ColumnImtiaz Aasi

آخر عدلیہ جیت گئی

آخر عدلیہ جیت گئی
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے آئین اور قانون کے منافی جو بھی اقدام کیا گیا وہ دیرپا نہیں ہوا بلکہ اسے واپس لینا پڑا۔ قارئین کو یاد ہوگا گزشتہ ماہ پنجاب حکومت نے قبضہ مافیا سے لوگوں کی جائیدادیں و گزار کرنے کے لئے ایک انتظامی کمیٹی قائم کی جس کے ذریعے قبضہ مافیا سے لوگوں کی اراضی واگزار کرانے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں بہت سے لوگوں کو قبضہ مافیا سے ان کی جائیدادیں واپس کرائیں گئیں۔ اگرچہ کسی مظلوم کو اس کا حق دلانا احسن اقدام ہے جس نہ صرف متاثرہ فریق خوش ہوتا ہے بلکہ یہ اقدام حق تعالیٰ کی خوشنودی کا بھی باعث ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز عوام کے مسائل حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں ان کی شبانہ روز کاوشوں سے صوبے کے عوام کے بہت سے مسائل بہت کم وقت میں حل ہو رہے ہیں۔ اس ناچیز نے عدلیہ کے متوازی اس نظام کے خلاف اپنے کالم لکھا تھا اگر آئینی مقدمات کی سماعت کے لئے سپریم کورٹ کی سطح پر ایک علیحدہ عدالت قائم کی جا سکتی ہے تو کیا قبضہ مافیا سے عوام کی جائیدادیں واگزار کرانے کے لئے سول جج مقرر نہیں کئے جا سکتے ہیں؟ پنجاب حکومت کے اس اقدام کے خلاف نہ صرف وکلاء برادری سراپا احتجاج بنی ہوئی تھی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اس متوازی نظام کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا تھا جس کے بعد انتظامی کمیٹی کے ذریعے قبضہ مافیا سے لوگوں کی اراضی وا گزار کرانے کا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ ایک اردو معاصر میں شائع ہونے والی خبر نے اس کالم نگار کی اس تجویز کی تصدیق کردی پنجاب حکومت نے قبضہ مافیا سے لوگوں کی جائیدادیں وا گزار کرانے کی ذمہ داری عدلیہ کو واپس کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس مقصد کے لئے پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے ذمہ یہ کام لگایا گیا ہے جس میں انتظامی کمیٹی کو دی جانے والی درخواستیں سول ججوں کے پاس جائیں گی جن پر وہی فیصلہ کریں گے۔ پنجاب حکومت پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ایک ترمیم یہ بھی لا رہی ہے جس میں سابق سیشن ججوں کی بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن جج ٹریبونل کے سربراہ ہوں گے جن کے فیصلوں کے خلاف متاثرہ فریق ہائی کورٹ میں اپیل کر سکے گا۔ دیکھا جائے تو عہد حاضر میں لوگوں کی جائیدادوں پر قبضوں کا رواج کچھ زیادہ فروغ پا گیا ہے اراضی کو واگزار کرانے کے لئے فریقین کو برسوں عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے تھے ۔ اگرچہ خبر میں عدلیہ کو جائیدادوں کو وا گزار کرانے کی ذمہ داری کی واپسی کے بعد سول ججوں کے لئے فیصلہ کرنے کی کوئی مدت کا ذکر نہیں ہے لیکن جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں اس مقصد کے لئے کمیٹی کام کر رہی ہے جس میں اس ضمن میں تمام امور کا احاطہ یقینی طور پر کیا جائے گا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں پنجاب حکومت کو ان نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہیے جنہوں نے آبی گزرگاہوں پر ہائوسنگ سوسائیٹیز قائم کر رکھی ہیں۔ گو ہائوسنگ سوسائیٹیوں کا بزنس بہت نفع بخش ہے تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں لوگ سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر ہائوسنگ سوسائٹیز بنا لیں۔ جہاں تک قبضہ مافیا سے عوام کی جائیدادیں واگزار کرنے کی بات ہے ہم ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں قائم کمیٹی سے درخواست کریں گے وہ سول ججوں کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ مقررہ مدت کے اندر بہرصورت درخواستوں کے فیصلے کرنے کو یقینی بنائیں گے ورنہ پہلے کی طرح مقدمات کی سماعت رہی تو فیصلہ کرنے میں کئی برس درکار ہوں گے۔ ہماری پنجاب حکومت سے درخواست ہے قبضہ مافیا سے لوگوں کی جائیدادیں واپس کرانے کے لئے علیحدہ سول ججوں کا تقرر کیا جائے جنہیں صرف انہی مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہو۔ اس مقصد کے لئے علیحدہ سول جج مقرر کر دیئے گے تو قبضہ مافیا سے عوام کی جائیدادیں واگزار کرانے کے فیصلے سالوں کی بجائے دنوں میں ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے وکلا برادری نے ہر غیر آئینی اقدام کے خلاف جدوجہد میں ہر اول دستے کا کام کیا مگر آئین میں ترامیم کے خلاف وکلا برادری منقسم رہی۔ اگر وکلا برادری آئینی ترامیم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی سول سوسائٹی کے لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہو سکتے تھے جس کے بعد حکومت کے لئے آئینی ترامیم مشکل ہو جاتیں۔ بدقسمتی سے وکلا برادری کے ہمددردیاں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونے کی بنا آئینی ترامیم کے خلاف کوئی ٹھوس جدوجہد نہ ہو سکی جس کے نتیجہ میں حکومت نے بڑی آسانی سے آئین میں ترامیم کر لیں۔ دراصل انسان عہدوں اور منصب کی ہوس میں کچھ بھی کر گزرتا ہے چنانچہ یہی بات وکلا برادری پر بھی صادق آتی ہے جنہوں نے وزارت قانون میں عہدے اور بار کونسلوں کو فنڈز کی فروانی کے آگے سر تسلیم خم کر لیا جس کے نتیجہ میں حکومت کو آئینی ترامیم کے حصول میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ درحقیقت وکلا برادری نے ہر دور میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے تعجب ہے موجودہ دور میں وکلا برادری نے آئینی ترامیم کے خلاف وہ رول ادا نہیں کیا جس کی عوام نے توقع رکھی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ججوں کے تبادلوں کی خبر سننے میں نہیں آئی نہ ہی کسی ہائی کورٹ سے کسی جج کو کسی دوسرے صوبے کی ہائی کورٹ میں چیف جسٹس مقرر کرنے کی روایت سامنے آئی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے دور میں آئین و قانون کے ساتھ جو کھلواڑ کھیلا گیا ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک عدلیہ تھی جس سے عوام کو ریلیف کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں اگر عدلیہ کو بے اختیار کر دیا جائے تو عوام حصول انصاف کے لئے کس کے پاس جائیں گے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہمیں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ جانے کا اتفاق ہوا تو جسٹس ملک اختر حسن صاحب نے کہا ہمیں پرواز کرنے کو کہا گیا ہے، مگر پر کاٹ دیئے گئے ہیں، لیکن موجود دور میں بات پر کاٹنے سے بہت دور نکل گئی ہے۔

جواب دیں

Back to top button