Abdul Hanan Raja.Column

ٹی ٹی پی، مولانا کا استدلال اور امریکی عفریت

ٹی ٹی پی، مولانا کا استدلال اور امریکی عفریت
عبدالحنان راجہ
پاک، بھارت جنگ سمیت دیگر پانچ جنگیں رکوانے کا سہرا سر پہ سجانے والے امریکی صدر نے وہ اقدام کیے اور جارحانہ عزائم ظاہر جو زمانہ قدیم کا رواج یعنی طاقت کی بنیاد پر وسائل اور ریاستوں پر قبضہ ! ان امریکی اقدامات نے کمزور بالخصوص معدنی ذخائر سے مالا مال ممالک کے لیے خطرہ کی گھنٹی بجا دی۔ ٹرمپ کا معاملہ اس لحاظ سے دیگر صدور سے مختلف کہ یہ کانگریس، سینیٹ یا کابینہ سے منظوریوں کے چکر میں پڑنے والے نہیں۔ ایران پر خطرات کے بادل یقینا گہرے ہوتے جا رہے ہیں، وہاں شام والی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے اور موجودہ انقلابی قیادت کو تبدیل کرنے کی منظم سازش، مگر افسوس کہ ہر بار سازش کا شکار مسلمان ہی بنتے ہیں، لیبیا، مصر، عراق، سوڈان، یمن و دیگر، جہاں جہاں ان ممالک کے عوام نے غیر ملکی طاقتوں کے ایما پر نفرتوں کے بے لگام الائو جلائے تو اپنے لیے مصائب پیدا ہی پیدا کیے۔ موجودہ حالات پاکستان کے لیے گہری تشویش کا باعث کہ ایک طرف اسے سعودیہ اور امارات کے مابین توازن برقرار رکھنا ہے اور دونوں برادر ممالک میں کشیدگی کو روکنا تو دوسری طرف ایران میں جاری فسادات بھی پاکستان کے لیی نیک شگون نہیں، کہ ایک عرصہ بعد ایران اور پاکستان کے مابین اعتماد سازی ہوئی کہ اس سے قبل ایران کا جھکائو بھارت کی طرف رہا۔ ایران، اسرائیل جنگ نے ایرانی قیادت کو دوست دشمن میں فرق واضح کیا تو اب وہی سازشی عناصر جن میں اسرائیل شامل ایران کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف۔ ایران میں موساد، سی آئی اے اور را کا نیٹ ورک فسادات کو پرتشدد بنا رہا ہے۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ادھر غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق موجودہ بدلتی صورتحال میں کہ جب دنیا کے کئی ممالک کو اپنی بقا کے لالے پڑے ہیں اور وہ تنہا امریکی عفریت کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تو اس صورتحال میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک چھتری تلے متحد ہونا بنتا ہے اور فیلڈ مارشل کے پے در پے دوروں کے اثرات اب ثمر آور ثابت ہو رہے ہیں۔ بفضل تعالیٰ آذربائیجان سے 4بلین 60کروڑ ڈالر کے معاہدہ کے تحت دفاعی سامان کی ترسیل شروع، لیبیا سے 4ارب ڈالر کے بعد، ترکیہ کو فروخت بھی خوش آئند۔ سوڈان اور بنگلہ دیش سے معاہدہ جات آخری مراحل میں جبکہ ایئر چیف سعودی عرب کے اہم دورہ پر کہ جہاں جے ایف تھنڈر بلاگ تھری کے معاہدہ کا باضابطہ اعلان کسی وقت متوقع۔ یقینا یہ پاکستان کے لیے نعمت مرقبہ سے کم نہیں کہ عسکری قیادت نے پاکستان پر عزت و عظمت کے دروازے کھولے، مگر اس کے ساتھ پاکستان کی معیشت کی بہتری بھی گھٹن زدہ حالات میں تازہ ہوا کا جھونکا، زر مبادلہ کے 21بلین ڈالر کے ذخائر اس کا پتہ دے رہے ہیں۔
ایران اور غزہ پر منڈلانے جنگ کے بادلوں اور طالبان رجیم و بھارت کی ریشہ دوانیوں میں گھرے پاکستان کے لیے کراچی میں علما کانفرنس میں مولانا کی گفتگو جس کا لب لباب کہ ’’ اگر پاکستان افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملہ کر سکتا ہے تو بھارت کو یہ حق کیوں حاصل نہیں‘‘۔ خطرناک و تشویش ناک بیان اور اس کی حدت قومی سلامتی کے اداروں نے یقینا محسوس کی ہو گی۔ ان حالات میں ایسا بیان اور مولانا کے بدلتے تیور کئی طوفان اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں ۔ اب دبیز پردوں اور محفوظ دیواروں کے پیچھے کیا وعدے وعید ہوئے، کون سی بات چیت ہوئی کہ جس کا دکھ انہیں بے چین کیے ہوئے ہے، کہ اندر کی باتوں کا علم تو اندر کے لوگوں کو ہی ہوتا ہے، ہاں البتہ کسی کی زبان پھسلے یا جذبات کی رو میں کوئی بہکے تو خبر باہر نکلتی ہے، جس کے مطابق مبینہ طور پرح الیہ انتخابات میں JUIکو وہ حمایت نہ دی گئی، جس طرح کی مسلم لیگ ن کو۔ یہ دکھ یقینا اس جماعت کو ہے کہ جس نے مدتوں کے پی میں راج کیا، مگر حالات نے پلٹا کھایا اور PTIسب لے اڑی۔ یہ تو عمران خان کی نادانی اور جارحانہ مزاج کہ دیگر جماعتوں کو اقتدار کا موقع میسر ، اگر پی ٹی آئی کی قیادت میں اوسط درجہ کی بھی فراست ہوتی تو وہ دوبارہ مقتدر ہو سکتی تھی۔
مولانا سرد و گرم چشیدہ سیاست دان، کہ جو دل کی بات زبان پر لانے کا ہنر بھی رکھتے ہیں اور زبان کی بات دل میں رکھنے کے فن سے بھی آشنا ہیں۔ شگفتہ مزاجی ان کی شخصیت کا ایک پہلو اور بر موقع و برجستہ بات کرنا ان کا فن۔ مشکل سوال کو وہ اپنی دل آویز مسکراہٹ سے ٹال کر موضوع کا رخ بدل دینے میں بھی ماہر ہیں۔ مولانا خود پھسل بھی جائیں، مگر روایتی سیاست دانوں کی طرح ان کی زبان نہیں پھسلتی، کہ قائد حزب اختلاف ہو کر بھی حکومت وقت کو واک اوور دینے کا ہنر انہیں ہی آتا ہے، اور حکومت میں رہ کر اپوزیشن کرنا بھی وہ خوب جانتے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ حکومت اور نہ اپوزیشن ان کو بے چین اور مضطرب ضرور کر رہی ہے، اسی لیے کراچی والا بیان اور اب مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر زمین گرم کرنے کا عندیہ۔ پاکستان وہ واحد ملک کہ جہاں مقامی انتظامیہ سے لیکر صوبائی سے مرکزی حکومت تک کسی کے پاس مساجد کی فہرست ہے اور مدارس کا ریکارڈ اور پھر اس ہر مستزاد یہ کہ مدارس کا نصاب ریاست جاری کرتی ہے اور ان کے چندوں، آمدن و خرچ کا حساب کتاب۔ جب بھی کوئی حکومت مدارس کو قومی دھارے میں لانے، جدید و قدیم نصاب کے امتزاج اور مسلکانہ تعصب سے پاک نصاب اور گوشوارے جمع کرانے کی بات کرتی ہے۔ مولانا اسے دین پر حملہ قرار دیکر سڑکیں گرم کرنے چل پڑتے ہیں۔ انتہائی ادب کے ساتھ کہ پاکستان واحد ملک کہ جہاں مساجد و مدارس کی بڑی تعداد قبضہ یا غیر قانونی طور پر قائم جبکہ اسوہ یہ کہ مسجد نبویؐ کی جگہ بھی آقائے دو جہاںؐ نے عطیہ کے طور پر قبول نہ کی۔ علما یہ سب ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں اور ممکن ہے کہ اس پر بھی ان کے پاس دلائل ہوں، مگر مدارس کے طلبہ کی قوت کو وہ گاہے بگاہے استعمال میں لاتے ہیں اور بلوچستان و کے پی میں سیاسی طاقت کو بھی جوڑ توڑ کے لیے بچا رکھتے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں پاکستان کا کوئی اور مذہبی راہنما و مکتبہ فکر باوجود اکثریت و اہلیت کے باوجود سیاست و حکومت میں وہ مقام حاصل نہ کر سکا، جو مولانا فضل الرحمان کے حصہ میں آیا۔
مگر آج کا عنوان ان کی شخصیت کے مختلف پہلو اور قدرے تشویش ناک بات بارے ہے جو انہوں نے کراچی میں بین المسالک ہم آہنگی کانفرنس میں کی، افسوس کہ بعد ازاں اس کی کسی عالم، مفتی اور شریک نے وضاحت کی اور نہ تردید۔ پی ٹی آئی کی ان سے مخالفت ہی نہیں مخاصمت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بانی قائد خود جلسوں میں ان کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی ہماری سیاست میں کردار کشی اور تضحیک کی بانی تو بے جا نہ ہو گا، جواب میں JUIہر محفل، منبر اور ٹاک شوز میں عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دیکر اپنا غصہ نکالتی۔ اب حقیقت مولانا بہتر جانتے ہیں یا عمران خان، مگر TTPاور افغان رجیم کے معاملہ پر دونوں بعد المشرقین نظریات کا غیر علانیہ اتفاق معنی خیز کہ جو ریاست اور قومی نظریات کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی ٹی ٹی پی کے لیے ہمدردیاں تو ڈھکی چھپی نہیں کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کے خلاف، مگر مولانا کی اتنی بڑی بات جو بالواسطہ ٹی ٹی پی کی وکالت کے زمرہ میں آتی ہو ظاہر ہے کسی کرب کے نتیجے میں ہی کی جا سکتی ہے۔ ظاہر پے یہ بات پوری قوم اور قومی سلامتی کے اداروں پر بجلی بن کے گری ہو گی، مگر نہ جانے کیوں اسے صرف نظر کر دیا گیا، اہمیت نہ دی گئی یا ممکن ہے کہ اس پہ حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہو۔
پاکستان پائندہ باد !

جواب دیں

Back to top button