Column

پاکستان کی دفاعی فتح اور معاشی مواقع

پاکستان کی دفاعی فتح اور معاشی مواقع
کالم نگار : امجد آفتاب
مستقل عنوان: عام آدمی
پاکستان کے ایک عام آدمی کی طرح میں بھی روزمرہ زندگی کے مسائل، غربت اور مہنگائی کے دبائو سے گزرتا ہوں، مگر اس کے باوجود ملک میں جنم لینے والی مثبت اور حوصلہ افزا خبروں کی تلاش اور انہیں قارئین تک پہنچانا میری تحریر کا بنیادی مقصد رہا ہے۔ میں ہمیشہ اس یقین کے ساتھ لکھتا آیا ہوں کہ مایوسی وقتی ہو سکتی ہے، مگر امید ہی وہ طاقت ہے جو قوموں کو بحرانوں سے نکال کر نئی سمت عطا کرتی ہے۔
مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فیصلہ کن کامیابی اسی امید کی عملی تصویر تھی۔ یہ محض ایک عسکری معرکہ نہیں تھا بلکہ حکمت، تیاری اور قیادت کی برتری کا اظہار تھا۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنی مہارت، بروقت کارروائی اور جدید جے ایف 17تھنڈر طیاروں کے ذریعے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا، اور ہر محاذ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں اور سرکاری رپورٹس کے مطابق، پاک فضائیہ کی منصوبہ بندی اور لڑاکا طیاروں کی صلاحیت کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا، جس سے پاکستان کی دفاعی ساکھ مزید مستحکم ہوئی۔
اس پیش رفت کے پیچھے مضبوط قیادت کا کردار بھی نمایاں ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کی پُراعتماد اور پیشہ ورانہ قیادت نے افواجِ پاکستان کو واضح سمت دی، جبکہ ان کے اسٹریٹجک فیصلوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت، معاشی تدبر اور سفارتی حکمتِ عملی نے اس عسکری کامیابی کو معاشی مواقع میں بدلنے کی بنیاد رکھی۔ یہی سول اور ملٹری ہم آہنگی کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتی ہے۔
پاک افواج اور پاکستانی عوام کے درمیان تعلق بھی اسی ہم آہنگی کا مظہر ہے۔ جنگ یا بحران کے وقت افواج اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، چاہے وہ قدرتی آفات ہوں یا عسکری حالات۔ عوام کی دعائیں، حوصلہ افزائی اور تعاون افواج کو طاقت بخشتے ہیں، اور افواج کی مہارت، قربانی اور ڈیوٹی کا جذبہ عوام کے لیے اعتماد اور فخر کا سبب بنتا ہے۔ یہی پیار بھرا رشتہ ہر پاکستانی کے دل میں ملک کے لیے محبت اور تحفظ کی جذباتی بنیاد مضبوط کرتا ہے، اور یہ بات ہر فوجی کامیابی کو نہ صرف عسکری بلکہ سماجی اور قومی لحاظ سے بھی بامعنی بناتی ہے۔
اسی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے کہ آئندہ چند ماہ میں پاکستان 12سے 13ارب ڈالر مالیت کے دفاعی برآمدی آرڈرز مکمل کر رہا ہے جو ملکی تاریخ میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، لیبیا کے ساتھ 4ارب 60کروڑ ڈالر کا معاہدہ، جس میں جے ایف 17تھنڈر، سپر مشتاق ٹرینر طیارے، حیدر لڑاکا پلیٹ فارم اور بحری جہاز شامل ہیں۔ آذربائیجان کے ساتھ 40جے ایف 17تھنڈر طیاروں کی برآمد کے لیے 4ارب 50کروڑ ڈالر کا معاہدہ؛ سوڈان کے ساتھ 1ارب 50کروڑ ڈالر، زمبابوے کے ساتھ ایک کروڑ ڈالر سے زائد اور عراق کے ساتھ 66کروڑ 60لاکھ ڈالر کا وہ تاریخی دفاعی معاہدہ جو گزشتہ 40برسوں میں سب سے بڑا ہے یہ سب پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی ساکھ کے ٹھوس شواہد ہیں۔
اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ 2ارب ڈالر کے قرضوں کو جے ایف 17تھنڈر فائٹر جیٹس کے معاہدے میں تبدیل کرنا محض دفاعی سودا نہیں بلکہ کامیاب معاشی سفارتکاری کی مثال ہے۔ بنگلہ دیش، میانمار، نائجیریا اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب دفاعی سازوسامان کا خریدار نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا برآمد کنندہ بن چکا ہے، جو عالمی منڈی میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔
معاشی سطح پر بھی مثبت اشارے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ دفاعی برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ملکی معیشت میں اضافہ کر رہا ہے، مقامی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور نوجوان انجینئرز و تکنیکی ماہرین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ کئی بین الاقوامی معاہدے پاکستانی کمپنیوں کو جدید ٹیکنالوجی سیکھنے اور عالمی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کرنے کا موقع دے رہے ہیں، جو طویل المدتی اقتصادی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
آج جب قوم مہنگائی اور معاشی دبائو کا شکار ہے، جنرل سید عاصم منیر کی مضبوط عسکری قیادت اور وزیراعظم شہباز شریف کی متوازن سیاسی و معاشی حکمت عملی ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ پاکستان کے پاس مسائل کا ادراک ہی نہیں بلکہ ان سے نکلنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ یہی وہ مثبت پیش رفت ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں ایک امید کی روشنی بن کر سامنے آتی ہے، اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حالات چاہیے جیسے بھی ہوں، امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ۔

جواب دیں

Back to top button