ہماری زبان، ہماری وراثت، ہماری ذمہ داری

ہماری زبان، ہماری وراثت، ہماری ذمہ داری
تحریر: محمد محسن اقبال
عظیم قومیں اپنی تہذیب، تاریخ اور زبان پر فخر کرتی ہیں اور ان عناصر کو کبھی اپنی ذاتی یا اجتماعی شناخت سے جدا نہیں ہونے دیتیں۔ یہ محض ثقافتی زیورات نہیں ہوتے بلکہ وہ روحانی بنیادیں ہیں جن پر ایک قوم کا کردار استوار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں، بالخصوص سفارتی حلقوں میں، انگریزی بلاشبہ ابلاغ کا ایک سہل ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ مختلف خطوں کے لوگوں کو ایک مشترک سطح پر گفتگو کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم انہی ماحولوں میں ایسے قائدین، اہلکار اور معزز شخصیات بھی نظر آتی ہیں جو انگریزی پر مکمل عبور کے باوجود اپنی قومی زبان میں اظہار کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ یہ کام بلا جھجھک، بلا تردد اور پورے وقار کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کا اعتماد اپنی تہذیبی وراثت سے گہرے احترام کا مظہر ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہماری صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اردو آسانی سے سمجھی اور روانی سے بولی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود ہم میں سے بہت سے لوگ فصاحتِ خیال کے بجائے فصاحتِ انگریزی پر فخر کرتے ہیں۔ برتری کا ایک عجیب معیار قائم ہو چکا ہے، جس میں انگریزی بولنا ذہانت اور سماجی رتبے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ اردو بولنا بعض اوقات کمی یا کم تری کا نشان گردانا جاتا ہے۔ محفلوں میں، دفاتر میں اور بالخصوص اشرافیہ کے حلقوں میں یہ منظر عام ہے کہ وہ لوگ بھی جو فطری طور پر اردو میں سوچتے ہیں، محض ممتاز دکھائی دینے کے لیے دانستہ انگریزی کا سہارا لیتے ہیں۔ اس رویّے نے ایک بے ڈھنگی آمیزش کو جنم دیا ہے جسے عرفِ عام میں ’’ گلابی اردو‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں بلا ضرورت انگریزی الفاظ یوں چھڑکے جاتے ہیں گویا سادہ اردو باوقار اظہار کے لیے ناکافی ہو۔
اپنے صحافتی سفر کے دوران مجھے ایسے اساتذہ اور سینئر ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جنہوں نے میری زبان کو نکھارا اور اظہار کو سنوارا۔ ان کی رہنمائی ایک قیمتی متاع بن گئی جو آج بھی ہر جملے میں میرے ساتھ رہتی ہے۔ مجھے اپنے چیف ایڈیٹر جناب مجیب الرحمٰن شامی کا ایک ابتدائی سبق آج بھی یاد ہے۔ ایک بار انہوں نے میری تحریر دیکھی جس میں میں نے’’ مذبحہ خانہ‘‘ لکھا تھا۔ غور سے دیکھنے کے بعد کہنے لگے: ’’ آپ نے ’’ خانہ‘‘ بلا ضرورت بڑھا دیا ہے، لفظ اس کے بغیر بھی مکمل ہے‘‘۔ یہ ایک معمولی سی تصحیح تھی، مگر اس کا اثر دیرپا ثابت ہوا۔ اس نے مجھے سکھایا کہ زبان میں درستی کثرت سے نہیں بلکہ وضاحت سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ لمحہ آج بھی میرے حافظے میں نقش ہے۔
ایک اور موقع پر مجھے محترم استاد عرفان صدیقی سے ایک نہایت لطیف مگر گہرا سبق ملا۔ ایک تقریب میں کسی نے اردو گفتگو کے دوران ’’ باڈی لینگویج‘‘ کی ترکیب استعمال کی۔ عرفان صدیقی مسکرائے اور فرمایا کہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب اردو میں پورا پورا مفہوم ادا کرنے والے الفاظ موجود ہوں تو ہم انگریزی اصطلاحات کیوں شامل کرتے ہیں۔ وہاں موجود ایک صحافی نے پوچھا کہ اس کے لیے اردو متبادل کیا ہو سکتا ہے۔ اپنے مخصوص وقار کے ساتھ انہوں نے جواب دیا: ’’آپ ’ بدن بولی‘ کہہ سکتے ہیں‘‘۔ اس دن کے بعد میں نے جہاں ضرورت پڑی ’’ بدن بولی‘‘ ہی استعمال کی، اور یوں محسوس ہوا جیسے میں زبان کے ایک بھولے بسرے حصے سے دوبارہ جڑ گیا ہوں۔
میرے صحافتی سفر میں اور بھی کئی نام ہیں، قدرت اللہ چودھری، عبداللہ طارق سہیل، اطہر مسعود، توصیف احمد خان، طاہر مجید، نوید چودھری، عمران میر، نعیم اقبال، چودھری خادم حسین، ایثار رانا، نعیم مصطفیٰ، نجم ولی خان، زاہد رفیق، اختر حیات، علامہ سعید اظہر اور کئی دیگر، جن کی رفاقت نے میری اردو کو مالا مال کیا۔ انہوں نے میرے محاورے درست کیے، استعمال کو سنوارا اور زبان سے میرا رشتہ مضبوط کیا۔ دس برسوں میں، میں نے ان سے صرف الفاظ نہیں سیکھے بلکہ رویّے بھی سیکھے۔ صرف قواعد نہیں بلکہ اردو کی نزاکت اور گہرائی کے لیے احترام بھی حاصل کیا۔
آج مگر سیکھنے سکھانے کی وہ روایت بتدریج ماند پڑتی جا رہی ہے۔ نئے آنے والوں کی صبر اور محبت سے تربیت کرنے والے سینئر لکھاری اور صحافی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ نئی نسل، اسکرینوں، چھوٹا راستہ ( شارٹ کٹس) اور عالمگیری میڈیا کے اثرات سے لیس، اردو میں سوچتے ہوئے بھی انگریزی اظہار پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ غیر ملکی الفاظ کی یلغار ہماری زبان کی اصل صورت کو آہستہ آہستہ دھندلا رہی ہے۔ یہ زوال لطیف ہے مگر حقیقی ہے، اور اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو بعید نہیں کہ ہماری لسانی شناخت کا جوہر ہی بدل جائے۔
تاہم ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ زبانیں جبر سے نہیں بلکہ محبت، استعمال اور شعوری تحفظ سے زندہ رہتی ہیں۔ اردو میں ایسی خوب صورتی، آہنگ اور قوتِ اظہار موجود ہے جسے کسی بیرونی آرائش کی ضرورت نہیں۔ یہ صدیوں کی شاعری، علم اور تہذیبی لطافت کی امین ہے۔ یہ ہماری اجتماعی یادداشت کو جوڑنے والی کڑی ہے۔ مگر اس کی اصل روح کے ساتھ بقا کے لیے ہمیں محتاط اظہار کی عادت، بڑوں سے سیکھنے کا ذوق اور غیر ضروری لسانی یلغار کے مقابلے کی ہمت کو زندہ کرنا ہوگا۔
اردو بولتے ہوئے ہمیں کسی عذر کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں اسے اسی اعتماد کے ساتھ بہنے دینا چاہیے جس اعتماد سے دوسری قومیں اپنی زبانیں بولتی ہیں۔ دنیا ان ہی کو عزت دیتی ہے جو خود اپنی عزت کرتے ہیں۔ جب ہم اردو کو وقار کے ساتھ اٹھاتے ہیں تو یہ ہماری قامت گھٹاتی نہیں بلکہ بڑھاتی ہے۔ یاد رکھیے، زبانیں محض ابلاغ کے اوزار نہیں ہوتیں، وہ شناخت کے برتن ہوتی ہیں۔ اگر ہم اردو کو کمزور ہونے دیں گے تو اپنے وجود کا ایک حصہ کمزور کر بیٹھیں گے۔
یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے کہ ہم اس زبان کی پرورش کریں جس نے ہمیں پہچان دی۔ آئیے اسے فخر سے بولیں، احتیاط سے لکھیں اور مستعار اظہار کے سائے تلے دبنے سے بچائیں۔ تحفظ چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے شروع ہوتا ہے، جہاں اردو کا حق ہے وہاں اردو کا انتخاب، اس کی صحت کی نگہداشت اور ہر لفظ میں پنہاں وراثت کی قدر۔ اپنی زبان کی حفاظت دراصل کسی متروک شے کی حفاظت نہیں، بلکہ ایک زندہ روح کا تحفظ ہے جو ہماری قومی روح کو تشکیل دیتی ہے۔





