برآمدات میں مسلسل کمی

برآمدات میں مسلسل کمی
ضیاء الحق سرحدی
دسمبر میں پاکستان کے تجارتی خسارے میں 24 فیصد اضافہ، برآمدات میں 20 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ، جبکہ درآمدات میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ دسمبر 2025 میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 23 عشاریہ 8 فیصد بڑھ کر 2.855 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ جمعہ کو جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، خسارے میں یہ اضافہ برآمدات میں 20 فیصد سے زائد کی کمی اور بیرون ملک سے ہونے والی در آمدات میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں ملک کی مصنوعات کی بیرون ملک فروخت ( برآمدات) میں نمایاں کمی آئی۔ دسمبر 2025 کے دوران تجارتی خسارے میں گزشتہ برس کے اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 3 عشاریہ 7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2024 میں ملک کا تجارتی توازن، یعنی برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق 2 عشاریہ 99 ارب ڈالر خسارے کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر 2025 کے دوران سالانہ بنیا د پر تجارتی خسارہ بڑھا جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں نمایاں کمی رہی۔ دسمبر 2025 میں برآمدات 2 عشاریہ 32 ارب ڈالر رہیں جو دسمبر 2024 میں ریکار ڈ ہونے والی 2 عشاریہ 91 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 20 عشاریہ 4 فیصد کم ہیں۔ دوسری جانب دسمبر 2025 میں در آمدات 6 عشاریہ 102ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے 5 عشاریہ 9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ماہانہ بنیا دوں پر دیکھا جائے تو دسمبر 2025 میں تجارتی خسارہ نومبر 2025 کے 2 عشاریہ 89 ارب ڈالر کے مقابلے میں 28 فیصد سے زائد بڑھ گیا ہے۔ یہ اضافہ ماہانہ بنیا دوں پر برآمدات میں کمی اور در آمدات میں اچانک اچھال ( اضافے) کی وجہ سے ہوا ہے۔ مالی سال 26۔2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 35 فیصد اضافے کے ساتھ 19 عشاریہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 14 عشاریہ 27 ارب ڈالر ر یکارڈ کیا گیا تھا۔یہ صورتحال کوئی زیادہ تسلی بخش نہیں ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی ادارہ بلوم برگ پالیسی سطح پر استحکام کی مثبت خبریں دے رہا ہے اور مہنگائی میں کمی کو سراہ رہا ہے۔ ایسے میں جب شرح سود میں کمی اور مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے اندرونی معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، تجارتی خسارے کا بڑھنا ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم اپنی معاشی بحالی کو پائیدار بنا پارہے ہیں؟ ایسی صورت میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر برآمدات بڑھانے اور در آمدات کو کنٹرول کرنے کی جامع حکمت عملی اپنائے۔ غیر ضروری در آمدات پر پابندیاں سخت کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی صنعتوں کو سہولیات فراہم کی جائیں تا کہ وہ عالمی منڈیوں میں مقابلہ کر سکیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر، جو کبھی ملک کی برآمدات کا ستون تھا،اب شدید دبائو کا شکار ہے۔ عالمی مقابلہ، توانائی کے بحران اور خام مال کی بلند قیمتوں نے اسے کمزور کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فوری ریلیف پیج دے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں خصوصی سبسڈی دے، اور جدید مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی میں رعایت لائے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات جیسے گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور بیڈ ویئر پر توجہ مرکوز کر کے ہم یورپ، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں اپنا حصہ دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹیکسٹائل کو ترجیح دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے اور اس کی بحالی سے روز گار میں اضافہ ہو گا۔ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں کم وقت میں زیادہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ملک کی زرخیز زمینیں، دریا اور متنوع موسم اگر صحیح طریقے سے استعمال کیی جائیں تو فصلیں، پھل اور سبزیاں بیرونی منڈیوں میں بھاری زرمبادلہ کماسکتی ہیں۔ لازم ہے کہ حکومت زراعت، لائیوسٹاک اور ڈیری سیکٹر میں موجود گنجائش کو بروئے کار لائے اور ان شعبوں کو مراعات دے کر برآمدات میں اضافہ یقینی بنائے۔ جدید بیج کھاد پر سبسڈی، ایر گیشن سسٹم کی بہتری، واٹر سٹوریج کی سہولیات اور فارمرز کو تکنیکی تربیت جیسے اقدامات سے نہ صرف پیداوار بڑھے گی بلکہ معیاری مصنوعات عالمی معیار پر پورا اتریں گی۔ اسی طرح سی فوڈ اور جھینگے کی پیداوار میں اضافہ اور برآمدات کو یقینی بنانے سے بھی بھاری زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ساحلی پٹی کی لمبائی اور سمندری وسائل ایک خزانہ ہیں جواب تک مکمل طور پر استعمال نہیں ہور ہے۔ ماہی گیری کے جدید آلات، پراسیسنگ پلانٹس، سروز نجیر کی سہولیات اور برآمداتی سرٹیفیکیشن فراہم کر کے اس شعبے کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ یورپی یونین اور ایشیائی منڈیوں میں پاکستانی سی فوڈ کی مانگ موجود ہے، بس لازم ہے کہ حکومت اس جانب توجہ دے اور نجی شعبے کو شراکت دار بنائے۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف تجارتی خسارے کو کم کریں گے بلکہ دیہی معیشت کو مضبوط بنائیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے۔ اگر اب بھی توجہ نہ دی گئی تو یہ عدم توازن ایک بڑے بحران کی شکل اختیارکر سکتا ہے، جوقرضوں کی ادائیگی کرنسی کی قدر اور معاشی خود مختاری کو خطرے میں ڈال دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ملکی معیشت کو بحران سے نکال کر اپنے پاں پر کھڑا کرنے کے لئے خود انحصاری کی جانب قدم بڑھانا اور قلیل المدتی اور طویل المدتی پالیسیاں بنانا پڑیں گی۔ پاکستان کا معاشی سائیکل اسی طرح چلتا ہے جس میں ہم قرض لے کر درآمدات کی بنا پر گروتھ کرتے ہیں اور پھر اس عیاشی کی قیمت چکانے کے لئے دوبارہ سے قرض کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں جو صرف آئی ایم ایف سے ہی ملتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں گزشتہ کئی سالوں سے برسراقتدار آنے والی ہر حکومت کی معاشی پالیسیوں کا ہدف ملک کے عوام سے زیادہ چند گنے چنے سرمایہ داروں کا مفاد رہا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے۔ دوسرا بجلی کا نظام ہے ہم نے بجلی کی پیداوار بڑھانے اور ڈیمز بنانے کی جانب کبھی توجہ نہیں دی، تیسری بات یہ ہے کہ ہمیشہ سے ہمارا مقصد اقتدار بچا تو رہا غربت کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح نہیں رہا، ہم ہمیشہ اقتدار میں آنے کے لئے یہ تاثر دیتے رہے کہ پرانی حکومتیں غیر جمہوری تھیں ہم حکومت کے اصل وارث اور عوام کے خدمت گار ہیں۔ عوام اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ اپنا بھی دن آئے گا لیکن ہر دن مہنگائی کی نوید لے کر آیا پاکستان نے 1988ء کے بعد سخت شرائط پر قرض لیا۔ قبل ازیں قرض پر شرائط نہ ہونے کے برابر تھیں قرض بڑھتا گیا شرائط سخت ہوتی گئیں دوسرے لفظوں میں مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کسی بھی ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں دیگر شعبوں کے علاوہ بر آمدات کا شعبہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ برآمدات سے جہاں معاشی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں وہیں یہ زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے برآمدات کے حجم میں اضافے کے لئے بھی کوئی طویل المدتی پالیسی تشکیل دینے پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے حکومت برآمدات بڑھانے کے لئے جو اقدامات کر رہی ہے ان کے اثرات کم نظر آ رہے ہیں۔ حکومت نے اڑان پلان کے تحت پانچ برسوں میں برآمدات کا ہدف 60 ارب ڈالر مقرر کیا ہے لیکن رواں مالی سال میں برآمدات میں اضافے کے بجائے 8 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے۔ ملک کی معاشی مضبوطی برآمدات میں اضافے سے مشروط ہے مگر یہ اضافہ تبھی ممکن ہے جب ملک میں صنعتی پیداوار کی رفتار تیز ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر ملکی مصنوعات کی منڈی بننے کے بجائے اپنے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط کریں اور ترقی دیں جبکہ برآمدات دوست پالیسیوں کی تشکیل بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو اپنی ٹیکس پالیسی اور ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، برآمدی شعبے کو بے جاٹیکسوں سے بھی چھٹکارا دلانا ہوگا۔ حکومت اگر واقعی ملکی برآمدات میں اضافے کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے ستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے تا کہ ملک کا برآمدی شعبہ عالمی منڈی میں مسابقت پیدا کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو 50 کھرب ڈالر کے معدنی ذخاءر عطا کئے ہیں لیکن ہم بدقسمتی سے ان معدنی وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے اور دنیا کے سامنے کشکول لئے پھر رہے ہیں۔ ملک کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن پیدا کر کے ہی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے، یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں بلکہ اس کے لئے شارٹ ٹرم کے ساتھ ساتھ لانگ ٹرم منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملکی برآمدات کو بڑھانے عملی اقدامات کئے جائیں تا کہ مایوسیوں کے اندھیرے میں اُمید کے چراغ روشن ہوں۔





