تو اس امر پر ہوئی کہ بھارتی، پاکستان میں کس رجیم چینج کی خواہش پالے ہوئے ہیں؟، اس رجیم کے بدلے وہ کس شخصیت یا نظام کو سامنے لانے کی خواہش رکھتے ہیں؟، سنا ہے کہ وہ آرمی چیف کو وینزویلا کے صدر کی طرح اغوا کرنا چاہتے ہیں؟ واہ کیا خواہش پالی ہے اور کس ڈھٹائی سے اس کا اظہار کیا ہے، شرم تم کو مگر نہیں آتی کہ اپنے جہازوں کا ملبہ تم ابھی تک اٹھا نہیں سکے، دو گھنٹے کی جوابی کارروائی میں تم امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکے گڑگڑاتے جنگ بندی کی درخواست لے پہنچے، اور خواب تمہارے پاکستان میں رجیم چینج اور اغوا کرنے کے ہیں؟، ایسی خواہشوں کا اظہار کرنے والوں کو صرف بونگے اور ان خواہشات کو بونگیوں کا نام ہی دیا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں۔

جواب دیں

Back to top button