ابنِ انشا کو بچھڑے 48برس بیت گئے

ابنِ انشا کو بچھڑے 48برس بیت گئے
تحریر: رفیع صحرائی
کچھ لوگ وقت میں نہیں مرتے، وقت ان کے اندر زندہ رہتا ہے۔ ابنِ انشا بھی انہی خوش نصیبوں میں سے ہیں۔ 11جنوری کو ان کی برسی آتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے اردو زبان نے ایک بار پھر مسکرا کر ہمیں آواز دی ہو۔ نرمی، شگفتگی اور بے ساختہ سچائی کی آواز۔
ابنِ انشا کا کمال یہ نہیں کہ وہ بڑے فلسفی تھے یا مشکل لفظوں کے جادوگر، ان کی عظمت اس بات میں ہے کہ انہوں نے عام آدمی کی بات، عام آدمی کی زبان میں، غیر معمولی تاثیر کے ساتھ کہی۔ وہ ہنساتے بھی ہیں، چبھتے بھی ہیں اور رُلاتے بھی ہیں مگر کبھی چیختے نہیں۔ ان کے ہاں طنز شور نہیں مچاتا، بس آہستہ سے کان میں سچ کہہ جاتا ہے۔
شاعر، مزاح نگار، کالم نگار اور سفر نامہ نگار ابنِ انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا اور تخلص انشا۔ ابنِ انشا کے قلمی نام سے مشہور ہوئے اور ایسے مشہور ہوئے کہ وفات کے 48سال بعد بھی لوگوں کے دلوں اور یادوں میں زندہ ہیں۔
انشا 15جون 1927ء کو جالندھر کے ایک نواحی گائوں میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 1946ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی اے کیا جبکہ 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ ابنِ انشا 1962ء میں نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ وہ ٹوکیو بک ڈویلپمنٹ پروگرام کے وائس چیئرمین اور ایشیئن کو پبلی کیشنز پروگرام ٹوکیو کی مرکزی مجلسِ ادارت میں بھی بطور ممبر شامل تھے۔ اس کے علاوہ وہ یونیسکو کے مشیر بھی رہے اور اس حیثیت میں انہوں نے متعدد ملکوں کے دورے کیے۔ ان کے یہ دورے اردو ادب کے محسن ثابت ہوئے کہ ان دوروں کے احوال کو ضبطِ تحریر میں لا کر انہوں نے سفر نامے کی صنف کو اپنی شگفتہ بیانی اور طنزیہ و مزاحیہ اسلوب کی بدولت ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔ ان کے سفر نامے آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافر آج بھی روزِ اول کی طرح مقبول ہیں۔
ان کی نثر ہو یا نظم، سفرنامہ ہو یا کالم، ہر جگہ ایک ہی مزاج دکھائی دیتا ہے۔ سادگی میں گہرائی، شگفتگی میں کرب۔
’’ چلتے ہو تو چین کو چلیے‘‘ ہو یا’’ آوارہ گرد کی ڈائری‘‘، قاری کو احساس ہوتا ہے کہ مصنف دنیا کو دیکھ بھی رہا ہے اور دل سے محسوس بھی کر رہا ہے۔ وہ ممالک نہیں، مزاج لکھتے ہیں۔
ابنِ انشا کے ہاں محبت رومان نہیں بنتی، ایک ذمہ داری بن جاتی ہے۔ وطن سے عشق نعروں میں نہیں ڈھلتا، خود احتسابی میں ڈھلتا ہے۔ وہ ہمیں ہنساتے ہوئے یہ سوال تھما دیتے ہیں کہ ہم اپنے رویوں، اپنی ریاست، اپنی معاشرت کے ساتھ آخر کیا کر رہے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر آج بھی تازہ ہے۔ کیونکہ سوال آج بھی وہی ہیں۔
ابنِ انشا نے نثر میں ہلکا پھلکا مزاحیہ انداز اپنے کالموں میں بھی برقرار رکھا۔ وہ روزنامہ جنگ کراچی اور روزنامہ امروز لاہور کے ہفت روزہ ایڈیشنوں کے علاوہ روزنامہ جنگ کے ہفت روزہ اخبارِ جہاں میں فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کو کبھی بھی نشتر نہیں بننے دیا، ہلکے پھلکے انداز میں مسائل کی تشخیص کے ساتھ علاج بھی تجویز کر کے آگے بڑھ جاتے تھے۔ ان کے کالم قارئین میں بے حد مقبول تھے۔ آپ سے کیا پردہ، خمارِ گندم اور اردو کی آخری کتاب ان کے کالموں اور مضامین کے مجموعے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے خطوط کا مجموعہ ’’ خط انشا جی کے‘‘ بھی چھپ چکا ہے۔ ان خطوط میں سے وہ خطوط خاصے کی چیز ہیں جو انہوں نے مرزا غالب کے انداز میں تحریر کیے ہیں۔ ان کے دوسری زبانوں کے تراجم پر مشتمل دو ناول اندھا کنواں اور انتقال کے نام سے شائع ہو کر قارئین سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔
ابنِ انشا کا شمار اردو ادب کے بڑے ناموں غالب، حالی اور احمد ندیم قاسمی کے ساتھ لیا جا سکتا ہے جنہیں بیک وقت بطور شاعر اور نثر نگار یکساں شہرت ملی۔ گو کہ انشا کی پہچان مزاح نگار اور سفر نامہ نگار کی ہے مگر بطور شاعر بھی انہیں منفرد مقام ملا۔ ہندی زبان پر عبور رکھتے تھے اور اپنی شاعری میں ہندی الفاظ کا برجستہ استعمال کر کے انہوں نے اپنی شاعری میں ایک نیا رنگ پیدا کیا۔ انہوں نے غزلیں، نظمیں اور گیت لکھے۔ شاعری میں ان کا ایک مخصوص انداز ہے وہ کبھی کبیر داس کا لہجہ اختیار کرتے ہوئے انسان دوستی کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں اور ایک انسان کو دوسرے انسان سے محبت کا درس دیتے ہیں۔
اہلِ وفا سے ترکِ تعلق کر لو پر اِک بات کہیں
کل تم ان کو یاد کرو گے کل تم انہیں پکارو گے
کہیں اپنے اشعار میں زندگی کی اداسیوں، محرومیوں اور دکھوں کا میر تقی میر کی طرح اظہار کرتے ہیں۔
اس دل کے دریدہ دامن میں دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
کہیں کہیں انشا نظیر اکبر آبادی کی طرح علاقائی اور عوامی انداز بھی اختیار کر لیتے ہیں۔وہ بڑی سادگی سے اور عوامی زبان میں عوام کے احساسات کو شعروں کا روپ دیتے ہیں۔
کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل ترے پربت ترے بستی تری صحرا ترا
ابنِ انشا کے شعری مجموعے چاند نگر، اس بستی کے اک کوچے میں، دلِ وحشی اور بلو کا بستہ (بچوں کے لئے نظمیں) کے نام سے منصلہ شہود پر آئے۔
ابنِ انشا کینسر کے موذی مرض کا شکار ہو کر علاج کی غرض سے لندن چلے گئے جہاں 11جنوری 1978ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ انہیں کراچی میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اپنی وفات سے ایک مہینہ پہلے انہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ غزل لکھی تھی۔ شاید انہیں اپنی موت کا یقین ہو گیا تھا۔
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اردو ادب میں بہت سے بڑے نام آئے، مگر کسی دوسری کو ابنِ انشا جیسا لہجہ کم ہی نصیب ہوا جو دل پر بوجھ نہیں بنتا بلکہ دل کو ہلکا کر دیتا ہے۔ وہ قاری کو کمتر نہیں سمجھتے، نہ خود کو برتر۔ ان کی تحریر میں ایک خاموش برابری ہے، ایک شفیق مکالمہ ہے۔
آج، 11جنوری کو اگر ابنِ انشا کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے تو صرف ان کی کتابیں یاد کرنا کافی نہیں۔ ہمیں وہ مزاج یاد رکھنا ہوگا جو اختلاف میں شائستگی، تنقید میں شگفتگی اور محبت میں سچائی سکھاتا ہے۔ وہ ہمیں یہ سبق دے گئے کہ ادب اگر انسان کو انسان کے قریب نہ لائے تو محض لفظوں کا کھیل رہ جاتا ہے۔
ابنِ انشا چلے گئے، مگر زبان میں ان کی ہنسی رہ گئی ہے اور شاید یہی بڑے لکھاری کی پہچان ہے کہ وہ خاموش ہو کر بھی بولتا رہتا ہے۔
ابنِ انشا کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 1976ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ ابنِ انشا جسمانی طور پر اس وقت ہمارے ساتھ موجود نہیں مگر ان کی یادیں اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔




