Column

طلبہ کی ذہنی صحت کا بوجھ اٹھاتی درسگاہیں: اصل مجرم کون؟

نہال ممتاز:
کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ اس کے طلبہ ہوتے ہیں، اور خاص طور پر نجی یونیورسٹیاں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتی ہیں کہ ان کی ساکھ، مستقبل اور وجود براہِ راست انہی طلبہ کی کامیابی، حفاظت اور فلاح سے جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ادارے اپنے کیمپس، اساتذہ، لیبارٹریز، سیکیورٹی، صفائی اور تعلیمی نظم و ضبط پر بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ڈگریاں بانٹنا نہیں بلکہ ایسے افراد تیار کرنا ہوتا ہے جو عملی زندگی میں بااعتماد، ذمہ دار اور کامیاب ہوں۔ مگر بدقسمتی سے، جب کسی سانحے کا سامنا ہوتا ہے تو انہی اداروں کی نیت، محنت اور کوششیں پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں اور سارا بوجھ ایک ہی فریق پر ڈال دیا جاتا ہے۔
طلبہ کی تعلیمی ادارے کے اندر خودکشیوں کےحالیہ افسوس ناک واقعات کے بعد بھی یہی کچھ دیکھنے میں آیا، جہاں یونیورسٹی انتظامیہ یا ان کے اصولوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تہہ دار ہے۔ یونیورسٹی کے سخت قوانین کو ذہنی دباؤ کی جڑ قرار دیا گیا، حالانکہ یہ اصول کسی طالب علم کو اذیت دینے کے لیے نہیں بلکہ اسے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ حاضری، امتحانات، ڈسپلن اور گریڈنگ جیسے ضابطے ایک منظم تعلیمی نظام کا حصہ ہوتے ہیں، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں پیشہ ورانہ غفلت مستقبل میں انسانی جانوں تک کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
اسی طرح فیسوں پر اٹھنے والا شور بھی آدھا سچ ہے۔ مہنگی فیسوں کے پیچھے مہنگا انفراسٹرکچر، جدید سہولیات، تجربہ کار اساتذہ، سیکیورٹی انتظامات اور ایک ایسا ماحول ہوتا ہے جو طالب علم کو تعلیمی یکسوئی فراہم کرے۔ یہ سب اخراجات یونیورسٹی اپنی آسائش کے لیے نہیں بلکہ طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے برداشت کرتی ہے، تاکہ وہ یہاں سے نکل کر باعزت روزگار اور بہتر زندگی کی طرف بڑھ سکیں۔
اصل مسئلہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں ہم اجتماعی طور پر بچوں کے کندھوں پر نمبروں اور گریڈز کا بوجھ لاد دیتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ ہر بچہ ایک جیسی ذہنی صلاحیت، رفتار اور برداشت نہیں رکھتا۔ فیل ہونے کا خوف، والدین کی توقعات، سماجی دباؤ اور “ناکامی” کا داغ وہ ذہنی بوجھ ہے جو آہستہ آہستہ نوجوان ذہن کو توڑ دیتا ہے۔ یہ دباؤ کسی یونیورسٹی کے نصاب میں شامل نہیں ہوتا، یہ معاشرتی رویوں سے پیدا ہوتا ہے۔
اسی دباؤ میں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ عمر خود ایک حساس اور ناپختہ مرحلہ ہوتی ہے۔ اس عمر میں قدرتی طور پر ہارمونز میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، جذبات تیز ہوتے ہیں، محبت، وابستگیاں اور دل ٹوٹنے جیسے تجربات شدت سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ذہنی بلوغت ابھی مکمل نہیں ہوتی، اس لیے فیصلے جذبات کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں۔ اس پر مستزاد غیر معیاری خوراک، فاسٹ فوڈ، انرجی ڈرنکس، نیند کی کمی اور بے ترتیب طرزِ زندگی ہارمونل توازن کو مزید بگاڑ دیتی ہے، جس سے اسٹریس ہارمونز بڑھ جاتے ہیں اور برداشت کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ایک معمولی مسئلہ بھی ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگتا ہے۔
اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر وہ طلبہ ہوتے ہیں جو چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ اچانک بدلتا ہوا لائف اسٹائل، ہاسٹل کی زندگی، آزادی، بڑے شہر کی رفتار اور مقابلے کا ماحول—یہ سب مل کر ایک ایسا ذہنی جھٹکا دیتے ہیں جس کے لیے اکثر نوجوان تیار نہیں ہوتے۔
اسی ذہنی کمزوری میں کچھ طلبہ دباؤ سے نکلنے کے لیے غلط راستوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ وقتی سکون یا ذہنی فرار کے لیے نشہ آور اشیاء یا بعض ادویات کا استعمال ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ یہ چیزیں مسئلہ حل نہیں کرتیں بلکہ جذباتی توازن اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں، اور انسان خود پر کنٹرول کھو بیٹھتا ہے۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یونیورسٹی کا کردار سہولت فراہم کرنا، رہنمائی دینا اور ایک سازگار تعلیمی ماحول مہیا کرنا ہے۔ وہ ہر طالب علم کی ذاتی زندگی، گھریلو مسائل، جذباتی وابستگیوں، خوراک، نیند یا اندرونی ذہنی جنگ کی مکمل نگرانی نہیں کر سکتی۔ یہ ذمہ داری خاندان، دوستوں اور معاشرے پر بھی اتنی ہی عائد ہوتی ہے کہ بروقت علامات پہچانی جائیں اور مدد کا راستہ کھولا جائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے سانحات کے بعد تعلیمی ادارے خود بھی صدمے اور بے بسی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ انتظامی اقدامات، آگاہی اور سہولیات کے ذریعے اپنی حد تک کوشش کرتے ہیں، مگر کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن پر کسی ادارے کا اختیار نہیں ہوتا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یونیورسٹی نے کیا نہیں کیا، اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنے بچوں کو دباؤ، ناکامی اور زندگی کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے کتنا مضبوط بنا رہے ہیں۔ جب تک ہم کامیابی کو صرف نمبروں اور ڈگریوں میں تولتے رہیں گے، تب تک ایسے سانحات ہمیں جھنجھوڑتے رہیں گے۔ یونیورسٹیاں دشمن نہیں، وہ ایک بڑے سماجی نظام کا حصہ ہیں—اور اس نظام کی اصلاح ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button