CM RizwanColumn

رعونت، ڈھٹائی کا عالمی و مقامی تسلط

جگائے گا کون؟
رعونت، ڈھٹائی کا عالمی و مقامی تسلط
تحریر: سی ایم رضوان
جون ایلیا نے کہا تھا کہ کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے۔۔ روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے بات تو ٹھیک ہے کہ یہ گھر جسے دنیا کہتے ہیں۔ اس میں روزانہ کی بنیاد پر ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے۔ کبھی کوئی قانون ٹوٹ جاتا ہے تو کبھی کوئی دوسرا ضابطہ بکھر جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اب لگتا ہے کہ پورا گھر ہی ٹوٹ گیا ہے اور کسی توڑنے والے کو کوئی شرم حیا اور عفت احساس کا لحاظ ہی نہیں رہا۔ اب اگر موجودہ عالمی و ملکی منظر کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ دنیا بھر میں اور پاکستان میں رعونت اور ڈھٹائی کا کھلا ڈھلا تسلط قائم ہے۔ ایک طرف فلسطین پر ناجائز قابض، ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل جنگ بندی کے اصولوں اور شرائط کی خلاف ورزی کر کے نہتے اور بھوک و افلاس کے مارے فلسطینیوں کے قتال کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف اس کی نام نہاد پارلیمنٹ نے ڈیڑھ ماہ قبل دو انتہائی متنازعہ بلوں کی ابتدائی منظوری دے دی ہے، ایک بل فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کی اجازت دیتا ہے تو دوسرا اسرائیلی حکومت کو عدالتی منظوری کے بغیر غیر ملکی میڈیا اداروں کو مستقل طور پر بند کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے لئے سزائے موت کے قانون کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ قابض ریاست اپنی دہشت گردی، خونریزی اور درندگی کو قانون کا نام دے چکی ہے اور دوسری طرف غزہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود حملے کر رہی ہے اور اب تک کم و بیش تین سو فلسطینی شہید، 700زخمی کر چکی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ یوں غیر قانونی، غیر انسانی قابض اسرائیل باشندگان فلسطین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔ یہ مشقِ ستم 1948ء سے انتہائی رعونت اور ڈھٹائی کے ساتھ پیہم جاری ہے۔ تب سے اب تک اسرائیل اور امریکہ کی ہر حکومت اور ہر انتظامیہ فلسطینیوں کے خلاف ہر نئے دن ایک نئی سزا، نئی سختی، نئی جارحیت اور نئی بہیمیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ قابض طاقت کی تمام تر توجہ کا ارتکاز اسی پر رہتا ہے کہ کسی طرح فلسطینیوں کیخلاف شکنجہ پہلے سے زیادہ شدت سے کس دیا جائے، ان پر نئی سختیاں، پابندیاں لاگو کر دی جائیں اور فلسطین کو مکمل طور پر ہڑپ کر لیا جائے۔ ان دونوں ممالک کی ہر حکومت اور ہر انتظامیہ اس دوڑ میں اپنی پیشرو سے بڑھ کر رعونت دکھانے میں کوشاں رہتی ہے۔ اب ٹرمپ ان سب پر مستزاد بن کر وارد ہوا ہے تاکہ اسے قابض اور غاصب ٹولے میں زیادہ اعتبار اور اعتماد حاصل رہے، مگر حوصلہ توڑنے، جسم مٹانے، وجود ختم کرنے اور تذلیل کا ہر غیر انسانی حربہ اختیار کئے جانے کے باوجود فلسطینی اپنی زمین پر اپنی جڑوں سے پیوست کھڑے ہیں اور اسرائیل کو آج پون صدی بعد بھی تاریخ انسانی کا بدترین ظلم جاری رکھنا پڑ رہا ہے۔ بہرحال تاریخ بن رہی ہے، اسرائیل کے منہ پر کالک لگ رہی ہے، اس کی رسوائیوں کے باب رقم ہو رہے ہیں، اس کی غیر انسانی اور بہیمانہ کارروائیوں کا حساب دفترِ تاریخ میں اکٹھا ہو رہا ہے اور ساتھ ہی فلسطینیوں کی مظلومیت، شہامت، صبر و ثبات اور اپنی زمین اور اپنی مٹی کے ساتھ خلوص و وفا کی داستانیں بھی رقم ہو رہی ہیں۔ دنیا آج بھی دیکھ رہی ہے کہ ستم گر کی ہر ظالمانہ روش کے باوجود فرزندان زمین جرات، حمیت اور وقار کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور ظالم، قابض اور جارح اپنی تمام طاقت، قہر و ظلم کے باوجود دنیا کے ساتھ آنکھ ملانے سے قاصر ہے۔ تاریخ دیکھ رہی ہے کہ کون ظالم کا ساتھ دے رہا ہے اور کون مظلوم کے ساتھ ہے اور کون خاموش تماشائی ہے اور بے حسی میں گم ہے۔ ان سب کا تاریخ اور وقت مل کر ٹھیک ٹھیک حساب لیں گے۔ وقت ضرور انصاف کرے گا کہ مسلم دنیا، عالمی برادری اور عالمی اداروں کے بھی کچھ فرائض ہیں کہ وہ دیکھیں کہ قابض طاقت کی جانب سے محکوم قوم کے خلاف انسانیت سوز قوانین لاگو کرنا بدترین نسل پرستی اور امتیازی عمل ایک قوم کو غلام بنانے اور اس کے ساتھ بدترین غلامانہ برتائو رکھنے کے مترادف ہے، جس کی آج کی مہذب دنیا میں کوئی گنجائش نہیں، دنیا کی کتابی اقدار، مسلمہ قوانین اور لکھے ہوئے اصولوں اور معاہدوں کے آئینے میں اس طرح کے اقدامات انسانیت کے خلاف جرم ہیں، مگر اس سب کے باوجود سب خاموش ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ فلسطینیوں کو مٹا ڈالنے کیلئے اسرائیل کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ ان سب کا ذمہ دار خود امریکہ ہے۔ ایران کے خلاف بھی اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ ایران میں ان کی سازشوں سے احتجاج کے نام پر آگ جو ان دنوں بھڑک رہی ہے یہ ان دونوں کی لگائی ہوئی ہے۔
ساتھ ہی یہ کس قدر قبیح رعونت ہے کہ گزشتہ دنوں وینزویلا کے صدر کے اہلیہ سمیت اغواء کے لئے کامیاب امریکی فوجی آپریشن کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دنیا بھر میں موجود اپنے لوٹ مار اور ناجائز تسلط کے مزید اہداف کے بے اصولی پر مبنی ظالمانہ حصول کے لئے کہنا ہے کہ اسے عالمی قانون کی کوئی پرواہ نہیں، کھلے شیطان کی طرح کہتا ہے کہ میں امریکی فوج کو کسی بھی وقت کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتا ہوں، میری اپنی سوچ اور اخلاقیات کی اپنی حدود ہیں اور اسی کے مطابق فیصلے کرتا ہوں، گو کہ صدر ٹرمپ کو داخلی اور عالمی سطح پر علامتی اور گفتنی نقد و جرح کا سامنا ہے مگر عملاً اس کو کسی ضابطے اور اخلاقی معیار کی کوئی پرواہ نہیں۔ وینزویلا کا کنٹرول سنبھالنے اور ساحلوں کی فوجی ناکہ بندی کے بعد اب وینزویلا سے تیل کی شپمنٹ میں شریک پانچ آئل ٹینکروں پر امریکی فوج اور کوسٹ گارڈ کی تحویل اور ایکشن ٹرمپ کی کھلی جارحیت کا اعلان کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار امریکا، روس کشیدگی میں اضافے کا رونا رو رہے ہیں۔ انٹرنیشنل قوانین کی باتیں بے معنی ہو چکی ہیں۔ یہاں تک کہ امریکی امیگریشن فورس کے ہاتھوں ریاست منی سوٹا میں ایک پیدائشی امریکی شہری خاتون کی ہلاکت، ریاست اوریگون میں مزید دو افراد کی امیگریشن حکام کی فائرنگ سے ہلاکت کی بھی پرواہ نہیں کی جا رہی، ادھر روس نے یوکرین میں نیوکلیئر ہتھیار لے جانے والے ہائپر سونک میزائل سے حملہ کیا ہے جس سے ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ وینزویلا پر امریکی ناکہ بندی کے بعد روس، چین اور دیگر متاثرہ ممالک کا جوابی ردعمل ابھی تک صرف سفارتی سرگرمیوں تک محدود ہے، عالمی صورتحال بھی لفظی حد تک مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی عوامی مقبولیت پر منفی اثرات کے باوجود اپنی سخت گیر حکمت عملی میں لچک دکھانے سے انکاری، اپنی پالیسیوں پر قائم ہے اور دنیا کو تباہی کی سمت لے جانے پر مصر ہے اور رعونت کے ساتھ دھمکی دے رہا ہے کہ دنیا بھر میں وہ اپنی فوج کو کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتا ہے اور اسے یہ حکم دینے کا مکمل اختیار ہے کیوں کہ وہ اپنے ملک کا کمانڈر انچیف ہے اور اسے اس کے اپنے ذہن کے علاوہ ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ دھمکیاں وہ اپنے اگلے مظالم کی پیشگی پالیسی کے تحت دے رہا ہے۔
ڈھٹائی اور رعونت کی مقامی مثال یہ ہے کہ پاکستان کے صوبہ کے پی کے میں پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے مگر اس اصولی اور نیک کام کی بھی مخالفت سرعام کی جا رہی ہے اس حب الوطنی اور ملک دوستی پر مبنی اقدام کی مخالفت اڈیالہ جیل میں بیٹھے ایک ایسے شخص کے کہنے پر ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ کر رہا ہے جو شخص جب وزیر اعظم تھا تو دہشت گردوں کو خود ملک میں لایا تھا اور ان کے ذریعے اپنے مذموم سیاسی مقاصد پورے کرتا تھا۔ کھلی رعونت یہ ہے کہ یہ ایجنڈا ملک دشمنوں کا ہے اور پورا یہ لوگ کر رہے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں عوامی حمایت حاصل ہے۔ جھوٹ اور وطن دشمنی پر مبنی ایجنڈا لے کر اب یہ وزیر اعلیٰ کراچی کے دورہ پر ہے اور ڈھٹائی کی انتہا یہ ہے کہ یہ جتھہ مزار قائد کے اطراف میں اپنی فوج دشمن باتوں کو بیان کر رہا ہی۔ ڈھٹائی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنا بھی سردست مشکل ہے کیونکہ یہ عوام میں سے چند درجن لوگوں کو ڈھال کے طور پر اپنے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں بانی پی ٹی آئی کی لائن کیا ہے یہ دیکھنے کے لئے اس کا ایکس اکائونٹ کافی ہے کہ حکومت اور اس کے مخالفین کے مابین بات چیت نہ ہونے، ملک میں سیاسی ماحول درست کرنے کے لئے سنجیدہ سیاسی ڈائیلاگ میں واحد رکاوٹ صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی ہے۔ بانی پی ٹی آئی تو یہ کہتا ہے کہ این ڈی یو کی ورکشاپ میں بھی جو پی ٹی آئی کے لوگ جائیں تو یہ شرمناک بات ہے۔ وہ صرف آگ اور زہر اگلتے ہیں، آج تک ان کے منہ سے یہ نہیں نکلا کہ میں سیاسی قیادت سے بات کرنے کو تیار ہوں، جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو وہ اپنی ٹیم کو پیچھے ہٹا لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جعفر ایکسپریس حملے، پہلگام واقعے کے بعد پی ٹی آئی کو ایوان میں اکٹھے بیٹھنے کی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ نہیں آئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مخالفت میں جانے کا بیانیہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کا پھیلایا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ریاست نے دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑنے اور پی ٹی آئی کی طرف ہاتھ بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حکومت والے تو کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنی ذمہ داری ادا کریں، معیشت اور دیگر اہم ایشوز پر اپنا کردار ادا کریں۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے روڑے اٹکانے اور ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ دہشت گردی سے متعلق ابہام پیدا کیا جاتا ہے۔ سارا کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کا سارا زور صرف ایک شخص کی رہائی پر ہی ہے۔ چاہیے تو یہ کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرتے نظر آئیں نہ کہ دہشت گردی کے حق میں بات کریں۔ قوم کو جان لینا چاہیے کہ اس میں ان کے کیا سیاسی مقاصد ہیں۔

جواب دیں

Back to top button