خودکشی آزمائش سے فرار

خودکشی آزمائش سے فرار
تحریر : عمران الحق
اسلام انسان کو عزت، وقار اور مقصد حیات عطا کرنے والا دین ہے۔ اس دین میں انسانی جان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، اسی لیے اسلام نے ہر اس عمل کو سختی سے منع کیا ہے جو جان کے ضیاع کا سبب بنے۔ خودکشی انہی ممنوع اعمال میں سے ایک ہے، جسے قرآن و سنت میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ انسان اس جان کا مالک نہیں بلکہ محافظ ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھائو سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے‘‘ ( النسائ: 29)۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ خودکشی دراصل اللہ کی عطا کردہ زندگی کی ناقدری اور اس کی رحمت سے ناامیدی کا اظہار ہے۔ خودکشی کے حرام ہونے کا ایک بڑا سبب مایوسی ہے، جبکہ اسلام میں مایوسی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
قرآن کہتا ہے: ’’ کہہ دو اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ بخش دے گا، بے شک وہ بخشنے والا رحم والا ہے‘‘ ( الزمر: 53)۔
اسلام انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ مشکلات وقتی ہوتی ہیں، مگر اللہ کی مدد ہمیشہ قریب ہوتی ہے۔ خودکشی اس امید کے دروازے کو خود بند کر دینے کے مترادف ہے۔
سنتِ نبویؐ میں بھی خودکشی کی سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ ۔ یہ سختی دراصل انسان کو ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کی حفاظت کے لیے ہے، تاکہ وہ وقتی جذبات میں آ کر ناقابلِ تلافی فیصلہ نہ کرے۔ ایک اور اہم عامل یہ ہے کہ خودکشی صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کا سانحہ بن جاتی ہے۔ اسلام اجتماعی نظام اور خاندانی رشتوں کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ ایک انسان کا خود کو ختم کر لینا کئی زندگیاں اندر سے توڑ دیتا ہے، اس لیے اسلام ایسے عمل کو حرام قرار دیتا ہے جو معاشرتی بگاڑ کا باعث بنے۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ انسان صبر کرے، دعا کرے، مدد طلب کرے اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔ خودکشی مسئلے کا حل نہیں بلکہ آزمائش سے فرار ہے، جبکہ اسلام انسان کو آزمائش میں ثابت قدم رہنے اور امید کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔





